281

کلبھوشن کیس میں بھارتی مطالبہ مسترد کیا جائے، پاکستان کا عالمی عدالت میں مؤقف

Spread the love

ہیگ (مانیٹرنگ ڈیسک )پاکستان نے عالمی عدالت سے بھارتی خفیہ ایجنسی ‘را’ کے جاسوس کلبھوشن

جادیو سے متعلق کیس میں بھارت کا ریلیف کا مطالبہ مسترد کرنے کی درخواست کر دی۔عالمی عدالت

انصاف میں کلبھوشن کیس کی سماعت کے آخری دن پاکستان کے وکیل خاور قریشی نے اپنے دلائل

مکمل کیے۔پاکستانی وکیل خاور قریشی نے عالمی عدالت میں مؤقف اپنایا بھارت نے پاکستان کے دلائل

کا جواب نہیں دیا اور بھارتی وکیل نے غیر متعلقہ باتوں سے عدالتی توجہ ہٹانے کی کوشش کی۔بھارتی

وکیل نے عدا لت میں میرے الفاظ سے متعلق غلط بیانی سے کام لیا، مجھے کسی چیز کے اضافے کی

ضرورت نہیں، حقائق خود بولتے ہیں۔انہوں نے پاکستان کی جانب سے بھارت سے اٹھائے گئے سوالات

کی تفصیل عدالت میں پیش کر دی۔2008 کے معاہدے کے سوال پر بھارت نے جواب نہیں دیا اور نہ

ہی کلبھوشن جادیو کے اغوا کی کہانی پر کوئی جواب دیا گیا ۔ بھا ر ت کو چیلنج کرتا ہوں وہ برطانوی

رپورٹ کے حقائق میں کسی خامی کی نشاندہی کرے۔انہوں نے کہا بھارت کا کہنا ہے یہ کیس صرف

قونصلر رسائی کا ہے جبکہ بھارت اس بات پر کوئی جواب نہیں دے رہا کہ جاسوس کو کیسے قونصلر

رسائی دی جائے، اٹارنی جنرل نے بھارتی عدالتی نظام میں خامیوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا

بھارتی عدالتی نظام میں خامیوں کی بیسیو ں مثالیں موجود ہیں جبکہ پشاور ہائیکورٹ نے 72 افراد کو

کم شواہد کی بنا پر بری کیا۔ کلبھوشن جادیو کے خلاف جاسوسی کے قابل ذکر ثبوت موجود ہیں،

پاکستان میں کسی بھی عدالت کے فیصلے کیخلاف نظرثانی کا مؤثر نظام ہے۔پاکستان کے پاس 2008

کے معاہدے کے تحت قونصلر رسائی نہ دینے کی وجوہات ہیں، کلبھوشن کو وکیل مقرر کرنے کا موقع

دیا لیکن اس نے ان ہاؤس آفیسر کی خدمات کو ترجیح دی۔ بھارت ایسا ریلیف مانگ رہا ہے جو یہ

عدالت دے نہیں سکتی، کلبھوشن جادیو کیخلاف پولیس کے پاس باقاعدہ ایف آئی آر درج ہے ۔ اٹارنی

جنرل نے کہا بھارت کا کلبھوشن جادیو کیس میں ریلیف کا مطالبہ مسترد کیا جائے۔



اپنا تبصرہ بھیجیں