17 مارچ کے واقعات ایک نظر میں

Spread the love

واقعات

624 ء مسلمانوں نے حق و باطل کے پہلے معرکے غزوہ بدر میں فتح حاصل کی۔

1672ء انگلینڈ نے ہالینڈ کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا۔

1824ء انگلینڈ اور ہالینڈ کے درمیان تجارتی معاہدہ طے ہوا۔

1932ء جرمن پولیس نے ہٹلر کے ہیڈ کوارٹر پر چھاپا مارا۔

1996ء قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلے گئے عالمی کرکٹ کپ کے فائنل میں سری لنکا نے آسٹریلیا کو ہرادیا۔ کرکٹ کی دنیا میں اس فتح کو ایک انہونی فتح کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، کیونکہ اس سے قبل سری لنکا کی ٹیم ایک بہت ہی کمزور ٹیم تصور کی جاتی تھی اور اس عالمی کرکٹ کپ سے پہلے سری لنکا کی کارکردگی بہت ہی مایوس کن تھی۔

2008ء نو منتخب قومی اسمبلی نے 1973ء کے آئین کے تحت حلف اٹھا لیا۔

2008ء مینگورہ پولیس لا‎ئنز میں خودکش حملہ، 3 اہلکار جاں بحق، 6 زخمی۔

2009ء اس وقت کے وزیر اعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی نے ایک اعلی حکم کے تحت افتخار محمد چوہدری سمیت تمام معزول جج بحال۔

ولادت

1078ء شیخ عبد القادر جیلانی، جنہیں محی الدین، محبوبِ سبحانی، غوث الثقلین اور غوث الاعظم کے القابات سے بھی جانا جاتا ہے۔ جو سُنّی حنبلی طریقہ کے نہایت اہم صوفی شیخ اور سلسلہ قادریہ کے بانی ہیں۔ ان کا انتقال 12 فروری 1166ء ہوا۔

1881ء والٹر روڈلف ہیسایک سوئس ماہر فعلیات تھے جنھوں نے 1949 کا نوبل انعام وصول کیا تھا۔ اس کی وجہ انکی جانب سے دماغ کے ان حصوں کا تصویر بنانا تھا جن کا تعلق جسم کے اندرونی اعضاء کے کنٹرول کرنے سے تھا۔ ان کا انتقال 12 اگست 1973ء کو ہوا۔

1920ء – شیخ مجیب الرحمان، بنگالی رہنما اور اور بنگلہ دیش کے بانی۔ ضلع فرید پور میں پیدا ہوئے۔ 1947ء میں اسلامیہ کالج کلکتہ سے تاریخ اور علم سیاسیات میں بی-اے کیا۔ طالب علمی ہی کے زمانے سے انہوں نے سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کر دیا تھا۔ 1943ء سے 1947ء تک وہ کل ہند مسلم لیگ کی کونسل کے رکن رہے۔ 1945ء تا 1946ء وہ اسلامیہ کالج کے طلبہ کی یونین کے جنرل سیکرٹری رہے۔ 1946ء میں بنگال اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 1947ء میں پاکستان بننے کے فوراً بعد مسلم لیگ سے مستعفی ہو کر پاکستان مسلم اسٹوڈنٹس لیگ قائم کر کے اردو کی مخالفت کرنا اس بات کو ظاہر کر دیتا ہے کہ شیخ مجیب شروع ہی سے مسلم قومیت کی بجائے بنگالی قومیت کے علمبردار تھے اور انہوں نے مسلم لیگ کے بہت سے دوسرے رہنماؤں کی طرح مسلم لیگ کا ساتھ محض اس لیے دیا کہ وہ اس زمانے میں مقبول تحریک تھی۔ اور اس میں شامل ہو کر اقتدار حاصل کیا جا سکتا تھا۔ شیخ مجیب کسی بھی طرح اقتدار کو اپنے قبضہ میں رکھنا چاہتا تھا جس کے لیے اس نے 1974ء میں ملک میں ایمرجنسی نافذ کر کے آئین معطل کر دیا وہ اور آئین میں متعدد ترامیم کر کے ملک کے نظام کو صدارتی بنا کر خود اس کا صدر بن گیا۔ اس ساری صورتحال کو اہل بنگلہ دیش نے قبول نہ کیا جس کے نتیجے میں شیخ مجیب الرحمان کو اس کے اہل خانہ سمیت ڈھاکہ میں قتل کر دیا گیا۔ اس کی دو بیٹیاں شیخ حسینہ واجد اور شیخ ریحانہ واجد ہی زندہ بچی تھیں کیونکہ وہ اس وقت تعلیم کے سلسلہ میں جرمنی میں مقیم تھیں۔

1923ء الطاف گوہر، گوجرانوالہ، صوبہ پنجاب، برطانوی ہند، موجودہ پاکستان، میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام راجا الطاف حسین جنجوعہ تھا۔ انہوں نے اپنی علمی زندگی کا آغاز ریڈیو پاکستان میں ملازمت سے کیا۔ بعد ازاں سول سروسز کا امتحان پاس کر کے پاکستان کی سول بیورو کریسی کے ایک اہم اور فعال رکن بن گئے۔ ایوب خان کے دورِ حکومت میں وہ سیکریٹری اطلاعات کے عہدے پر فائز ہوئے۔ ایوب خان کے دور کا بدنام زمانہ پریس اینڈ پبلی کیشنز آرڈیننس انہی کے ذہنِ رسا کی اختراع بتایا جاتا ہے۔ 1972ء مین وہ روزنامہ ڈان کے مدیر مقرر ہوئے۔ انہوں نے قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔ انہوں نے ‘تھرڈ ورلڈ فاؤنڈیشن کے قیام میں بھی حصہ لیا اور اس ادارے کے جریدے ‘ساؤتھ کے مدیر رہے۔ ان کی تصانیف میں تحریرِ چند، ایوب خان: فوجی راج کے پہلے دس سال، لکھتے رہے جنوں کی حکایت اور ان کی خود نوشت سوانح عمری گوہر گذشت شامل ہیں۔ انہوں نے مولانا ابو الاعلیٰ مودودی کی مشہور تفسیر تفہیم القرآن کا انگریزی زبان میں ترجمہ بھی کیا۔ اردو شاعری میں بھی ان کا ایک مقام تھا ۔ ان کا انتقال 14 نومبر، 2000ء کو ہوا۔

1962ء بھارت کی پہلی خاتون خلا نورد۔ وہ بنارسی لال کے ہاں ہریانہ کے قصبہ کرنال میں پیدا ہوئیں۔ پنجاب انجینئرنگ کالج، چندی گڑھ سے ایروناٹیکل انجینئرنگ کی ڈگری لی۔ پورے کالج میں صرف 6 لڑکیاں تھیں اور وہ ایروناٹیکل انجینئرنگ میں داخلہ لینے والی واحد لڑکی۔ 1987ء میں جب پائلٹ کا اجازت نامہ ملا تو پہلی بار خلا نورد بننے کے بارے میں غور کیا۔ دسمبر 1994ء میں جب امریکی خلائی ادارے ناسا کو خلا نوردوں کی ضرورت پیش آئی تو انہوں نے درخواست گزار دی چنانچہ تربیت کے لیے بلا لیا گیا۔ اور والد کی اجازت سے امریکی یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا۔ وہاں ان کی ملاقات جین بیرئر سے ہوئی جو فلائنگ انسٹرکٹر تھے۔ انھوں نے چاولہ کو ان کے خوابوں کی تعبیر پانے کے لیے بہت مدد کی اور انھیں حوصلہ دیا کہ وہ سب کچھ کر سکتی ہیں۔ چنانچہ امریکی خلائی ادارے ناسا میں تربیت کا موقع مل گیا۔19 نومبر 1997ء کو ناسا کی ایما پر خلائی شٹل کولمبیا کے ذریعے 16 روز کر اپنے ساتھیوں کے ساتھ خلا میں پرواز کی۔ خلا میں اس ٹیم نے دھاتوں اور کرسٹلز کے علاوہ کشش ثقل کے اثرات کو ختم کرنے کے بارے میں تجربات کیے۔ کلپنا یکم فروری، 2003ء کو سانحہ خلائی شٹل کولمبیا میں اپنے دیگر ساتھیوں سمیت ہلاک ہو گئیں۔

1952ء عابد علی بنیادی طور پر ایک پاکستانی ٹیلی ویژن اداکار ہیں جنہوں نے لالی وڈ اور بالی وڈ فلموں میں بھی کا کیا ہے۔ انہوں نے نگار ایوارڈ اور صدراتی تمغہ حسن کارکردگی بھی حاصل کیا۔

1980ء اعصام الحق قریشی، ایک پاکستانی پیشہ ور ٹینس کھلاڑی ہے۔ وہ ایک گرینڈ سلیم کے فائنل تک پہنچنے والا واحد پاکستانی ٹینس کھلاڑی ہے۔

وفات

1905ء داغ دہلوی، نواب مرزا خاں اور تخلص داغ تھا۔ 25 مئی 1831ء کو دہلی میں پیدا ہوئے ابھی چھ سال ہی کے تھے کہ ان کے والد نواب شمس الدین خاں کاانتقال ہو گیا۔ آپ کی والدہ نے بہادر شاہ ظفر کے بیٹے مرزا فخرو سے شادی کر لی۔ اس طرح داغ قلعہ معلی میں باریاب ہوئے ان کی پرورش وہیں ہوئی۔ بہادر شاہ ظفر اور مرزا فخرو دونوں ذوق کے شاگرد تھے۔ لہٰذا داغ کو بھی ذوق سے فیض حاصل کرنے کا موقع ملا۔ داغ کی زبان بنانے اور سنوارنے میں ذوق کا یقیناً بہت بڑا حصہ ہے۔ جنگ آزادی کی ناکامی کے بعد رام پور پہنچے جہاں نواب کلب علی خان نے داغ کی قدردانی فرمائی اور باقاعدہ ملازمت دے کر اپنی مصاحبت میں رکھا۔ داغ چوبیس سال تک رام پور میں مقیم رہے۔ اس عرصے میں انہوں نے بڑے آرام و سکون اور عیش و عشرت میں وقت گزارا یہیں انہیں”حجاب“ سے محبت ہوئی اور اس کے عشق میں کلکتہ بھی گئے۔ مثنوی فریاد ِ عشق اس واقعہ عشق کی تفصیل ہے۔ نواب کلب علی خان کی وفات کے بعد حیدر آباد دکن کارخ کیا۔ نظام دکن کی استادی کا شرف حاصل ہوا۔ دبیر الدولہ۔ فصیح الملک، نواب ناظم جنگ بہادر کے خطاب ملے۔ 1905ء میں فالج کی وجہ سے حیدرآباد میں وفات پائی۔ داغ کو جتنے شاگرد میسر آئے اتنے کسی بھی شاعر کو نہ مل سکے۔ اس کے شاگردوں کا سلسلہ ہندوستان میں پھیلا ہوا تھا۔ اقبال، جگر مراد آبادی، سیماب اکبر آبادی اور احسن مارہروی جیسے معروف شاعر وں کو ان کی شاگردی کا شرف حاصل ہوا۔ ان کے جانشین نوح ناروی بھی ایک معروف شاعر ہیں۔ داغ 25 مئی 1871ء کو پیدا ہوئے۔

1956ء آئرین جولیٹ کیوری فرانس کی ایک کیمیا دان خاتون تھیں جنھیں 1935ء میں ان کے شوہرفریڈرک جولیو کے ہمراہ مصنوئی تابکاری کے دریافت پر نوبیل انعام برائے کیمیا دیا گیا۔ اس سے قبل ان کے والد پیری کیوری اور والدہ میری کیوری بھی یہ انعام جیت چکے تھے۔ ان کی پیدائش 12 ستمبر 1897ء کو ہوئی۔

2012ء فاخرہ یونس ایک پاکستانی عورت ہے جس پر تیزاب پھینکا گیا تھا جس سے اس کا چہرہ خراب ہو گیا۔ بالآخر اس نے 33 سال کی عمر میں 17 مارچ 2012ء کو روم، اطالیہ میں خود کشی کر لی۔ فاخرہ ہیرا منڈی میں ایک رقاصہ تھی۔ وہاں اس کی ملاقات پنجاب کے سابق گورنر غلام مصطفے کھر کے بیٹے بلال کھر سے ہوئی۔ اس کے بعد ان دونوں نے شادی کر لی جو تین سال تک چلی۔ فاخرہ کے مطابق اس کے شوہر نے اس پر تیزاب پھینکا جس سے اس کا چہرہ خراب ہو گیا۔ فاخرہ کا سال پیدائش 1979ء بیان کیا جاتا ہے۔

تعطیلات و تہوار

نیند کا عالمی دن

سینٹ پیٹرکس ڈے: ینٹ پیٹرکس ڈے مسیحیوں کا ایک مذہبی دن ہے۔ اس دن 17 مارچ آئرلینڈ میں قومی دن کے طور پر منایا جاتا ہے یہ دن مقدس پیٹرک کا یوم وفات ہے۔ سینٹ پیٹرک کی یاد میں یہ دن گزشتہ 257 سالوں سے منایا جاتا رہا ہے۔ آئرستانی مسیحیوں میں رواج ہے کہ اس دن ہر چیز ہری کردی جاتی ہے خصوصاً سبز رنگ کے ملبوسات نمایاں ہوتے ہیں۔ آئر لینڈ سمیت دنیا بھر میں یہ دن مذہبی جوش و جذبہ کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ 2016ء میں شگاگو کے دریا کو سینٹ پیٹرک کی یاد میں سبز رنگ میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔

1861ء اٹلی نے آزادی کا اعلان کیا۔

Please follow and like us:

Leave a Reply