منزل قریب ہے

Spread the love

عزیز اعظمی اصلاحی
اسرولی سرائمیر

نیوزی لینڈ کی مساجد، سڑکیں اور گلیاں مذہبی رواداری ، قومی یکجہتی، امن و سلامتی کے پیغام سے بھر گئیں ، آپسی اخوت و محبت ، امن و امان کے گلدستوں سے سج گئیں۔ کیا حکو مت ، کیا ریاست ، کیا وزیر ، کیا رئیس ، کیا بچے ، کیا بوڑھے ، کیا جوان ، کیا مسلم ، کیا غیر مسلم اس ملک کا ہر ہر فرد نمناک آنکھوں سے مسجدوں میں شہید ہونے والے شہداء کو ایسا خراج عقیدت پیش کیا کہ جو سر پسند عناصر، نفرت و عداوت رکھنے والوں کے لئے سبق آموز ہی نہیں بلکہ چلو بھر پانی میں ڈوب مرنے کے مترادف ہے۔

یہ دنیا کی ان حکومتوں، ان بادشاہوں، ان مطلق العنانوں، ان تخریب کاروں، ان شدت پسندوں، ان صحافیوں، ان مداریوں کے لئے پیغام ہے جو اپنے ملک، اپنی قوم، اپنی عوام کے بھائی چارے کو انکے امن و آمان کو تباہ کرکے نفرت و عداوت کی بنیاد پر اپنا سیاسی و معاشی محل تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔ ہر مذاہب میں شدت پسند اور جنونی لوگ پائے جاتے ہیں جو اپنی نفرت و عداوت کی آگ میں جھلس کر دنیا کے امن کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔ دہشتگرد کا کوئی مذہب نہیں میری نظر میں یہ ایک منطقی بات ہے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں حقیقتاً دہشت گرد کا تعلق مذہب سے ہے لیکن ہر مذہبی شخص دہشت گرد کہا جائے، ہر مسلمان دہشت گرد کہا جائے، یہ بھی شدت پسندی اور ذہنی مرض کی علامت ہے۔

ہر مذہب میں شدت پسند اور جنونی لوگ پائے جاتے ہیں اور یہ مذہبی جنونیت اور شدت پسندی ہی تو ہے کہ ایک شخص اپنی ہزار سالہ تاریخ کے بوسیدہ اوراق سے اپنے شدت پسند فاتحین کے ناموں کو نکال کر اپنے اسلحے پر حرف بہ حرف لکھ کر بے گناہ نمازیوں کو موت کے گھاٹ اتار دے اس سے بڑی دہشت گردی اور مذہبی شدت پسندی اور کیا ہوگی۔

لیکن اب نیوزی لینڈ کے اس الم ناک واقعہ سے دنیا کو اپنا نظریہ بدلنا ہوگا، نیوزی لینڈ سےمذہبی روادای، اخوت و محبت کو سیکھنا ہوگا، لفظ دہشت گرد صرف اسلام اور مسلمانوں کے لئے نہیں ہر مذاہب کے ان شدت پسندوں اور دہشت گردوں کے لئے استعمال کرنا ہوگا جو آسٹریلوی شہری بریٹین ٹیرینٹ کے کردار میں نظر آئے گا۔ جو شمبھو ناتھ جیسی دہشت گردی کو انجام دیگا، جو پلوامہ جیسے سانحے میں ملوث ہوگا اور اگر عالمی طاقتیں، عالمی میڈیا دہشت گردی کے تئیں اپنا جانبدارانہ رویہ نہیں بدلتیں تو یہ اس بات کی دلیل ہوگی کہ عالمی قوتیں دہشت گردی کا خاتمہ نہیں اسلام و مسلمین کا خاتمہ چاہتی ہیں۔

اور اگر وہ اسلام و مسلمین کے خاتمے کا خواب دیکھتی ہیں تو ان دشمنانِ اسلام کو یہ یاد رکھنا ہوگا کہ مسلمان سیاسی طور پر، اقتصادی طور پر، معاشی طور، تکنیکی و عسکری طور کمزور اور مغلوب ہو سکتا ہے لیکن اسلامی طور پر نہیں اسلام دنیا کے تمام ادیان پر غالب ہونے کے لئے ہی آیا ہے اور غالب ہوکر رہے گا یہ برحق ہے جسے قرآن نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ۔ہُوَالَّذِيْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰي وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْہِرَہٗ عَلَي الدِّيْنِ كُلِّہٖ وَلَوْ كَرِہَ الْمُشْرِكُوْن (وہی تو ہے جس نے اپنے پیغمبر کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ اس (دین) کو (دنیا کے) تمام دینوں پر غالب کرے۔ اگرچہ کافر ناخوش ہی ہوں: توبہ: 33، الصف: 9)

جس اللہ نے تمہیں یہ طاقت دی ہے کہ دنیاوی اثر و رسوخ کی بنیاد پر جس کو چاہو آج تم دہشت گرد کہو جسے چاہو امن پرست۔ اسی اﷲ نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر اس دنیا میں بھیجا اور واضح کر دیا کہ دین دوسرے سارے ادیان پر غالب ہو کررہے گا چاہے تمہیں یہ بات کتنی ہی ناگوار کیوں نہ گزرے۔ تیزی سے پھیلنے والے اس اسلام کے بارے میں اگر تم اس قدر خائف اور ڈرے ہوئے کہ پیچھے سے وار کر کے اسلام کو مٹادینا چاہتے ہو مسلمانوں پر ظلم کر کے اسلام کو اکھاڑ پھینکنا چاہتے ہو اس پر دشت گردی کا ٹھپہ لگا کر کمزور کرنا چاہتے ہو تو یاد رکھو اللہ نےقرآن میں اس کا بھی جواب دے دیا ہے کہ ……يُرِيْدُوْنَ لِيُطْفِــــُٔـوْا نُوْرَ اللہِ بِاَفْوَاہِہِمْ وَاللہُ مُتِمُّ نُوْرِہٖ وَلَوْ كَرِہَ الْكٰفِرُوْنَ… (یہ چاہتے ہیں کہ خدا کے (چراغ) کی روشنی کو منہ سے (پھونک مار کر) بجھا دیں۔ حالانکہ خدا اپنی روشنی کو پورا کرکے رہے گا خواہ کافر ناخوش ہی ہوں۔ الصف:8) وہ اپنے منہ کی پھونکوں سے اللہ کے نور کو بجھانا چا ہتے ہیں اللہ کا فیصلہ یہ ہے کہ اپنے نور کو پھیلا کر رہے گا، خواہ کافروں کو یہ کتنا ہی ناگوارکیوں نہ ہو۔ یہ الٹے لٹک جائیں لیکن اسلام وہ نور وہ روشنی ہے جو تمہاری ان پھونکوں سے بجھایا نہیں جائے گا ۔ اس لئے حکمرانوں، سیاستدانوں، صحافیوں، عالمی طاقتوں کو اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے امن و آمان، اخوت و محبت اور مذہبی رواداری کی بات کرنی چاہیے جس میں ایک خوشحال اور پرسکون زندگی ہے ۔

Please follow and like us:

Leave a Reply