مجھے کیوں نکالا: مسٹر چپس

Spread the love

زمانہ طالبعلمی کی بات ہے ۔ میں چھٹی یا ساتویں جماعت میں تھی ۔ہمارے ساتھ ایک عیسائی لڑکی بھی پڑھتی تھی ۔دینیات کے پیریڈ میں اس بے چاری لڑکی کی حالت زار قابل دید ہوتی تھی ہمارے دینیات کے نصاب میں قرآن مجید کی کچھ صورتیں شامل تھیں جنھیں عربی میں زبانی یاد کرنے کے ساتھ ساتھ ان کا ترجمہ اور تشریح بھی یاد کرنی ہوتی تھی ۔روزانہ اس لڑکی کو جماعت میں کھڑا کر دیا جاتا اور سبق یاد نہ کرنے پر بے عزت بھی کیا جاتا ۔چونکہ پورے سکول میں وہ واحد عیسائی لڑکی تھی اس لئے نہ تو اس کے لئے کسی متبادل مضمون کا اور نہ ہی ٹیچر کا بندوبست کیا جا سکتا تھا (بقول ہیڈ مسٹریس صاحبہ کے ) ۔

میں اس وقت بھی یہی سوچتی تھی کہ یہ کتنا بڑا ظلم ہے کہ ایک عیسائی بچی کو اس کے مزہب کے خلاف کچھ بھی سیکھنے اور یاد کرنے پر اور امتحان دینے پر مجبور کیا جائے ۔

میں اپنے آپ کو اس کی جگہ رکھ کر سوچتی کہ اگر مجھے بائبل پڑھنے پر مجبور کیا جائے تو میری کیا حالت ہو گی ۔
یہی حال اردو اور انگریزی کے مضامین کا تھا ۔اردو اور انگریزی کے مضامین کے نصاب میں مسلمانوں کی تاریخ سے واقعات اور قرآن مجید کے قصص شامل ہوتے تھے ۔

تمام نصاب مکمل طور پر صرف اور صرف مسلمانوں کو زہن میں رکھ کر مرتب کیا جاتا تھا ۔

آہستہ آہستہ دینیات کی جگہ غیر مسلم طلباء کو کوئ اور اختیاری مضمون پڑھنے کا چوائس دے دیا گیا ۔

لیکن لازمی مضامین اردو اور انگریزی جو کہ خالصتن زبان اور ادب سے متعلق تھے ،ان میں بھی مزہبی مواد موجود رہا

وقت گزرنے کے ساتھ بجائے اس سقم کو محسوس کرکے دور کیا جاتا ،مزہبی انتہا پسندوں کی جانب سے انگریزی کے نصاب میں شامل ایک خالصتن سیکولر انگریزی ادب کا ناول زیر عتاب آگیا ۔

سمجھ نہ آنے والی بات یہ ہے کہ کیا مسٹر چپس کوئی عیسائی مزہب کا ہیرو ہے ،جس کی جگہ مسلم ہیرو کو ملنی چاہئے۔

جس رواداری اور مزہبی اقلیتوں کے جذبات کا تحفظ فراہم کرنے پر اسلام زور دیتا ہے کوئی اور مزہب نہیں دیتا ۔

لیکن ہم نے اپنے ہر قول و فعل سے یہ ثابت کرنا ہے کہ ہمارا اسلام کی تعلیمات سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ۔

انگریزی اور اردو کے مضامین میں خالصتن ادبی مواد ہونا چاہئے ،تاکہ لازمی مضامین کی حیثیت سے تما مزہبی اقلیتں پڑھ سکیں ۔ بالفرض اگر مسٹر چپس سے کوئی اختلاف ہے تو اس کی جگہ کوئی اور انگریزی ادب کا ناول شامل کر لیا جائے ،لیکن اسے دینیات کا مضمون تو نہ بنایا جائے جسے ہماری مزہبی اقلیتیں نہ پڑھ سکیں ۔

ہماری حکومتوں کا اسطرح مزہبی جنونی اقلیت کے آگے جھکنا اور ملک کی میانہ رو اکثریت اور اسلام کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی انتہائی قابل افسوس ہے ۔

حالانکہ ہمارے ملک میں کبھی بھی کوئی حکومت مزہبی جنونیوں کے ووٹوں سے بر سر اقتدار نہیں آئی ،لیکن حکومت میں آنے کے بعد کیوں ان کے آگے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جاتی ہیں ،یہ ناقابل فہم ہے ،خدا را کچھ تو سوچیں………..

Please follow and like us:

Leave a Reply