اب وقت آگیا ہے اسلحہ قوانین تبدیل کیے جائیں، وزیراعظم نیوزی لینڈ

Spread the love
نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم صحافی سے گفتگو کر رہی ہیں

حملہ آور پولیس کی تحویل میں ہے، متاثرہ کمیونٹی کی ہر ممکن مدد کی جا رہی ہے، متاثرین کو بہت بڑا مالی پیکج دیا جائے گا

ہماری پہلی ترجیح جاں بحق ہونیوالے افراد کی شناخت تھی، آسٹریلیا کے ساتھ ملکر کام کر رہے ہیں

پولیس کو کچھ چیلنجز درپیش ہیں،اس لیے قانون سازی کریں گے، حملہ آور آسٹریلیا اور نہ ہی نیوزی لینڈ کی واچ لسٹ میں تھا، جیسنڈا آڈرن

ویلنگٹن(انٹرنیشنل ڈیسک)وزیراعظم نیوزی لینڈ جیسنڈا آڈرن نے کہا ہے اب وقت آگیا ہے اسلحہ قوانین تبدیل کیے جائیں، واقعے میں ملوث شخص کے پاس بندوق کا لائسنس تھا، حملے کے فوری بعد پولیس نے کارروائی کی۔ وزیراعظم نیوزی لینڈ نے مساجد میں دہشت گردی پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا اطلاع کے 36 منٹ بعد ملزم کو گرفتار کیا گیا، واقعے میں ملوث شخص کے پاس بندوق کا لائسنس تھا، وقت آگیا ہے گن قوانین تبدیل کیے جائیں۔

انہوں نے کہا حملہ آور پولیس کی تحویل میں ہے، متاثرہ کمیونٹی کی ہر ممکن مدد کی جا رہی ہے، متاثرین کو بہت بڑا مالی پیکج دیا جائے گا۔ وزیراعظم جیسنڈا آڈرن کا مزید کہنا تھا ہماری پہلی ترجیح جاں بحق ہونیوالے افراد کی شناخت تھی، آسٹریلیا کے ساتھ ملکر کام کر رہے ہیں، پولیس کو کچھ چیلنجز درپیش ہیں، اس لیے قانون سازی کریں گے، حملہ آور آسٹریلیا اور نہ ہی نیوزی لینڈ کی واچ لسٹ میں تھا۔ یاد رہے نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں بڑی دہشت گردی، 2 مساجد پر فائرنگ کے نتیجے میں 49 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے۔

مسلح شخص نماز جمعہ کے بعد مسجد میں داخل ہوا اور خود کار ہتھیار سے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ حملہ آور نے کئی بار گن ری لوڈ کی اور مختلف کمروں میں جا کر فائرنگ کرتا رہا۔ مقامی میڈیا کے مطابق حملہ آور اس دوران ہیلمٹ پر لگے کیمرے سے ویڈیو بناتا رہا اور انٹرنیٹ پر براہ راست دکھاتا رہا۔پولیس کو حملہ آور کے سوشل میڈیا اکانٹ سے تارکین وطن اور مسلم مخالف مواد ملا ہے۔ پولیس کمشنر مائیک بش کے مطابق ایک خاتون سمیت تین مردوں کو حراست میں لیا گیا ہے،

حملہ آور کی گاڑی سے دھماکا خیز ڈیوائسز بھی ملی ہیں، حملہ آور کا تعلق آسٹریلیا سے ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے واقعے میں متعدد افراد کو گولیاں لگی ہیں جن کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

Please follow and like us:

Leave a Reply