مجربات ابن زہر اندلسی

Spread the love

ابن زھر (پیدائش: 1091ء— وفات: 1162ء) خاندان طب وادب، شعر وسیاست میں اندلس کے نابغۂ روزگار خاندانوں میں سے ایک ہے، یہ خاندان ابتدا میں جفن شاطبہ کے جنوب مشرقی علاقے میں رہا اور وہاں سے مختلف علاقوں میں پھیل گیا، اس خاندان کے لوگ مختلف ادوار میں طب، فقہ، شعر، ادب، ادارت اور وزارت کے اعلی مراتب پر فائز رہے

طب میں ابن زہر کامقام بہت بلند ہے۔علاج و معالجہ اور تصنیف و تالیف ان کے خاص مشاغل تھے۔ان کی کتابوں کی تعداد ایک درجن کے قریب ہے لیکن ان میں کتاب التیسیر اور کتاب الاغذیہ کو خاص مقام حاصل ہے۔ کتاب التیسیرطب کے ادب عالیہ میں ایک اہم اضافہ کی حیثیت رکھتی ہے۔اس کا ایک ایک حرف تجربہ و مشاہدہ کی کسوٹی پر رکھ کر لکھا گیا ہے۔ مصنف نے امراض کے اسباب ،علامات اور علاج کے بیان میںجو طرز تحریر اختیار کیا ہے وہ نہایت جامع ہے جو دیگر طبی کتابوں میں عنقا ہیں۔تحریر میں غیر ضروری طوالت سے احتراز کیا گیا لیکن اختصار اس قدر بھی نہیں کہ معانی و مفاہیم کی تفہیم نہ ہو سکے۔ابن زہر نے علاج و معالجہ کے درمیان جو دلائل پیش کئے ہیں زیادہ تر تجرباتی ہیں جن سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے۔کتاب التیسر کا اسلوب دیگر طبی کتب سے بایں معنی بھی ممتاز ہے کہ ابن زہر نے امراض کے علاج میں ادویہ کا انبار نہیں لگایا ہے بلکہ سب سے پہلے نوعیت عمل کو بیان کیا ہے اس کے بعد مخصوص ادویہ کا تذکرہ کرتے ہوئے بات مکمل کر دی ہے۔ابن زہر نے اپنے والدابو العلا اور دادا عبد الملک کے مشاہدات اور تجربات سے بھی خوب فائدہ اٹھا یا ہے ۔ان کے علاوہ جالینوس کے طبی سرمایہ سے اپنی تحریروں کو مزین کیاہے ۔ایک طرح سے جالینوس ہی اس کا آئیڈیل ہے۔زیر نظر مضمون میں ابن زہر کے منتخب مجربات و مشادات کوکتاب التیسر کی روشنی میں بیان کیا جا رہا ہے تاکہ علاج و معالجہ میں ان سے فائدہ اٹھا یا جا سکے

میرا (ابن زہر) تجربہ ہے کہ ہر وہ شے جو زیادہ قابض اور جوہر میں غلیظ ہو اور سخت ہو معدہ میں درد پیدا کرتی ہے، اگرچہ اس کے اندر تقویت معدہ کی صلاحیت کیو ں نہ ہو ، لیکن شدید قابض ہونے کے باعث معدہ اس سے فائدہ نہیں اٹھاتا ۔البتہ جس چیز میں قبض کی کیفیت اعتدال کے ساتھ ہو اور اس کا جوہر لطیف ہو مثلا ً گلاب وغیرہ اس سے معدہ کو فائدہ ہوتا ہے۔ نیز غلیظ جوہر والی اشیاء جب بخوبی پکائی جاتی ہیں تو معدہ میں درد پیدا کر نے کی صلاحیت کم ہوجاتی ہے ۔البتہ باقلا کو زیادہ پکانے کے بعد بھی ایسا نہیںہوتا ۔

تجربہ شاہد ہے کہ زمرد معدہ کو قوی کرتا ہے اور گردن میں لٹکانے سے صرع کے لئے مفید ہے ۔اس کو منھ میں رکھا جائے تو دانتوں اور معدہ کو قوی کر دیتا ہے ۔
حمار وحشی کی آنکھوں کو دیکھنا بصارت کو قائم رکھنے کا باعث ہوتا ہے اور خصوصاً موتیابند کو روکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس میں آنکھوں کی صحت کے لئے عجیب و غریب خا صیت رکھی ہے۔
خرگوش کی سری کھانا رعشہ سے محفوظ رکھتا ہے۔ میں نے اپنے ذاتی تجربہ کے لحاظ سے خرگوش کی سری کھانا فالج اور خدر میں مفید پایا ہے۔
میرا ذاتی تجربہ ہے کہ مصطگی کا جوشاندہ پینا جگر اور معدہ کے امراض سے محفوظ رکھتا ہے۔

تخم خربوزہ کا جوشاندہ پینا پتھری سے محفوظ رکھتا ہے۔
سونے کی صلائی سے سرمہ لگانا بینائی کو تیز کرتا ہے۔ اسی طرح سونے کے برتن میں پکایا ہوا کھانا عام طور سے جسم میں طاقت دیتا ہے۔

شربت ورد شکری بطور سرمہ آنکھوں میں لگانا جبکہ جسم فضلات سے پاک و صاف ہو مقوی بصر ہے۔ ایک دفعہ قے بحرانی کی وجہ سے میری آنکھوں میں بہت زیادہ تکلیف ( انتشار حدقین یا ضعف بصارت )پیدا ہوگیا۔ تھوڑی دیر کے لئے میری آنکھ لگ گئی تو میں نے خواب میں ایک طبیب کو دیکھا جو مطب کرتا تھا۔ اس نے شربت ورد کوبطور سرمہ لگانے کا مشورہ دیا میں ان ایام میں طالب علم تھا اور اپنی علمی لیاقت میں اضافہ کر رہاتھا ،ابھی مجھے کسی فن و علم میں مہارت کو مشق حاصل نہیں ہوئی تھی لہٰذا اس خواب کی اطلاع اپنے والد بزرگوار کو دی۔ انھوں نے خواب سن کر تھوڑی دیر سوچ کر پھر فرمایا خواب میں جوکچھ علاج اس مرض کے لئے بتایا گیا ہے اس کا استعمال شروع کر دو۔ میں نے استعمال کرنا شروع کر دیا اس دوا سے مجھے فائدہ حاصل ہوگیا۔ اس کتاب کی تالیف کی وقت تک متواتر اس دوا کو جو کہ مقوی بصر ہے استعمال کرتا رہا۔
اطبا کا کہنا ہے کہ شلجم پکا کر کھانے سے بصارت تیز ہوتی ہے ۔میرا ذاتی تجربہ ہے کہ شلجم پکا کر کھانے سے بصارت تیز ہوتی ہے۔
نیز میرا تجربہ ہے کہ موسم سرما میں قرنفل پیس کر روزانہ پیشانی پر لگانانزلہ سے محفوظ رکھتا ہے۔اسی طرح بسباسہ کو پیشانی پر ملنا بھی ہر موسم میں مفید ہے۔ یہی اثر پودینہ بھی کرتا ہے لیکن قرنفل کا فائدہ زیادہ ہے۔ اسی طرح پوست ترنج کے مقابلہ میں بسباسہ کا فائدہ زیادہ ہے۔

اگر دردسر کاسبب شدید گرمی یا موسم گرما ہو اور مریض جوان ہوتو روغن گل میں عصارہ کاہو، عصارہ کدو شیریں، عصارہ خیارزہ مخلوط کر کے لگائیں۔لیکن میں نے کدو شیریں پر اعتماد کیا ہے کیونکہ یہ اپنی غلظت کی وجہ سے نفوذنہیں کرتا اور دوسرے عصارہ جات کی طرح شدت حرارت سے مستحیل نہیں ہوتا، پس یہ دوسرے روغن کوبھی روکے رکھتا ہے اور اس کا اثر زیادہ دیر تک باقی رکھتا ہے۔

ورم اذن شدید میں شدت درد سے یا تشنجی دوروں سے مریض کے مر جانے کا خوف ہوتو یہ ضرور ی ہے کہ روغن بیضہ مرغ کان میں ٹپکائیں، اس سے درد میں فوری سکون حاصل ہوگا اور جلد ہی پیپ خارج ہوجائے گی۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں جوان تھا اس وقت مجھے علی بن یوسف نے قرطبہ میں بلایا تھا اس کے اندرون کان میں ورم تھا جب میں عصر کے وقت پہنچا تو اس درد میں اس قدر شدت پیدا ہوگی تھی کہ شدت درد سے وہ موت کا متمنی تھا، خواہ اس کو قتل ہی کیوں نہ کیا جائے۔ کیونکہ ورم کا مقام کان کے آخری حصہ میں تھا جہاں عصب سامعہ کا اتصال ہے اور اس کے ساتھ خفیف تشنج بھی شروع ہوگیا تھا۔ میں نے اس کے کان میں نیم گرم روغن بیضہ مرغ بھر دیا اور بہت دیر تک اسی حال میں چھوڑ دیا تھا نتیجتاً درد میں سکون ہوگیا اور دوتین گھنٹہ کے بعد ورم پھٹ کر پیپ خارج ہوگئی۔

عصب کے چبھن میں ایسی ادویہ عصب پر لگانی چاہئے جو مزاجاً حار، لطیف الجوہر اور ناری ہوں مثلاً گندھک اور فرفیون۔جالینوس کہتا ہے کہ اس علاج سے شفا حاصل ہوجاتی ہے۔ میں نے جوانی کے زمانہ میں خیال کیا تھا کہ بجائے گندھک کے کوئی دوسری خوشبو دار چیز استعمال کراؤں میرا خیال غلط نکلا اور مریض کو نفع حاصل نہیں ہوا ۔لہٰذا جالینوس کے قول پر عمل کرتے ہوئے میں نے روغن زیتون میں گندھک ملا کر چبھن کے مقام پر لگایا جس سے فورا ً شفا حاصل ہو گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ عصب کی چبھن میں اس سے بہتر کوئی علاج نہیں ہے۔

گردن کے رعشہ میںخرگوش کے سری کا شوربہ زمانہ دراز تک (عادت ہونے تک) کھلانا ایک نفع بخش مجرب دوا ہے۔ خرگوش کی سری کا عمل اللہ کی طرف سے ہوتا ہے مزاج معلوم سے نہیں کہا جا سکتا۔ اگر ایسا ہوتا تو رعشہ کی ایک قسم میں تو اس سے فائدہ ہوتا اور دوسرے اقسام میں فائدہ نہیں ہوتا ۔بلکہ اس کا یہ عمل اس کے اسی جوہر خصوصی سے ہوتا ہے جس کو اللہ نے اس میں رکھا ہے جس تک ہماری عقل کی رسائی نہیں ہے۔یہی جوہر رعشہ کے تمام اقسام میں نفع بخش ثابت ہوتا ہے۔بہت سے لوگوں نے اس کے خواص سے گفتگو کی ہے۔ ان سب کا جاننا ضروری نہیں ہے کیونکہ عقل انسانی محدود ہے فہم و ادراک مقدر ہے اس سے ہم تجاوز نہیں کرتے۔

تمدد غشائے جگر کے بارے میں لکھتے ہیں کہ اس نوعیت کا درد اکثر علی بن یوسف کو ہوجایاکرتا تھا میں نے اس کا علاج ایسے روغنیات سے کیا جس کو میں نے روغن بیضہ مرغ اور بطخ کی چربی سے تیار کیا تھا اور خصوصی طور سے اس کے لئے تیار کرتا تھا۔نتیجہ میں اس کو فی الفور شفا ہوجایا کرتی تھی۔
سمیت میں زمرد عجیب و غریب اثرات مرتب ہوتے ہیں۔میں نے زمرد کے سلسلہ میں تجربہ کیا ہے اور دیکھا ہے کہ اسہال کی صورت میں جوف شکم پر اس کا باندھنا عجیب و غریب خاصیت کا حامل ہے۔میں جب علی بن یوسف کی مریضہ کے علاج و معائنہ کے بعد اشبیلیہ (اسپین) سے واپس آرہا تھا تو راستہ میں ایک چیز کو دیکھاتو مجھے خیال آیا کہ وہ جنگلی مولی ہے پھر اس میں کوئی شک بھی نہیں رہا، میں نے اس میں سے قدرے کھالی نتیجہ کار مجھے اسہال اور آنتوں کا درد لاحق ہوگیا مرض میں زیادتی ہوتی گئی، میں پھر اشبیلیہ چلا گیا وہاں میں نے اپنے پیٹ پر زمرد باندھا اور منھ میں چھوٹا سامسلم زمرد رکھ کر چوسنا شروع کر دیا۔ نتیجہ میں مرض قطعاً رفع ہوگیا۔

حصاۃ اور فالج کے علاج میں روغن بشامی کی افادیت کے بارے میں لکھتے ہیں کہ میرے تجربہ میں اس روغن سے زیادہ زود اثر کوئی دوسری شے نہیں ہے، جس کو میرے دادا بزرگوار الحاج عبدالملک رحمہ اللہ مشرق سے درآمد کیا تھا۔ اس کوروغن بشامی(روغن بلساں) کہتے ہیں۔اس طرح مفلوج کے موخر راس کے قریب کے مہروں سمیت اگر روغن بشامی سے تدہین کی کرائی جائے تو اس سے زیادہ نفع بخش کوئی دوسری شے میرے نزدیک نہیں ہے۔روغن بشامی زرد رنگ، رقیق القوام، عطر بیز خوشبوداراور اپنی حدت میں لطیف الجوہر ہوتا ہے۔ میں نے بہت سے لوگوں پر مشاہدہ کیا ہے کہ ان کی پتھریاں بیس یوم کے اندر ٹوٹ گئی ہیں۔ تعجب ہوتا ہے کہ اتنی جلدی یہ دوا کیسے فائدہ پہنچا رہی ہے۔ روغن بشامی کی مقدار خوراک ۸۷۵ ملی گرام ہے الا یہ کہ پتھری کے مقام پر کوئی دوا اثر پذیر نہ ہو رہی ہو تو پھر اس کے دوچند روغن بادام شیریں مخلوط کر کے استعمال کرائیں۔ اگر یہ روغن دستیاب نہ ہوتو ہموزن معجون انیسون لعوق کتیرا کے ہمراہ دینا نافع ہے۔ اگر روغن بلساں خالص پلایا جائے تو اس سے بھی گردہ کی پتھری ٹوٹ جاتی ہے۔میں جب یوسف کے زندان میں مقید تھا اس وقت اپنے خطیب کے علاج کے لئے اس نے مجھ سے کہا اس کو پتھری کا مہلک مرض تھا۔ میں 1.5ملی لیٹر روغن بلساں پلانے کا مشورہ دیا۔ دو تین یوم کے استعمال کرانے کے بعد اس کا پیشاب جاری ہوگیا۔

بانجھ پن، ضعف باہ: فرض کرو ایک نوجوان یا ادھیڑ عمر شخص ہے جس کا سلسلہ توالد و تناسل بغیر کسی سبب معلوم کے دفعتا ً منقطع ہوگیا ہے۔ ناچیز کے خیال میں اس کا سبب سوء مزاج ہے، خواہ حرارت کی شدت ہویا سوء مزاج بارد ہو یا سوء مزاج یابس ہویا سوء مزاج رطب ہو یا ان مزاجوں کے باہمی اختلاط و مشابہت سے فطری طور سے کوئی صورت نمودار ہوگی ہو پس اگر حرارت کی افراط کی وجہ سے ہو کیونکہ یہ کیفیت جوان ہونے کے وقت حار غذاؤں کے استعمال کر نے کی وجہ سے ہوتی ہے۔ مجھے خوب اچھی طرح یاد ہے کہ میرے کوئی اولاد نہیں ہوئی تھی دفعتاً میں تپ محرقہ میں مبتلا ہوگیا ۔میں نے تربوز کھانا شروع کیا، نیلوفر کو کثرت سے سونگھنے لگا اور سیب میں کافور ملا کر سونگھنا شروع کیا۔ جب اس مرض سے مجھے صحت ہوگئی تو میرا بڑا لڑکا پیدا ہواپھر توالد و تناسل کاسلسلہ آخیر وقت تک جاری رہا۔

زائد ہڈی کا بننا: کبھی کبھی ہڈیوں میں زائد ہڈی نکل آتی ہے اس کا سبب ایسی ادویہ کا استعمال ہے جو خلط غلیظ کو جسم میں بڑھا رہی ہو اس ہڈی کے ابھر نے کا واقعہ سب سے پہلے میں نے والد محترمـؒ سے سنا کہ ایک شخص کی پشت کی ہڈی میں ایک ابھار مثل سینگ کے ہوگیا تھا۔ اس میں صلابت فطری اور طبعی ہڈیوں کی طرح نہیں تھی۔والد رحمۃاللہ نے اس خلط غلیظ کے استفراغ کے لئے ادویہ مسہلہ سے اس کا علاج کیا اور ابھری ہوئی جگہ پر مجفف ادویہ لگائیں جس کے نتیجہ میں بارہ سینگے کی سینگ کی طرح جیسے وہ موسم ربیع میں گر جاتاہے، مریض کے پشت سے وہ زائد ہڈی گر گئی۔ میرے ہاتھوں کی ہڈیوں میں سے ایک ہڈی میں بھی اسی نوعیت کا ابھار ہوگیا تھا۔ ادویہ مسہلہ سے اس کا علاج کیا گیا، خلط غلیظ کا استفراغ کیا اور اس پر ادویہ محللہ لگاتا رہا نتیجتاً اس کا جوہربہت جلد تحلیل ہوگیا۔ لیکن پھر بھی کچھ حصہ باقی رہ گیا جو بڑھتا نہیں تھا۔ اس نوعیت کی ہڈی کبھی نکل آئے تو مذکورہ طریقوں سے علاج کیا جائے اور ہمیشہ خلط غلیظ کا استفراغ کیا جائے۔ ان میں سب سے زیادہ معدنی قسم کی دوائیں ہیں۔ مثلا ً حجر لاجورد، مقناطیس بھی بلاشبہ اس میں نافع ہے۔ نباتات میں تازہ بسفاج اور افتیمون اس کے لئے بہت بہتر ہیں، لیکن خربق سیاہ اس کے مقابلہ میں اپنے فوائد کے اعتبار سے زیادہ بہتر اور قوی ہے۔
مشاہدات ابن زہر کی تحریروں کا ایک اہم خاصہ اس کا واقعاتی پیراہن بھی ہے۔یہ اسلوب مسائل کی تفہیم میں بہت کارآمد ہوا کرتا ہے،اس کی بدولت مشکل سے مشکل نکات بھی بآسانی حد ادراک میںآ سماتے ہیں اور قاری کے ذہن پر ان مٹ نقش چھوڑ جاتے ہیں۔کتاب التیسیر میں بھی ابن زہر نے یہ اسلوب اختیار کیا ہے، جگہ جگہ انھوںنے ذاتی واقعات کوبیان کر کے معاملات کی گرہ کشائی کی ہے اور اپنی تحریر کو استحکام بخشا ہے۔طب کے ایک طالب علم کے لئے یہ بات ذہن نشین کر لینا کہ نخاع کے مقابلے اعصاب میں مرض کے قبول کر لینے کی استعداد زیادہ ہوتی ہے، بہت آسانی سے اعصاب سوء مزاج کو قبول کر لیتے ہیں، اعصاب کے شامل مرض ہونے کی صورت میں نخاع متاثر نہیں ہوتے لیکن نخاع کے متاثر ہونے کی صورت میں اعصاب کا متاثر ہونا ضروری ہوتاہے ذیل کے واقعے کی بدولت کس قدر آسان ہو سکتا ہے اس کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
ابن زہر لکھتے ہیں:’’ میں نے ابو زکریایحییٰ بن یمور کے حکم پر انتہائی ٹھنڈے علاقوں میں سفر کیا ۔ اثنائے سفر میں زوردار بارش دن بھر ہوتی رہی بارش کے ساتھ ٹھنڈی ہوائیں بھی چلتی رہیں۔ یہ ٹھنڈی ہوائیں شمال کی جانب سے آرہی تھیں ۔ میرا بایاں قدم ڈھکا ہوا نہیں تھا۔ پورا دن اسی حال میں گذرا ۔ دوسرے دن حس و حرکت کی تیزی جاتی رہی ۔ میں اس کو واپس لوٹانے پر قدرت نہیں رکھتا تھا، میں تنہا اپنی ران بھی نہیں اٹھا سکتا تھا ، میری حالت میں جتنی اصلاح کی کوشش کی گئی اتنی ہی حالت بگڑتی گئی، مجھے معلوم ہوگیا کہ میرے قدم اور رانیں سن ہوگئی ہیں ۔ جب میں ابو عبداللہ بن عمر کی خدمت میں پہنچایا گیا تو حال یہ تھا کہ میں اپنے پیروں چل نہیں سکتا تھا، لوگوں نے مجھے اٹھا کر ان کے پاس پہنچایا۔ نچلے مہروں سمیت ران پر روغن مجلوب کی مالش شروع کر دی گئی جو میرے پاس موجود تھا۔ اس کو روغن بشام بھی کہتے ہیں۔ اتفاق سے میں نے ایک فالج کے مریض کا علاج شروع کیا تھا اس لئے یہ روغن بشام استعمال کیا کرتا تھا۔ ابن عمر نے بھی مذکورہ روغن کو میرے لئے تجویز کیا ساتھ ہی سنکائی بھی کی گئی اللہ کا شکر ہے کہ اس تدبیر سے صبح ہونے تک خدر کی کیفیت رفع ہوگئی اور میں باہر نکلنے کے قابل ہوگیا۔ حقیقت میں اعصاب بمقابلہ نخاع کے مرض کو جلد قبول کرلیتے ہیں اس لئے کہ نخاع کے مقابلے میں اعصاب کا جرم باریک ہوتا ہے نیز نخاع کی حفاظت مہروں سے ہوتی ہے جس میں وہ بند ہوتا ہے اور محفوظ رہتا ہے۔ اگر نخاع کے اندر خلل واقع ہو تو اس کے نیچے لا محالہ تمام اعصاب میں خلل واقع ہوجائے گا۔ بر خلاف اس کے کہ ایک عصب میں یا بہت سے اعصاب میں خلل واقع ہو تونخاع میں خلل نہیں ہوتا۔‘‘

اسی طرح ابن زہر وسواس کے مریض کا ایک بہت دلچسپ واقعہ نقل کیا ہے۔اس میں مریض اپنے آپ کو مردہ کہتا تھا جبکہ اس کے نبض سے ایسی کوئی بات ظاہر نہ تھی ،البتہ صرف سوء مزاج حار یا معدہ میں کسی خلط حار کی موجودگی کا پتہ چلتا تھا۔واقعہ کی تفصیل ملاحظہ ہو’’ میں نے وسواس کے مریضو ں کو دیکھا ہے کہ وہ ایسی چیزوں سے متعلق باتیں کرتے ہیں جن کو ا نھوں نے کبھی نہیں دیکھا اور خیال کرتے ہیں کہ انھوں نے ان چیزوں کو دیکھا ہے۔مجھے خوب یاد ہے کہ جب میں نوجوان تھا اور علاج و معالجہ اپنے والد محترم کے ساتھ ہی ان کے رائے و مشورے سے انجام دیتا تھا۔ایک دن سنگ دل علی کے بھائی تمیم نے جو اشبیلیہ کا حاکم تھا مجھے بلایا میں نے اسے اس حال میں پایا کہ وہ کہ رہا ہے کہ اسے موت آگئی ہے اور اس میں بولنے کی قوت بھی نہیں ہے چہ جائے کہ وہ کوئی نقل و حرکت کرے۔ حالانکہ اس کے نبض سے ایسی کوئی خاص بات ظاہر نہ تھی۔البتہ صرف سوء مزاج حار یا معدہ میں کسی خلط حار کی موجودگی کا پتہ چلتا تھا۔ تو میں نے اسے عرق گلاب اور عصارہ سیب تھوڑے سے پودینہ کے رس کے ساتھ پلایا جس پر تھوڑا سا صندل اور مصطگی پیس کر چھڑک لیا تھا، لیکن اس کے حال میں کوئی تبدیلی رونما نہ ہوئی سوائے اس کے کہ معدہ یں مزاج حار یا خلط حار کی علامت ظاہر ہورہی تھی اور اس کی حالت میں کوئی افاقہ نہ ہوا۔ پھر دوسرے دن اپنے والد صاحب کے ساتھ انکے پاس حاضر ہوا اس کا توہم علی حالہ قائم تھا، میں نے اس کے یہا ں رات میں قیام کیا اس کا مرض کبھی خفیف ہوتا اورکبھی شدید۔ اچانک میری سمجھ میں یہ بات آئی کہ اس کا سبب کوئی اندرونی چیز ہے جو باہر سے جسم میں داخل ہوئی ہے، اس پر یقین نہیں تھا لیکن یہ بات سمجھ میں نہیں آرہی تھی کہ یہ کون سی چیز ہے ۔حتیٰ میں نے پینے کے لئے پانی مانگاتو مجھے اس برتن میں پانی پلایا گیا جس میں تمیم پانی پیا کرتا تھا۔مجھے اس پانی کا ذائقہ کچھ ناگوار محسوس ہوا اور میں نے فوراً کلی کر دی اگر چہ اس پانی میں خوشبو بدبو پر غالب تھی پھر بھی میں نے وہ پانی نہیں پیا۔ مجھ سے برداشت نہ ہوسکا اور میں نے کہا کہ اس کو صحت ہوتو کیسے ہو جب کہ تم اس کو ایسی چیز پلا رہے ہوجس میں موت مضمر ہے اور وہ یہ پانی ہے۔ ایک غلام نے مجھے اگرچہ نصیحت کی لیکن میرے نفس نے گوارہ نہ کیا کہ میں خاموش رہ جاؤں اور الٹے پاؤں واپس چلا جاؤں۔ چنانچہ اس کی بیوی حوا اور اس کے خدام مجھ پر غصہ ہوئے اور حملہ کے لئے دوڑے اور میرے بعض ساتھیوں نے بھی خاموش رہنے اور الٹے پاؤں واپس ہونے کا ارادہ کیا لیکن ان تمام باتوں نے مجھے حقیقت کے اظہار سے باز نہیں رکھا۔ میں نے سوچا کہ یہ تو ایک طرح کی تلبیس ہے۔ چنانچہ بعد میں یہ راز کھلا کہ اس کو جو پانی پلایا جاتا تھا اس میں خشک گوشت پڑا ہوا تھا جو بہت زیادہ متعفن ہوچکا تھا جسے سکھانے کے بعد سفوف بنا کر اس میں شامل کیا گیاتھا۔ یہی پانی اس برتن میں ڈال کر پلاتے رہے تھے۔ جب طبیب نے غور کیا تو معلوم ہوا کہ غلیظ، متعفن اور خشک گوشت اس کا سبب ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ غلیظ، متعفن اور خشک۔ استرخائے امعاء در اصل آنتوں کے بیک وقت قوت طبیعہ میں خلل واقع ہونے کی وجہ سے واقع ہوتا ہے۔ یہ استرخاء بطن اسفل کی جانب اندفاع مادہ کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اطباء نے اس مرض کو بالکل نہ کے برابر ذکر کیا ہے ایسا لگتا ہے کہ یہ مرض واقع ہی نہیں ہوتا۔ جالینوس نے اس مرض کی طرف اشارہ کیا ہے۔ ابن زہر اس مرض کے بارے میں اپنا مشاہدہ لکھتے ہیں:’’ میں نے اپنی جوانی کے زمانے میں اپنے گائوں کے ایک شخص کو اس مرض میں مبتلا پایا۔ اس نے انتہائی گرمی کے عالم میں جبکہ وہ بہت تھکا ہوا تھا ٹھنڈا پانی پی لیا جس سے اس کو ناقابل برداشت شدید درد ہوا اور شدت درد سے وہ بیٹھ گیا ۔ میں اس مرض کی نوعیت کو دیکھ کر بے بس ہوگیا اور اپنے زمانے کے اطباء سے مشورہ کیا لیکن کسی سے بھی سوائے مزید پریشانی اور کچھ حاصل نہ ہو ۔ پھر میں اپنے والد صاحب کے پاس جبکہ وہ دوسرے گائوں میں تھے گیا اور اس مرض کے سلسلے میں اپنی حیرت و پریشانی سے انھیں آگاہ کیا۔ میں نے اس سلسلے میں ان سے رہنمائی اور معاونت کی درخواست کی۔ تو انھوں نے مجھے جالینوس کی ایک کتاب اٹھا کر دی جس نے جالینوس نے واضح طور پر اس مرض کی تشریح کی تھی۔ کتاب پڑھاتے ہوئے انھوں نے مجھ سے کہا کہ مجھے اس سلسلے میں مزید کوئی چیز نہیں ملی۔ میں اس سلسلے میں جتنا غور کیا مسئلہ کا کوئی حل نہیں ملا۔ بہر حال بیان کردہ نسخہ کو سامنے رکھ کر اگر اس علاج کو مناسب سمجھو اور پسند بھی آئے تو بہتر ہے اور اگر اس کے علاوہ کوئی نئی چیز تم کو مل جائے تو چشم ماروشن دل ماشاد۔اس کے بعد میںاعمال سے کنارہ کشی اختیار کرنے کے بارے میں سوچنے لگا۔ ان معاملات پر باربارغور کرتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔ میں اس سلسلے میں مترد دتھا کہ اس مرض کے علاج کے سلسلے میں جس کا میں نے ذکر کیا ہے کامیابی بھی حاصل ہوگی یا نہیں بالآخر میں نے اس شخص کے علاج کا فیصلہ کر لیا۔ میں نے علاج شروع کردیا۔ اس کو شفائے کامل حاصل ہوگئی۔ اس کی شفایابی کے بعد والد بزگوار سے ملا اور اس کے مکمل حالات سے باخبر کیا۔ وہ بہت مسرور ہوئے اور میری حوصلہ افزائی کرتے ہوئے مجھے بھی مسرور فرمایاکیونکہ اس سلسلے میں اس سے پیشتر وہ مجھ سے کبیدہ خاطر ہوگئے تھے۔ اس مرض کا وقوع کمتر ہی ہوتا ہے۔‘‘

اس طر ح کے مجربات و مشاہدات کے نقل کر نے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ہم اطباء کے ان جواہر پاروں سے فائدہ اٹھائیں۔ کچھ چیزیں جیسے حمار وحشی کی آنکھوں کو دیکھنا بصارت کو قائم رکھنے کا باعث ہوتا ہے اور خصو صاً موتیابند کو روکتا ہے محل نظر ہے،لیکن جس وثوق اور اعتماد کے ساتھ ابن زہر نے لکھا ہے اس میں کوئی گنجائش ہی باقی نہیں رہ جاتی ہے کہ یہ نفع بخش نہ ثابت ہوں۔ ان مجربات کی افادیت کو مزید موثق اور مصدق بنانے کے لئے ان کا کلینکلی مطالعہ بھی کیا جا نا چاہئے تاکہ علاج معالجہ کے دائرہ کو مزید وسیع کیا جاسکے۔

Please follow and like us:

Leave a Reply