اسلام آباد کا ایٹمی پروگرام دہشتگردوں کے ہاتھ لگ سکتا ہے ،امریکی وزیر خارجہ کی ہرزہ سرائی

Spread the love

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے خدشہ ظاہر

کیا ہے پاکستان کا ایٹمی پروگرام دہشت گردوں کے ہاتھ لگ سکتا ہے انہوں نے

یہ بیان ویڈیو لنک کے ذریعے واشنگٹن کے ایک ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے

ہوئے دیا۔ وہ امریکی وزارت خارجہ کی ایک کانفرنس کا افتتاح کرنے کیلئے

کینساس کی ریاست میں موجود تھے جس کا موضوع تھا “عالمی تجارت کو فروغ

دینے کا راستہ”مسٹر پومپیو نے بتایا کہ امریکہ کو جوپانچ بڑے سیکیورٹی

مسائل درپیش ہیں ان میں پاکستان کے جوہری پروگرام کا ممکنہ غلط استعمال بھی

شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے

بارے میں جتنا سخت موقف ٹرمپ انتظامیہ نے اختیار کیا ہے وہ اس سے پہلے

کسی اور حکومت نے نہیں کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کے لئے دہشت گردی ایک

انتہائی سنجیدہ مسئلہ ہے کیونکہ اس لڑائی میں ان کے متعدد ذاتی دوست کھو گئے

ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ نے بتایا کہ ہم نے نائن الیون کے سانحے سے بہت سبق

سیکھا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہم دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خاتمے کے لئے

پاکستان پر زیادہ دبائو ڈالتے رہے ہیں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے

بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا یہ کشیدگی ان دہشت

گردوں کی وجہ سے شروع ہوئی ہے جن کا مرکز پاکستان میں ہے۔ انہوں نے

پاکستان پر زور دیا کہ وہ دہشت گرددوں کے خلاف اپنے اقدامات میں اضافہ کرے

اور یہ خیال رکھے کہ انہیں اپنے علاقے میں محفوظ پناہ گاہیں قائم کرنے کا موقع

نہ ملے۔امریکی وزیر خارجہ نے طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کے حوالے سے

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے بتایا کہ وہ اس وقت حتمی طور پر یہ نہیں کہہ

سکتے کہ طالبان القاعدہ کے ساتھ اپنے تعلقات ختم کر لیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ

امریکہ افغانستان میں سیاسی اتفاق رائے قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور

انہیں یقین ہے کہ اس مسئلے کا حتمی حل تلاش کر لیا جائے گا۔ایک سوال کے

جواب میں مسٹر پومپیو نے بتایا کہ امریکی مندوب زلمے خلیل زاد قطرہ میں

طالبان نمائندوں کے ساتھ تقریبا ایک ہفتے کے مذاکرات کے بعد واپس چلے گئے

ہیں جنہوں نے بتایا ہے کہ مسئلے کے حل کے لئے خاصی پیش رفت ہوئی ہے۔

اب اگلے مرحلے پر ہم چاہتے ہیں کہ افغان حکومت طالبان سے بات چیت کرے۔

انہوں نے واضح کیا کہ صدر ٹرمپ افغانستان کی طویل خنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں

اور اس مسئلے کا ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جس سے

امریکہ کے خلاف دہشت گردی کا خدشہ باقی نہ رہے۔



Leave a Reply