غنودگی، (افسانہ)

Spread the love

انتون پاؤلاو چ چیخوف (انگریزی : Anton Pavlovich Chekhov ) (پیدائش: 17 جنوری 1860ء۔ انتقال:2 جولائی 1904ء) روس کا افسانہ نویس اور ڈراما نگار۔ 1884ء میں انیس برس کی عمر میں چیخوف کے قلمی نام سے مختصر افسانے لکھنے شروع کیے۔ پہلے مجموعے کی کامیابی کے باعث ڈاکٹری ترک کرکے افسانے اور ڈرامے لکھنے شروع کیے۔ سائنسی تربیت نے روسی ادب کو بہت فائدہ پہنچایا اور حقیقت نگاری کا ایک نیا اسلوب روسی ادب کو ملا۔ شروع ہی سے اس کا ذہنی رجحان روسی زندگی کے روزمرہ کے معاملات کی طرف تھا۔ انسانی فطرت کی منفی صفات سفلہ پن، کمینہ پن اورایسی ہی چھوٹی چھوٹی باتوں پر اس نے شدید طنز کیا۔ اس کی تحریروں میں تاجر پیشہ، طلبہ، پادری، اساتذہ، حجام، مجسٹریٹ، اعصابی مریض، پاگل، اعلیٰ افسر، سرکاری افسر، غرض سب طبقوں کی تنگ نظری اور سادہ لوحی یوں ریکارڈ ہو گئی ہے کہ جیسے کیمرے نے زندگی کی تصویر کھینچ لی ہو۔ چیخوف کو جدید افسانہ نگاری کا امام سمجھا جاتا ہے۔ بعض نقادوں کے نزدیک وہ دنیا کا سب سے بڑا افسانہ نگار ہے ۔ذیل میں چیخوف کا ایک افسانہ پیش کیا جا رہا ہے جو ہمارے موجودہ حالات کی بھرپور عکاسی کر رہا ہے

غنودگی۔

تحریر: چیخوف

ترجمہ: عقیلہ منصور جدون

مشہور روسی ادیب چیخوف کو پڑھ رہی تھی، جب اس کہانی کے انجام پر پہنچی تو دم بخود رہ گئی۔ مجھے ہمیشہ یہ احساس رہا کہ تب کا روسی معاشرہ ہمارے آج کے معاشرے کے کتنا قریب تھا۔
اسلام آباد میں ایک جج کے گھر پر ایک ملازمہ بچی پر تشدد اور پھر لاہور میں ملازمہ بچی کا قتل۔
کہانی پڑھنے کے بعد یہ تجزیہ ضرور کریں کہ ان ٹریجیڈیز کا ذمہ دار کون ہے۔

رات۔ وارکا، چھوٹی سی ۱۳ سالہ نرس، ایک جھولا جھلا رہی ہے جس میں بچہ لیٹا ہوا ہے، وہ زیر لب لوری گنگنا رہی ہے۔

چھوٹا سا سبز رنگ کا لیمپ مقدس شبیہ کے سامنے جل رہا ہے۔ کمرے کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک رسی بندھی ہے، جس پر بچے کے کپڑے اور ایک بڑا پاجامہ لٹک رہا ہے۔ لیمپ سے چھت پر ایک بڑا سبز دھبہ بن رہا ہے۔ بجے کے کپڑوں اور پاجامہ سے چولھے، جھولے اور وارکا پر سایہ پڑ رہا ہے۔ جب لیمپ ٹمٹماتا ہے، تو سبز دھبے اور سائے میں جان پڑ جاتی ہے، اور اسی طرح ہلنے لگتے ہیں جس طرح تیز ہوا سے ہلتے ہیں۔ فضا بوجھل ہے۔ گوبھی کے سوپ اور جوتوں کی دکان والی بو پھیلی ہوئی ہے۔
بچہ رو رہا ہے۔ کافی دیر سے رونے کی وجہ سے اس کا آواز رندھی ہوئی ہے، لیکن اس کے باوجود وہ چیخے جا رہا ہے۔جبکہ وارکا پر غنودگی چھائی ہے۔ اس کی آنکھوں کے پپوٹے آپس میں چپکے ہوے ہیں۔ اسکا سر جھکا ہوا ہے، گردن دکھ رہی ہے۔ اسے ایسا محسوس ہو تا ہے جیسے اسکا چہرہ خشک اور اکڑا ہوا ہے اسکا سر ایک پن کے سر جتنا چھوٹا ہو گیا ہے

وارکا لوری کے بول بڑبڑاتی ہے

جھینگا چولھے میں چرچرکر رہا ہے۔ ساتھ والے کمرے کے دروازے سے مالک اور اسکے شاگرد آفانسےکے خراٹوں کی آوازیں آرہی ہیں۔

جھولا چرچرا رہا ہے۔ یہ سب اور وارکا کا بڑبڑانا مل کر رات کی وہ موسیقی ترتیب دے رہے ہیں جو بستر میں دراز شخص کے لئے سننا پر لطف ہوتا ہے۔ لیکن یہ سب وارکا کے لیے باعث کوفت ہے، کیونکہ اس سے اسے نیند آ رہی ہے، جبکہ اسے ہرگز سونا نہیں، اگر خدانخواستہ وارکا سو گئی تو اس کا مالک اور مالکن اسے ماریں گے

لیمپ ٹمٹماتا ہے۔ سبز دھبہ اور سائے پھر ہلنے لگتے ہیں، جس کا اثر وارکا کی ٹھہری ہوئی ادھ کھلی آنکھوں پر پڑتا ہے۔ غنودگی میں اس کا دماغ دھندلے عکس بناتا ہے

وہ دیکھتی ہے کہ آسمان پر گہرے بادل ایک دوسرے کا پیچھا کر رہے ہیں اور کسی بچے کی طرح چیخ چلا رہے ہیں۔ تب ہی آندھی چلنے لگتی ہے۔ بادل غائب ہو جاتے ہیں۔ وارکا کو ایک وسیع شاہراہ دکھائی دیتی ہے جو کیچڑ سے بھری بھری ہوئی ہے۔ شاہراہ پر ویگنوں کی قطاریں لگی ہیں، جبکہ لوگ اپنی پیٹھوں پر تھیلے لٹکائے اپنے آپ کو گویا گھسیٹ رہے ہیں۔ سائے تیزی سے آگے پیچھے ہو رہے ہیں۔ شاہراہ کے دونوں اطراف اسے دھند میں سے جنگل دکھائی دیتے ہیں۔
یک دم لوگ اپنے تھیلوں سمیت اور ان کے سائے زمین پر کیچڑ میں گر پڑ تھے ہیں

’’یہ کیوں ہوا‘‘

وارکا نے پوچھا، یہ کیا ہوا؟۔

’’سونے کے لیے —سونے کے لیے‘‘ وہ اسے جواب دیتے ہیں۔ اور وہ خوب گہری نیند سو جاتے ہیں۔ جبکہ کوےاور نیل کنٹھ ٹیلی گراف کی تاروں پر بیٹھے، بچے کی طرح چلاتے ہیں اور انہیں جگانے کی کوشش کرتے ہیں

وارکا پھر لوری کے بول بڑبڑاتی ہے

اب وہ اپنے آپ کو ایک تاریک متعفن جھونپڑی میں پاتی ہے۔ اس کا پیارا باپ ییفین سٹیپانوف فرش پر دائیں بائیں تڑپ رہا ہے۔ وہ اسے دیکھ نہیں سکتی، بلکہ درد سے کراہتے ہوئے فرش پر لوٹتے ہوے سن رہی ہے۔ ”میرا پیٹ پھٹا جا رہا ہے “ درد اتنا شدید ہے کہ وہ یہ لفظ بھی مشکل ہی سے ادا کر پا رہا۔ بمشکل سانس کھینچ رہا ہے۔ زور سے دانت پیسنے کے باعث ڈھول پر دھیمے سے مارنے کی طرح آوازیں نکال رہا ہے۔ ڈم———- ڈم ———ڈم

اسکی ماں پلیگیا مالک کے گھر یہ بتانے گئی ہوئی ہے کہ ییفین مر رہا ہے۔ اسے گئے کافی وقت گزر چکا ہے۔ اب تک اسے آ جانا چاہیے۔ وارکا چولھے کے پاس لیٹی جاگ رہی ہے اور باپ کے منہ سے نکلنے والی آوازیں سن رہی ہے۔ تب اسے جھونپڑی کے قریب کسی گاڑی کے رکنے کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ یہ قصبے کا نوجوان ڈاکٹر ہے، جسے بڑی حویلی والوں نے بھیجا ہے۔ ڈاکٹر جھونپڑی میں داخل ہوا تو تاریکی کے باعث کچھ دیکھ نہیں پا رہا مگر کھانسنے اور دروازے کے کھڑکنے کی آواز بخوبی سن رہا ہے اسی دوران اس سنے کہا

’کوئی چراغ روشن کرو‘‘

جواب میں ییفین کی وہی ڈیم ۔ ڈم جیسی آواز سنائی دیتی ہے۔ پلیگیا دوڑتی ہوئی چولھے کے پاس جاتی ہے۔ ٹوٹے ہوئے برتنوں میں ماچس کا پیکٹ ڈھونڈنے ہے۔ اسی خاموشی میں ایک منٹ گزر جاتا ہے۔ ڈاکٹر اپنے جیب سے ماچس نکال کر جلاتا ہے۔ ”ایک منٹ جناب، ایک منٹ “ پلیگیا یہ کہتے ہوے جھونپڑی سے باہر بھاگتی ہے، اور جلد ہی موم بتی لئے واپس آتی ہے

ییفین ایسے دیکھتا ہے جیسے وہ ڈاکٹر اور جھونپڑی کے آر پار دیکھ رہا ہو۔” کیا ہوا۔ تم کیا سوچ رہے ہو ؟‘‘ ڈاکٹر اسکے اوپر جھکتے ہوے پوچھتا ہے۔ ”کیا ؟ مر رہا ہوں عزت مآب، میرا وقت آ پہنچا ہے۔ زندوں میں میرا قیام ختم ہو چکا ہے “
’’بے وقوفی کی باتیں مت کرو ہم تمھارا علاج کریں گے‘‘
’’جیسے مناسب سمجھیں جناب،ہم آپ کے شکر گزار ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ موت آئی کھڑی ہے “
ڈاکٹر کوئی پون گھنٹہ ییفین کا معائنہ کرنے کے بعد سیدھا کھڑا ہو کر کہتا ہے، ”میں کچھ نہیں کر سکتا۔تمہیں ہسپتال جانا چاہئے۔جہاں وہ تمہارا آپریشن کریں گے، جلدی کرو پہلے ہی بہت دیر ہو چکی ہے، ہسپتال میں سب سو جائیں گے، خیر کوئی فرق نہیں پڑتا، میں تمہیں لکھ دوں گا۔ سن رہے ہو نا !‘‘

’’مہربانی جناب! لیکن یہ کیسے جا سکتا ہے ؟ ہمارے پاس گھوڑا نہیں ہے “ پلیگیا کہتی ہے
’’فکر نہ کرو۔ میں تمہارے مالک سے کہوں گا وہ گھوڑا بھیج دے گا “ ڈاکٹر چلا گیا اور چراغ بجھا دیا گیا۔ اور وہی آوازیں آنا شروع ہو جاتی ہیں۔ ڈم —-ڈم——ڈم۔
ادھ گھنٹے بعد گھوڑا گاڑی ییفین کو ہسپتال لے جانے کے لئے پہنچی اور وہ لوگ ہسپتال کے لیے روانہ ہو گئے۔ صبح ہو چکی ہے۔ پلیگیا گھر پر نہیں ہے۔ وہ ہسپتال ییفین کی خیریت دریافت کرنے گئی ہوئی ہے۔

دور کہیں بچہ رو رہا ہے۔ اور وارکا کو اپنی ہی آواز میں کوئی لوری گنگناتے سنائی دیتا ہے۔ پلیگیا واپس آ جاتی ہے۔ ”رات انہوں نے اسے آرام سے سلا دیا تھا، لیکن صبح اس نے اپنی جان جان آفریں کے حوالے کر دی۔ آخرت کی بادشاہت اسکی ہو اور اسے ابدی سکون نصیب ہو“
وہ کہتے ہیں’’بہت دیر ہو چکی تھی، اسے جلدی آنا چاہئے تھا۔

وارکا سڑک پر نکل کر روتی ہے۔ لیکن اچانک کوئی اسکے سر کے پیچھے اتنی زور سے مارتا ہے کہ اسکی پیشانی سندر کے درخت سے جا ٹکراتی ہے۔ وہ اپنی نظریں اٹھاتی ہے اور اپنے مالک جفت ساز کو سامنے پاتی ہے۔ ” تم کیا چیز ہو چنڈال چھوکری؟ بچہ رو رہا ہے اور تم سو ئی پڑی ہو “ پھر وہ اسے کان کے نیچے ایک تھپڑ جڑتا ہے۔ وارکا اپنا سر جھٹکتی ہے، جھولے کو جھلاتی ہے اور لوری گانے لگتی ہے
سبز دھبہ اور کپڑوں کے سائے اوپر نیچے ہلتے ہیں، اسے ہاں کا اشارہ کرتے ہیں اور اس کے زہن کو پھر اپنے اثر میں لے لیتے ہیں

وہ دوبارہ اسی شاہراہ کو کیچڑ سے ڈھکا دیکھتی ہے، لوگ اپنے تھیلوں سمیت اور سائے گہری نیند سوئے پڑے ہیں، انہیں دیکھ کر وارکا کا بھی سونے کے لئے دل مچلتا ہے۔ وہ بخوشی سو جاتی مگر اسکی ماں اس کے ساتھ چل رہی ہے۔ وہ تیز قدموں سے شہر کی جانب روز گار کی تلاش میں رواں دواں ہیں۔ اسکی ماں لوگوں کو عیسیٰ کا واسطہ دے کر بھیک مانگتی ہے’’ ہمارے اوپر رحم کرو، اے رحم دل لوگو‘‘
بچہ مجھے دے دو’’ مانوس سی آواز سنائی دیتی ہے۔ ”بچہ مجھے دے دو “ وہی آواز غصے کے ساتھ دوبارہ گونجتی ہے۔‘‘ ’’کیا تم پھر سو گئیں ؟ کم بخت منحوس لڑکی‘‘

وارکا اچھل کر کھڑی ہوتی ہے۔ ارد گرد دیکھ کر صورتحال کا اندازہ لگاتی ہے۔ وہاں نہ کوئی شاہراہ ہے۔ نہ پلیگیا، نہ اور لوگ، وہاں صرف اور صرف اسکی مالکن ہے، جو بچے کو دودھ پلانے آئی ہے اور کمرے کے درمیان میں کھڑی ہے۔ جتنی دیر وہ مضبوط، چوڑے شانوں والی عورت بچے کو دودھ پلاتی ہے، وارکا اس کے جانے کی منتظر کھڑی رہتی ہے

کھڑکیوں سے باہر رات کی بوجھل ہوا نسیم سحر میں بدل چکی ہے۔ چھت پر سبز دھبہ اور سائے مدھم ہو رہے ہیں۔ صبح قریب ہے۔
’’بچہ اٹھا لو‘‘—مالکن بچے کو دودھ پلا کر اٹھتی ہے۔ اپنے کپڑے درست کرتی ہے۔ بچہ رو رہا ہے۔ وارکا بچے کو جھولے میں ڈال کر اسے جھلانا شروع کر دیتی ہے۔ سبز دھبہ اور سائے آہستہ آہستہ غائب ہو جاتے ہیں۔ اب وہاں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو اسکی آنکھوں کو بوجھل اور اس کے دماغ کو غبار آلود کرے۔ لیکن پھر بھی وہ پہلے کی طرح غنودگی میں ہے۔ وارکا اپنا سر جھولے کے کنارے ٹکاتی ہے۔ غنودگی سے باہر نکلنے کے لیے اپنے پورے جسم کو جھٹکتی ہے۔ لیکن پھر بھی اسکی آنکھیں آپس میں چپکی ہوئی ہیں اور اسکا سر بوجھل ہے۔

’’وارکا چولھے جلاؤ‘‘ دروازے سے اسے مالک کی آواز سنائی دیتی ہے۔ تو اب جاگنے اور کام شروع کرنے کا وقت ہو گیا ہے۔ وارکا جھولے کو چھوڑ کر باہر لکڑی لینے جاتی ہے۔ وہ اب خوش ہے کہ جب انسان بھاگ دوڑ میں مصروف ہو تو اسے نیند نہیں آتی جتنی بیٹھے رہنے سے آتی ہے۔ وہ لکڑی لا کر چولھا جلاتی ہے اور محسوس کرتی ہے کہ اسکا اکڑا ہوا چہرا نرم پڑ گیا ہے۔ اسکے ذہن پر چھائی دھند چھٹ رہی ہے۔ اسکی سوچیں واضح ہو رہی ہیں۔

’’وارکا سماوار تیار کرو “ اسکی مالکن چلاتی ہے – وہ بمشکل لکڑی کے ٹکڑوں کو آگ لگاتی ہے اور انگارے سماوار میں رکھتی ہے کہ نیا حکم سنائی دیتا ہے۔ ”وارکا صاحب کے جوتے صاف کرو‘‘۔ وہ فرش پر بیٹھ کر جوتے صاف کرنے لگتی ہے، اور سوچتی ہے کہ اگر وہ اپنا سر ایک بڑے جوتے کے اندر ڈال کر تھوڑی سی اونگھ لےلے تو کتنا مزہ آئے۔ — اچانک جوتا پھول کر بڑا ہوا اور اس نے پورے کمرے کو بھر دیا۔

وارکا سے برش گر جاتا ہے۔ فورا سر کو جھٹکتی ہے آنکھیں کھولتی ہے اور اپنے گردو پیش پہ نظر ڈالتی ہے تا کہ چیزیں پھیل کر بڑی نہ ہوں۔
’’وارکا باہر سیڑھیاں دھو چھوڑو، جب گاھک دیکھتے ہیں تو سخت شرمندگی ہوتی ہے۔ ‘‘ وارکا سیڑھیاں دھوتی ہے، کمروں میں جھاڑو لگا کر گرد پونچھتی ہے۔ پھر چولھا جلاتی ہے، بھاگ کر دکان پر جاتی ہے، اتنے بے تحاشا کام ہیں کہ اسے ایک لمحے کی فرصت نہیں۔ لیکن کچن میں ایک ہی جگہ میز کے پاس کھڑے ہو کر آلو چھیلنے سے زیادہ کوئی کام مشکل نہیں، اسکا سر میز پر جھک جاتا ہے آلو اسکی آنکھوں کے آگے ناچنے لگتے ہیں۔ جب اسکی مالکن بازو چڑھائے تیز تیز بولتی اس کے پاس سے گزری، اسکے ہاتھ سے چاقو گر پڑا، اسکے کانوں میں گھنٹیاں بجنے لگیں
سب سے زیادہ اذیت ناک وہ انتظار ہوتا ہے جو اسے رات کے کھانے کے بعد دھونے اور سینے کے لئے کرنا پڑتا ہے۔ اس وقت اسکی خواہش ہوتی ہے کہ سب کچھ چھوڑ چھوڑ کے فرش پر لیٹ کر سو جائے۔ دن گزرتا ہے کھڑکیوں میں تاریکی چھانی شروع ہو جاتی ہے۔ وارکا اپنی کنپٹیوں کو سہلاتی ہے جو اسے لکڑی کی بنی محسوس ہوتی ہیں۔ وہ بلاوجہ مسکراتی ہے۔ شام کا دھندلا اس کی آنکھوں کو سکون پہنچاتا ہے جنھیں کھولے رکھنا محال ہے

شام ہوتے ہی مہمان آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ ’’وارکا سماوار تیار کرو‘‘ مالکن چلائی۔ سماوار بہت چھوٹا ہے۔ تمام مہمانوں کے لئے چائے بننے کے لئے اسے پانچ مرتبہ گرم کرنا پڑتا ہے۔ چائے کے بعد وارکا ایک گھنٹہ ایک ہی جگہ کھڑے ہو کر مہمانوں کو دیکھتی رہتی اور مزید احکامات کی منتظر رہتی ہے۔
’’وارکا بھاگ کر جاؤ اور تین بوتل بئیر لے آؤ “۔ وہ دوڑنے کی کوشش کرتی ہے۔ تاکہ نیند کو بھگا سکے۔
’’وارکا تھوڑی واڈکا لے آؤ‘‘
’’وارکا پیچ کس لے آؤ‘‘
’’وارکا مچھلی لے آؤ‘‘
آخر کار مہمان رخصت ہو جاتے ہیں۔ روشنیاں گل کر دی جاتی ہیں۔ مالک اور مالکن سونے چلے جاتے ہیں۔ وہ آخری حکم سنتی ہے۔
’’ وارکا بچے کو جھولا جھلاؤ‘‘

جھینگر چولھے میں چرچرا رہا ہے۔ چھت پر سبز دھبہ اور کپڑوں کے سائے وارکاکی آدھ کھلی آنکھوں اور دماغ کو بوجھل کر رہے ہیں۔
وارکا لوری کے بول بڑبڑاتی ہے۔ بچہ چلا رہا ہے۔ مسلسل چلانے سے تھک جاتا ہے۔وارکا دوبارہ کیچڑ زدہ شاہراہ، تھیلے اٹھائے ہوے لوگ، اپنی ماں اور اپنے باپ کو دیکھتی ہے۔ اسے ہر بات سمجھ آرہی ہے۔ ہر ایک کو پہچان رہی ہے۔ لیکن غنودگی میں سمجھ نہیں پاتی کہ کوئی قوت ہے جو اسکے ہاتھ پاؤں باندھے ہوے ہے۔ نیند گرا ں گزر رہی ہے۔ وہ اپنے ارد گرد متلاشی نظروں سے دیکھتی ہے، اس قوت کو تلاشتی ہے تاکہ وہ نجات حاصل کر سکے لیکن ناکام رہتی ہے۔ آخر اکار تھکاوٹ سے نیم مردہ اپنی پوری قوت آنکھوں پر صرف کرکے اوپر جھلملاتے سبز ٹکڑے کو دیکھتی ہے اور چیخ و پکار کو سنتے ہوے اپنے دشمن کو پا لیتی ہے جو اسے سونے نہیں دیتا

’’وہ دشمن یہ بچہ ہے “

وہ ہنستی ہے۔ اسے یہ چھوٹی سی بات پہلے سمجھ نہ آنے پر حیرانی ہوتی ہے۔ سبز دھبہ، سائے اور جھینگر بھی ہنستے اور حیران ہوتے محسوس ہوتے ہیں۔
واہمہ وارکا کو دبوچ لیتا ہے۔وہ اپنے سٹول سے اٹھتی ہے۔ چہرے پر مسکراہٹ پھیلائے، بغیر آنکھیں جھپکائے وہ کمرے میں ٹہلتی ہے۔ وہ خوش ہوتی ہے کہ وہ بجے سے جس نے اس کے ہاتھ پاؤں باندھ رکھے ہیں، نجات حاصل کرےگی…………………
بچے کو قتل کرو اور سو جاؤ…………… سو جاؤ…………….. سو جاؤ…………….
آنکھیں جھپکتے ہوئے قہقہ لگاتی وارکا جھولے کے پاس جاتی ہے۔ بچے پر جھکتی ہے۔
جب وہ بچے کا گلا گھونٹ چکتی ہے تو فورا فرش پر لیٹ جاتی ہے۔ خوشی سے کھلکھلاتی ہے کہ اب وہ سو سکے گی۔ اور لمحے بعد وہ مردے کی طرح گہری نیند سو رہی تھی

Please follow and like us:

Leave a Reply