بلوچستان میں بارش اور برفباری کے باعث سیلابی صورت حال، چھتیں گرنے سے 2 بچیاں جاں بحق

Spread the love

کم از کم 5 افراد زخمی بھی ہوئے۔ ندی نالوں میں طغیانی سے نشیبی علاقے زیر آب۔کئی رابطہ سڑکیں بند ہوگئیں

کراچی(نامہ نگار) بلوچستان کے مختلف علاقوں میں شدید بارشوں اور برفباری کے باعث سیلابی صورتحال

پیدا ہوگئی ہے جس کی وجہ سے کئی رابطہ سڑکیں بند ہوگئی ہیں جبکہ گھروں کی چھتیں گرنے سے 2 بچیاں

جاں بحق اور 5 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔میڈیا رپورٹس بارش اور برفباری کا باعث بننے والا سسٹم بلوچستان

کے جنوب مغربی اور شمال مغربی علاقوں میں اپنا اثر دکھا رہا ہے، کوئٹہ، زیارت اور قلعہ عبداللہ میں گزشتہ

روز سے شدید بارش اور برفباری کا سلسلہ جاری ہے۔ خانوزئی کے علاقے کان مہترزئی میں گزشتہ روز سے

اب تک ڈیڑھ فٹ برف پڑ چکی ہے، اسی طرح کوئٹہ اور زیارت سمیت اطراف کے دیگر علاقوں میں بھی

بارش اور برفباری جاری ہے۔شدید بارشوں اور برفباری کی وجہ سے کئی علاقوں میں سیلابی صورت حال پیدا

ہوگئی ہے، قلعہ عبداللہ میں سیلابی ریلے نے تباہی مچائی ہے، کوئٹہ چمن شاہراہ پر واقع مشہور باغک پل

سیلابی ریلے میں بہہ گیا ہے۔ سیلابی پانی شہر میں داخل ہوگیا ہے اور لوگ اپنی مدد آپ کے تحت ریسکیو کے

کاموں میں مصروف ہیں۔ نوشکی میں موسلا دھار بارش کے باعث مشرقی قادر آباد کا حفاظتی بند ٹوٹنے کا

خطرہ پیدا ہوگیا ہے، نشیبی علاقوں کے زیر آب آنے کا خدشہ ہے، جس کے پیش نظر ڈپٹی کمشنر نوشکی نے

مشینری علاقے میں پہنچا دی ہے۔ اس کے علاوہ زیارت اور دکی میں بھی کنٹرول روم قائم کردئے گئے ہیں۔

جبکہ چمن میں شدید برسات اور تیز ہوائیں چلنے سے متعدد مکانوں کی چھتیں گر گئی ہیں۔ چھتیں گرنے سے

2 بچیاں جاں بحق جبکہ 5 افراد زخمی ہوگئے ہیں۔چمن میں گزشتہ شب شروع ہونے والی موسلادھار بارش

کے بعد بجلی اور انٹرنیٹ سروس معطل ہوگئی ہے۔ ندی نالوں میں طغیانی سے نشیبی علاقے زیر آب آگئے ہیں۔

لیویز حکام کا کہنا ہے کہ گلدارہ باغیچہ کے علاقے میں بھی کمرے کی چھت گرنے سے 6 افراد ملبے تلے دب

گئے ہیں۔ ملبے سے ایک بچی کی لاش نکال لی گئی 5 افراد زخمی ہیں۔زخمیوں میں باپ بیٹا بھی شامل ہیں اور

انہیں ڈی ایچ کیو ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔بلوچستان کے علاقہ عبداللہ میں پہاڑی علاقوں سے آنے والے

سیلابی ریلوں سے شہر کا رابطہ مکمل طورپر منقطع ہوگیا ہے۔ زمینی رابطہ منقطع ہونے سے شہری مکمل

طور پر محصور ہو گئے ہیں۔سیلابی ریلے سے شہر پانی میں ڈوب گیا درجنوں مکانات مکمل منہدم ہوگئے ہیں۔

کوئٹہ چمن شاہراہ پر واقع مشہور باغک پل بھی سیلابی ریلے میں بہہ گیا ہے۔ شہریوں نے پی ڈی ایم اے سے

ہیلی کاپٹر کے ذریعے ہنگامی ریسکیو اپریشن کی اپیل کی ہے۔پنجاب کے متعدد علاقوں میں بھی بارشوں کا

سلسلہ جاری ہے۔ صادق آباد، تونسہ شریف، کوٹ ادو اور ملتان سمیت متعدد شہروں میں بھی بارشوں کا سلسلہ

جاری ہے۔ ملتان اور گردو نواح میں بونداباندی کے ساتھ سرد ہوائیں بھی چل رہی ہیں۔مری میں بھی برفباری کا

سلسلہ جاری ہے جس سے سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا ہے۔ محکمہ موسمیات نے مری اور بالائی علاقوں

میں برف باری کا سلسلہ وقفہ وقفہ سے تین دن تک جاری رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔محکمہ موسمیات نے

سوموار تک ملک بھر میں بارشوں کی پیش گوئی کی ہے۔

Please follow and like us:

Leave a Reply