173

خواتین میں شناختی کارڈ نہ بنانے کا رجحان، تعداد 1 کروڑ 19 لاکھ تک جا پہنچی

Spread the love

خواتین کی رجسٹریشن کو یقینی بنانے کیلئے نادرا کو اپنی پالیسی کو بہتر بنانا ہو گا،ا لیکشن کمیشن
خواتین مرد اسٹاف کی وجہ سے تصویر بنوانے سے اجتناب کرتی ہیں، ڈی جی نگہت صدیق
کراچی(صرف اردو ڈاٹ کام )پاکستان کی ایک کروڑ 19 لاکھ خواتین نے اپنے

شناختی کارڈز ہی نہیں بنوائے، جس کی وجہ سے ان خواتین کو انتخابی فہرستوں

میں شامل نہیں کیا جاسکا۔ 2018 کے عام انتخابات سے قبل انتخابی فہرستوں سے

باہر خواتین کی تعداد ایک کروڑ 17 لاکھ تھی جس میں گزشتہ چند ماہ کے دوران

مزید 2 لاکھ کا اضافہ ہو گیا ہے۔الیکشن کمیشن نے تجویز دی ہے کہ خواتین کی

رجسٹریشن کو یقینی بنانے کیلئے نادرا کو اپنی پالیسی کو بہتر بنانا ہو گا، خواتین

کو شناختی دستاویزات بنانے کی ترغیب دینے کے ساتھ ساتھ دیہی علاقوں میں

موبائل رجسٹریشن وین کے عملے میں خواتین کو شامل کرنا ہوگا۔ الیکشن کمیشن

کی جینڈر افیئرز شعبہ کی ڈائریکٹر جنرل نگہت صدیق کا کہنا ہے کہ دیہی

علاقوں میں خواتین مرد اسٹاف کی موجودگی میں تصویر بنوانے سے اجتناب

کرتی ہیں جو خواتین کے شناختی کارڈ نہ بنوانے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ نئی مردم

شماری کے مطابق ملک میں خواتین کی مجموعی تعداد 10 کروڑ 13 لاکھ سے

زائد ہے۔الیکشن کمیشن آف پاکستان نے خواتین کی کم رجسٹریشن والے 68

اضلاع میں مہم چلانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ انتخابی فہرستوں سے باہر ایک

کروڑ 19 لاکھ خواتین کو انتخابی عمل کا حصہ بنایا جا سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں