177

عالمی برادری خطے سمیت دنیا کو تباہی سے بچانے کیلئے مسئلہ کشمیر حل کرانے میں مزید تاخیر نہ کرے، سید صلاح الدین

Spread the love

حکومت پاکستان معذرت خواہانہ حکمت عملی کے بجائے ،ایک جارحانہ سیاسی و سفارتی حکمت عملی اختیار کرکے عالمی برادری کو یہ مسئلہ حل کرانے پر مجبور کرے

متحدہ جہاد کو نسل کے چیر مین کا انٹرویو

سرینگر (کے پی آئی) حزب سربراہ اور متحدہ جہاد کو نسل کے چیر مین سید صلاح الدین نے جموں و کشمیر اور بیرون ریاست کشمیریوں کے ساتھ روا رکھے جارہے سلوک کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے اپیل کی کہ انہیں مسئلہ کشمیر حل کرانے میں دیرنہیں کرنی چاہئے۔

مسئلہ کشمیر کے حل میں مزید تاخیر سے پورا خطہ کے علاوہ دنیا تباہی کی لپیٹ میں آسکتی ہے، یہاں مقامی میڈیا میں شائع ایک انٹرویو میں سیدصلاح الدین نے کہا کہ پلوامہ حملے کی آڑ میں کئی ریاستوں میں ہندو بلوائیوں کو کشمیریوں کے خلاف حملے کرنے، ان پر تشدد کرنے اور ان کی زندگیوں کو منصوبہ بند حکمت عملی کے تحت غیر محفوظ بنانے کی کو ششوں کا بھر پور مظاہرہ کیا جارہا ہے۔

ایک طرف کشمیریوں کے ساتھ یہ سلوک روا رکھا جارہا ہے اور دوسری طرف عالمی برادری خاموشی سے یہ تماشادیکھ رہی ہے۔ جہاد کونسل چیئرمین نے کہا کہ جب ظلم حد سے بڑھ جاتا ہے اور مظلوم قوم کو احساس ہوجاتا ہے کہ ان کی جائز آواز سننے کے بجائے، اسے دبانے کے نیچ حربے اختیار کئے جاتے ہیں تو ان حالات میں ہی عادل ڈار جیسے نفوس جنم لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر پوری کشمیری قوم عادل ڈارکے نقش قدم پر جانے کا ارادہ رکھتی ہے تو یہ بلا جواز نہیں۔

صلاح الدین نے واضح کیا کہ اگر مسئلہ کشمیر کا حل کشمیری عوام کی امنگوں اور آرزئوں کے مطا بق نہ ہوا تو یہ چنگاری نہ صرف اس پورے خطے بلکہ پوری دنیا میںخرمن امن کو خا کستر کرسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھارت کی ہٹ دھرمی اور نہتے کشمیری عوام پر ظلم و تشدد کا نتیجہ ہی ہے کہ کشمیری عوام انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ حزب سربراہ نے سکھ برادری کاخراج تحسین پیش کیا جو اس وقت اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ یکجہتی اور بھائی چارے کی ایک نا قابل فراموش تاریخ رقم کررہے ہیں۔

انہوں نے اْن بھارتی رہنمائوں ،دانشوروں کا بھی شکریہ ادا کیا جو ان حالات میں بھی سرکار کو آئینہ دکھا رہے ہیں۔سید صلاح الدین نے حکومت پاکستان کو بھی مشورہ دیا کہ وہ عالمی برادری کو کشمیریوں پر ہورہے بھارتی مظالم سے آگاہ کرے اور معذرت خواہانہ حکمت عملی کے بجائے ،ایک جارحانہ سیاسی و سفارتی حکمت عملی اختیار کرکے عالمی برادری کو یہ مسئلہ حل کرانے پر مجبور کرے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں