190

25 فروری کے واقعات ایک نظر میں

Spread the love

واقعات

1925ء – جاپان اور سوویت یونین کے درمیان سفارتی روابط کا قیام

1945ء – جنگ عظیم دوم : ترکی کا جرمنی سے اعلان جنگ

1948ء پاکستان میں اردو زبان کو سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا

1988ء – جنوبی کوریا میں آئین کانفاذ

2008ء – کوسوو نے سربیا سے آزادی کا اعلان کیا

1985ء – پاکستان میں غیر جماعتی انتخابات منعقد ہوئے۔

2008ء – راولپنڈی میں خودکش حملہ، میڈیکل کور کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل مشتاق بیگ سمیت 8 ہلاک، 30 زخمی۔

2009ء – پاکستان کے صوبے پنجاب، پاکستان میں گورنر راج فافذ کر دیا گیا گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے صوبے کی باگ ڈور سنبھال لی

2009ء – پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف اور ان کے بھائی میاں شہباز شریف کو سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے نا اہل قرار دے دیا

ولادت

1643ء – احمد ثانی، عثمانی سلطان، 1691ء سے 1695ء تک سلطنت عثمانیہ کے فرمانروا تھے۔ وہ سلطان ابراہیم اول کے صاحبزادے تھے اور اپنے بھائی سلیمان ثانی کی جگہ تخت سلطانی پر جلوہ افروز ہوئے۔ مصطفٰی کوپریلی کا بطور صدر اعظم انتخاب احمد ثانی کے مختصر دورِ حکومت کا بہترین قدم گردانا جاتا ہے۔ احمد کے سلطان بننے کے چند ہفتوں بعد ہی سلطنت عثمانیہ کو لوئس ولیم کی زیر قیادت آسٹریا کے ہاتھوں جنگ سلانکامن میں بدترین شکست سے دوچار ہونا پڑا اور یوں عثمانی ہنگری سے نکال باہر کر دیے گئے۔ چار سالہ دور حکومت میں شکست در شکست کے بعد احمد ثانی غم و اندوہ اور بیماریوں کا شکار ہو کر چل بسا۔

1888ء – جان فوسٹر ڈلس، امریکی فوجی، وکیل اور سیاست دان

1894ء – مہر بابا، ہندوستانی روحانی ماسٹر

1938ء – فاروخ انجینئر، بھارتی کرکٹ کھلاڑی اور ریفری

1953ء شیخ ڈاکٹر احمد بن سعید اللدن الراشانی ایک مسلمان عالم، مصنف، خطاط اور لبنان کے مفکر تھے۔ انہوں نے لبنانی جمہوریہ کے سابقہ مفتی شیخ محمد رشید قابانی کے بعد2011ء میں مفتی کا عہدہ سنبھالا تھا، اس عہدے پر وہ 1 جنوری 2018ء اپنی وفات کے دن تک خدمات سر انجام دیتے رہے۔

1965ء دانیال عزیز چودھری، پاکستانی سیاستدان مشرف دور حکومت میں ڈکٹیٹر پارٹی نمائندہ کے طور پر سامنے آئے اور کابینہ میں شامل ہوئے جب مسلم لیگ (ق) تنزلی کا شکار ہوئی تو فوری طور پر برسر اقتدار پارٹی مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کر لی اور جیسے مشرف کے قصائد بیان کیا کرتے تھے اسی طرح نواز شریف کی خوب وکالت کی 2013 کے الیکشن کے نتیجے میں نارووال سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہر قسم کی کوشش کرنے کے باوجود بھی ان کو کوئی وزارت نہیں ملی۔

1968ء شجاعت بخاری ایک کشمیری صحافی اور سری نگر کے اخبار روشن کشمیر کے مدیر تھے۔ شجاعت ادبی مرکز کامراز کے صدر تھے، یہ کشمیر کی ثقافتی اور ادبی تنظیم ہے۔ انہوں نے کئی کشمیر امن کانفرنسیں منظم کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا اور پاکستان کے ساتھ ٹریک ٹو ڈپلومیسی کا حصہ بھی رہے۔ 14 جون 2018ء کو سرینگر کے پریس انکلیو علاقے میں ان کے دفتر کے باہر نامعلوم افراد نے ان کو فائرنگ کر کے مار ڈالا۔اس سے قبل بھی ان پر تین پر قاتلانہ حملہ ہو چکا تھا، جن میں وہ محفوظ رہے۔

1976ء – رشیدہ جونز، امریکی اداکارہ، پروڈیوسر

وفات

1950ء – جارج مانٹ، امریکی معالج

1971ء – تھیوڈر سویڈبرگ، سویڈش کیمسٹ

1981ء ماہر غالبیات، محقق، مصنف اور مہتمم کتب خانہ رام پور تھے۔غالب کا دیوان مرتب کیا اور نسخہ عرشی کو معیار تسلیم کیا گیا ہے۔

1983ء – ٹینیسی ولیمز، امریکی ڈراما نگار، شاعر

1999ء – گلین ٹی سی بورگ، امریکی کیمسٹ

2001ء – ڈونلڈ بریڈمین، آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے ایک کرکٹر تھے جنہیں کرکٹ کی تاریخ کا عظیم ترین کھلاڑی مانا جاتا ہے۔[5] وہ آسٹریلیا کی تاریخ کے مشہور ترین کھلاڑیوں میں سے ایک تھے۔ ان کا بلے بازی کا اوسط 99.94 تھا جسے کسی بھی بڑے کھیل میں اعداد و شمار کے لحاظ سے عظیم ترین کارکردگی سمجھا جاتا ہے۔ اس کا تقابل اس سے کیا جا سکتا ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ میں ان کے بعد بہترین اوسط 75.56، 60.97 اور 60.83 ہیں۔ اس طرح بلے بازی کے اوسط میں ان کا کوئی دور دور تک مد مقابل نہیں دکھائی دیتا۔ 1948ء میں آسٹریلیا کے دورۂ انگلستان کے آخری ٹیسٹ میں اگر وہ 4 رنز بنانے میں کامیاب ہو جاتے تو آج ان کا اوسط 100 رنز ہوتا لیکن بدقسمتی سے وہ صفر پر آؤٹ ہو گئے اور یوں ان کا اوسط 99.94 فیصد ہے۔ 1949ء میں آپ کو “سر” کا خطاب دیا گیا اور 1979ء میں آسٹریلیا کے اعلیٰ ترین شہری اعزاز کمپینین آف دی آرڈر آف آسٹریلیا سے نوازا گیا۔ 2000ء میں بریڈمین کو ماہرین نے وزڈن کی صدی کے بہترین کھلاڑیوں کی فہرست میں شامل کیا، بریڈمین واحد کھلاڑی تھے جسے ماہرین کے گروہ کے تمام 100 اراکین نے منتخب کیا تھا۔

2005ء – پیٹر بیننسن، انگریز وکیل

2016ء۔ حبیب معروف پاکستانی اداکار۔ وہ اچھے فلمی اداکار ہونے کے ساتھ ساتھ ڈائریکٹر، پروڈیوسر اور ٹی وی فنکار بھی تھے۔ اپنے دور میں وہ کامیاب اور معروف ترین فلمی ہیروز میں شمار ہوئے۔ انہوں نے پنجابی اور اردو فلموں میں یکساں مہارت کے ساتھ اپنے فنی جوہر دکھائے۔ حبیب کا شمار فلم انڈسٹری کے چند تعلیم یافتہ فنکاروں میں ہوتا تھا۔ انہوں نے تین مضامین انگلش، اردو اور فارسی میں ایم اے کیا ہوا تھا۔ پہلے انہوں نے ایریگیشن ڈپارٹمنٹ اور بعد ازاں سول ایوی ایشن میں بھی ملازمت اختیار کی۔ ان کے دو بھائی حفیظ الرحمن اور ریاض الرحمن آرمی میں تھے جس کی وجہ سے وہ خود بھی فوج میں جانے کے خواہش مند تھے۔ وہ پائلٹ بننے کے لیے ایٔرفورس میں بھی گئے لیکن ٹیسٹ پاس نہ کر سکے۔ حبیب حادثاتی طور پر فلم انڈسٹری میں آئے تھے۔وہ 26 نومبر 1929ء کو موجودہ مشرقی پنجاب کے شہر پٹیالہ میں پیدا ہوئے۔

تعطیلات و تہوار

1961ء کویت کا قومی دن

فلپائن میں عوامی دن

اپنا تبصرہ بھیجیں