175

غیرریاستی عناصر کے خلاف کارروائی کا ارادہ رکھتے ہیں،شاہ محمود قریشی

Spread the love

بھارتی پائلٹ کو رہا کرنے کے لیے کوئی دبائو تھا اور نہ ہیمجبوری، انہیں یہ پیغام دینا چاہتے تھے ہم آپ کے شہریوں سے بدسلوکی نہیں چاہتے
پاکستان کی حکومت کسی ملیشیا یا کسی جنگجوتنظیم کو ہتھیاروں کے استعمال اوران کے ذریعے دہشتگردی کے پھیلائو کی اجازت نہیں دیگی
پاکستان امن اوراستحکام چاہتا ہے، صورتحال اب بھی سنگین ہے، دونوں ممالک کی فضائیہ متحرک اور ہم ہائی الرٹ پر ہیں، پروازیں بند ہیں
مذاکرات ہی آگے بڑھنے کی دانشمندانہ راہ ہے ، بھارتی وزیراعظم نے ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا، محسوس ہوتا ہےمودیدبائو کا شکار ہیں
بھارتی میڈیا کا ایک حصہ نہایت غیرذمہ دارانہ کردار ادا کررہا ہے، وہ جنگ بھڑکا رہے ہیں، بھارتی میڈیا خطے میں خطرناک کھیل کھیل رہا ہے،انٹرویو

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان پر بھارتی پائلٹ کو رہا کرنے کے لیے نہ تو کوئی دبائو تھا اور نہ ہی کوئی مجبوری، ہم انہیں یہ پیغام دینا چاہتے تھے کہ ہم آپ کے دکھ میں اضافہ نہیں چاہتے، ہم آپ کے شہریوں سے بدسلوکی نہیں چاہتے، ہم توامن چاہتے ہیں جبکہ ہم غیرریاستی عناصر کے خلاف کارروائی کا ارادہ رکھتے ہیں۔

شاہ محمود قریشی نےغیرملکی خبررساںادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی حکومت کسی ملیشیا یا کسی جنگجوتنظیم کو ہتھیاروں کے استعمال اوران کے ذریعے دہشت گردی کے پھیلا ئو کی اجازت نہیں دے گی ۔ اگرکوئی گروپ ایسا کرتا ہے تو پاکستان کی حکومت ان کے خلاف کارروائی کا ارادہ رکھتی ہے جبکہ پاکستان غیرریاستی عناصر کو ملک اورخطے کے امن کو خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہیں دے گا۔

انہوںنے کہا کہ پاکستان پر بھارتی پائلٹ کو رہا کرنے کے لیے نہ تو کوئی دبا ئوتھا اور نہ ہی کوئی مجبوری، ہم انہیں یہ پیغام دینا چاہتے تھے کہ ہم آپ کے دکھ میں اضافہ نہیں چاہتے، ہم آپ کے شہریوں سے بدسلوکی نہیں چاہتے، ہم توامن چاہتے ہیں جب کہپاکستان چاہتا ہے کہ خطے کے امن کو سیاست کی نظرنہ کیا جائے۔ انہوںنے کہا کہ پاکستان امن اوراستحکام چاہتا ہے، صورتحال اب بھی سنگین ہے، دونوں ممالک کی فضائیہ متحرک اور ہم ہائی الرٹ پر ہیں، پروازیں بند ہیں، امید ہے کہ بھارتی صورتحال کا ادراک کریں گے، ہم نے بھارت سے کہا کہ آئیے بات کرتے ہیں، مذاکرات ہی آگے بڑھنے کی دانشمندانہ راہ ہے ، بھارتی وزیراعظم نے ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا، محسوس ہوتا ہے کہ نریندر مودی بہت شدید دبائو کا شکار ہیں، ہم ہمسائے اور جوہری قوت ہیں، کیا ہم جنگ کے متحمل ہوسکتے ہیں؟ یہ خودکشی ہوگی۔

وزیرخارجہ شاہ محمود نے پلوامہ میں دہشت گرد حملے کی ذمہ داری قبول کرنے والی تنظیم جیش محمد کے بارے میں کہا کہ ہر معاشرے میں شدت پسند عناصرہوتے ہیں، کیا بھارت میں ایسے عناصرنہیں ہیں، گجرات میں جو کچھ ہوا، کس نے کیا، کس کی ایما پر ہوا۔انہوں نے کہا کہ کیا ایک دوسرے پر میزائل چلا کر مسائل حل ہوسکتے ہیں؟ ہرگز نہیں، صرف بات چیت سے ایسا ہوسکتا ہے، ابھی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ جیش محمد پلوامہ واقعہ میں ملوث ہے، ہم نے تنظیم کالعدم قراردی، بہاولپور میں نام نہاد مرکزی دفتر کو پنجاب حکومت نے اپنے قبضے میں لے لیا، بھارتی دعوی کررہے تھے کہ یہاں تربیتی کیمپ ہے، سارے میڈیا اور دنیا نے خود حقیقت دیکھ لی کہ ایسا نہیں جب کہ تنظیم کے لوگ اس سے انکار کررہے ہیں، اس پر متضاد اطلاعات ہیں۔

انہوںنے کہا کہ بھارت نے دعوی کیا تھا کہ اس نے تین کیمپوں کو نشانہ بنایا، وہ کہاں ہیں؟ ساڑھے تین سو لاشیں کہاں ہیں، دعوی تھا کہ 25 منٹ تک فضائی حدود کی خلاف ورزی کی، یہ بھی سچ نہیں نکلا، خود بھارت میں لوگ یہ ماننے کو تیار نہیں۔انہوںنے کہا کہ بھارتی میڈیا کا ایک حصہ نہایت غیرذمہ دارانہ کردار ادا کررہا ہے، وہ جنگ بھڑکا رہے ہیں، بھارتی میڈیا خطے میں خطرناک کھیل کھیل رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ماضی میں نہیں جانا چاہتا لیکن اگرماضی میں گئے توپھریہ بھی دیکھنا پڑے گا کہ پارلیمنٹ پر حملہ کیسے ہوا، پٹھان کوٹ اوراڑی میں کیا ہوا جو ایک لمبی داستان ہے۔ اگرہمیں جیش محمد کی شدت پسندانہ کارروائیوں کے بارے میں شواہد دئیے گئے تو کارروائی ہوگی، جس کی پیش کش کی جاچکی ہے۔

اگر بھارت نے پاکستان کی بات غور سے سمجھی ہوتی توصورتحال یہ نہ ہوتی۔ انہوںنے کہا کہ روسی وزیر خارجہ نے ثالثی کی پیشکش کی ہے،انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان بات چیت کے لئے ہم پلیٹ فارم مہیا کرنے پر آمادہ ہیں، ہم اس پیشکش پر آمادہ ہیں، بھارت اپنا فیصلہ کرسکتا ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ نے اس معاملے میں اپنے کردار کی پیشکش کی، چین اور یورپی یونین بھی کردار ادا کررہے ہیں جب کہ امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے بہت مثبت بات کی ہے، میں اس پر ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں