161

مقبوضہ کشمیر میں میڈیا کا گھلا گھوٹنے کی کوشش،گریٹر کشمیر اور کشمیر ریڈر کے اشتہارات بند

Spread the love

ایڈیٹرس گلڈ کی ہنگامی میٹنگ، معاملہ پریس کونسل آف انڈیااورایڈیٹرس گلڈ آف انڈیا کیساتھ اٹھانے کا فیصلہ

سرینگر(کے پی آئی ) مقبوضہ کشمیر میں کشمیرایڈیٹرس گلڈ نے ریاست کے سرکردہ انگریزی روزنامہ گریٹر

کشمیر اور کشمیر ریڈر کو سرکاری اشتہارات بند کرنے کے اقدام پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے

کہ میڈیا کا گلا گھوٹنے کی کوششوں کا مقابلہ کیا جائیگا۔ بیان کے مطابق ابھی تک متعلقہ اداروں کو ناہی اس

فیصلے سے رسمی طور ا?گاہ کیاگیا اور نہ ہی اس کی وجوہات بتائی گئیں۔کشمیرایڈیٹرس گلڈ نے ایک تفصیلی

میٹنگ میں اس معاملے پر غور کیا اور ریاست میں ذرائع ابلاغ کا دانستہ گلا گھونٹنے اور تباہ کرنے کی

کوششوں کا مقابلہ کرنیکافیصلہ کیاگیا۔اس وقت جبکہ جمہوریت معطل ہے ،کشمیرایڈیٹرس گلڈ پریس کونسل آف

انڈیا اور ایڈیٹرس گلڈ آف انڈیاکی توجہ اس جانب مبذول کرارہا ہے تاکہ وہ قانونی،اخلاقی اور پیشہ ورانہ منڈیٹ

کااستعمال کرکے اس معاملے میں مداخلت کرے اور اس بات کویقینی بنائیں کہ اس حساس ریاست میں ذارئع

ابلاغ کا گلا نہ گھونٹا جائے۔ گلڈ نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ کونسل میں جائے گااورایڈ یٹرس گلڈ آف انڈیا کو بھی

اس سے آگاہ کرے گا۔گلڈ نے اس حقیقت کو دہرایاکہ کشمیر میں ذرائع ابلاغ کافی زیادہ پیشہ ورانہ ہے اور اپنی

جانوں پر کھیل کربھی اس نے غیرجانبداری کو ہاتھ سے جانے نہیں دیا اور ایسا کرنا جاری رہے گا۔ کشمیر

کے ذرائع ابلاغ کی پیشہ ورانہ مہارت کو عالمی سطح پر تسلیم کیاجاچکاہے۔پریس کونسل ٓف انڈیا نے بھی

2018کی ایک تفصیلی رپورٹ میں کشمیر میں ذارئع ابلاغ کو درپیش مشکلات اور چیلنجوں کا ذکر کیا ہے۔اْس

نے رپورٹ میں ذرائع ابلاغ کے بارے میں چند غلط فہمیوں کا بھی ازالہ کیا۔ گلڈ اس بات کو دہرانا چاہتا ہے کہ

ذرائع ابلاغ کاگلا گھونٹنے کی کوششیں اْس سلسلے کاحصہ ہیں جو گزشتہ زائداز تیس سال سے جاری ہے

اورجس میں کشمیر کے میڈیا نے 13صحافیوں کو کھویا ہے اور متعدد پرنٹنگ پریس ضبط کئے گئے اور بے

شمار کیس درج کرنے کا عمل جاری ہے۔یہ جموں کشمیر میں میڈیانظام کے قواعد وضوابط کے چیستانی

اورمعماتی عمل کی مہربانی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ گلاگھونٹنے کی یہ کوشش اْ سوقت کی گئی جب ذرائع

ابلاغ عمومی طور اور خاص طور سے کشمیر میڈیا،سوشل میڈیا سے نبردآزما ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا

جائے کہ افواہوں سے مبرا سچ کو سامنے لایا جائے۔کشمیرمیں افواہ بازی عام ہے جو عادتاًحقائق پر غالب آتی

ہے۔حکومت کو اس صورتحال میں مداخلت کرکے رپورٹنگ کے معیار کو بلند کرنے کیلئے مدد کرنی چاہیے

تھی۔اس کے بجائے اْس نے اِ سکے برعکس کیا۔ اس بات کاتذکرہ بھی یہاں لازمی ہے کہ وسائل کے محاذ پر

کشمیر کاذرائع ابلاغ بھی اْسی مریضانہ حالت کاشکار ہے جس سے یہاں کی مجموعی اقتصادیات دوچار ہیں۔اس

صورتحال میں منفی مداخلت کاواضح مقصدمیڈیا کے ادارے کوسنگ دلی کے ساتھ مارناہے۔ان دواداروں کو

ضرب لگانے سے کشمیرمیں دونوں صحافت اورصحافیوں پر اثر پڑے گا۔کشمیرایڈیٹرس گلڈ نے گورنر کی

سربراہی میں ریاستی حکومت اور اس کے پالیسی سازوں پر واضح کیا ہے کہ میڈیا کے ساتھ منفی مداخلت،

آئین ہند اورریاست و ریاست کے باہر ذرائع ابلاغ کو آئین کے تحت دی گئی ضمانتوں کے خلاف ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں