164

کرنسی سمگلرایان علی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کا اقدام لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا

Spread the love
کرنسی سمگلر ایان علی کی فائل فوٹو

الزامات کا سامنا کرنے کیلئے ٹرائل عدالت میں پیش ہونا چاہتی ہوں، انہیں بے گناہی ثابت کرنے کے لئے موقع دیا جائے، موقف

لاہور (کورٹ رپورٹر) ماڈل گرل ایان علی نے کسٹم عدالت کی جانب سے اشتہاری قرار دیئے جانے کے اقدام کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا۔ ایان علی نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق سیکرٹری آفتاب باجوہ کے توسط سے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ ایان علی کی جانب سے دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ الزامات کا سامنا کرنے کے لئے وہ ٹرائل عدالت میں پیش ہونا چاہتی ہیں، انہیں بے گناہی ثابت کرنے کے لئے موقع دیا جائے۔ ایان علی نے درخواست میں یہ استدعا بھی کی ہے کہ کسٹم عدالت کی جانب سے جاری ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری واپس لئے جائیں۔ واضح رہے کہ ایان علی کے مسلسل عدالت میں پیش نہ ہونے پر راولپنڈی کی کسٹم عدالت نے انہیں اشتہاری قرار دیتے ہوئے ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کئے تھے۔


واضح رہے کہ جس انسپکٹر نے ایان علی کو گرفتار کیا تھا اس کو کچھ ہی دن کے بعد قتل کر دیا گیا تھا۔ تاکہ آئندہ کوئی کسی ایسے فرد پر ہاتھ ڈالنے کی جرات نہ کرے جو کسی اشرافیہ کے لیے کام کرتا ہو۔
یہ بھی یاد رہے کہ مقتول کسٹم انسپکٹر چوہدری اعجاز کی بیوہ صائمہ اعجاز نے کہا تھا کہ ’’میرے شوہر کو ایان علی کے مقدمے میں تحقیقات کی وجہ سے قتل کیا گیا ہے‘‘۔

مقتول انسپکٹر کی بیوہ صائمہ اعجاز کا کہنا ہے کہ قتل کے مقدمے میں ردوبدل کے لئے مختلف اداروں اوراعلی شخصیات کے ذریعے اہل خانہ پر دباؤ ڈالا گیا مگر ہم کسی دباؤ میں آئے بغیر اپنے کیس پر ڈٹے ہوئے ہیں۔

چوہدری اعجاز کو گھر کے باہر مسلح موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کر کے قتل کیا اوراہم فائل چھین کر اپنے ہمراہ لے گئے، پولیس اور متعلقہ اداروں نے مقدمے کے حوالے سے میرا کوئی بیان لیا اور نہ ہی قاتلوں کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہوئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایان علی کو بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی گئی تو میرے شوہر کے قاتل گرفتار نہیں ہوسکتے کیونکہ میرے شوہر کو ایان علی کے مقدمے میں تحقیقات کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں