213

بھارتی وکیل عالمی عدالت میں کلبھوشن سے متعلق سوالات کے جواب دینے میں ناکام

Spread the love

کلبھوشن کا پاسپورٹ اصلی ہے برطانوی فرانزک رپورٹ

کلبھوشن بھارتی نیوی سے کب ریٹائر ہوا ،جعلی پاسپورٹ پر 17بار پاکستان کیوں آیا اور کیا کرتا رہا ؟

بھارتی وکیل نے کسی سوال کا جواب دیا نہ ثبوت،صرف قونصلر رسائی نہ دینے پر بات کرتا رہا،

سماعت 21فروری تک جاری رہے گی، ترجمان دفتر خارجہ پاکستانی وکلاء کی ٹیم اٹارنی جنرل کی سربراہی میں عدالت میں موجود رہی، آج کلبھوشن کی تخریب کاری سے متعلق شواہد عالمی عدالت انصاف میں پیش کئے جائیں گے،

(مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں،صرف اردو ڈاٹ کام) پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں رنگے ہاتھوں پکڑے جانے والے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے کیس کی سماعت ہالینڈ کے شہر دی ہیگ میں عالمی عدالت انصاف میں گذشتہ روز آج منگل تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستانی ایڈہاک جج جسٹس (ر) تصدق جیلانی کی دوران سماعت اچانک طبیعت خراب ہوئی جس کے بعد ان کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔پیر کی سماعت میں بھارت کیس کے میرٹ پر بات کرنے کی بجائے قونصلر رسائی پر بات کرتا رہا، دئیے گئے وقت میں بھارتی وکیل نے آدھا وقت قونصلر رسائی نہ دینے کے حوالے سے دلائل میں گزار دیا۔

بھارتی سینئر وکیل ہریش سالوے دلائل کی بجائے مفروضے بیان کرتا رہا۔موصولہ اطلاعات کے مطابق عدالت میں بھارت کی جانب سے کلبھوشن یادیو کیس میں واویلا کیا گیا۔ بھارتی وکیل نے دہشت گرد کلبھوشن کا کیس فوجی عدالت میں چلنے کا نکتہ اٹھایا تاہم وہ عدالت میں پاکستان کے سوالوں کا جواب نہیں دے سکا۔ قبل ازیں عالمی عدالت انصاف کے 15 رکنی بینچ نے یادیو کیس کی سماعت کی، ججز کے بینچ میں ایک بھارتی جج دلویر بھی موجود تھا۔ واضح رہے کہ گذشتہ روز بھارتی وکلا کو اپنے دلائل پیش کرنے تھے، جب کہ آج منگل 19 فروری 2019 کو پاکستان جوابی دلائل دے گا۔

پاکستان کی طرف سے اٹارنی جنرل انور منصورخان، پاکستانی وکیل خاور قریشی، ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹرمحمد فیصل اور قانونی ٹیم عدالت میں موجودرہی۔ پاکستان کی جانب سے 6 سوالات اٹھائے جا چکے ہیں، جن میں سے سرِ فہرست یہ سوال ہے کہ دہشت گرد کمانڈر کلبھوشن کب نیوی سے سبک دوش ہوا، کلبھوشن کو بھارتی اصلی پاسپورٹ مسلمان کے نام سے کیوں بنا کر دیا گیا، جس پر وہ 17 مرتبہ بھارت گیا۔ دریں اثناترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا ہے کہ بھارت نے کلبھوشن یادیو کیس میں گذشتہ روز پیش کیے جانے والے بھارتی دلائل میں کوئی نئی بات نہیں تھی۔

بھارت نے ہمارے اعتراضات پر جواب نہیں دیا جبکہ اس بات کا جواب ابھی تک نہیں دیا کہ اس کے پاس حسین مبارک پٹیل کا پاسپورٹ کہاں سے آیا اور سترہ بار سفر کس طرح کیا؟ان کا کہنا تھا کہ کلبوشن یادیو پاکستان میں کیا کر رہا تھا؟ بھارت نے جواب نہیں دیا۔ اگر وہ ریٹائر تھا تو کب ہوا؟ کوئی ثبوت؟ کوئی پینشن بک کی کاپی؟ڈاکٹر فیصل کا کہنا تھا کہ ہندوستان بریت، رہائی اور کلبھوشن کی واپسی کا کہتا ہے لیکن اس بات کا جواب نہیں دیتا کہ کلبھوشن کی دہشت گردی کے باعث متاثرین کو انصاف کیسے ملے گابھارت عالمی عدالت کلبھوشن کی ریٹائرمنٹ کے ثبوت دینے میں ناکام رہا، کلبھوشن یادیو کو حسین مبارک پٹیل کے نام سے جاری پاسپورٹ پر بھی بھارت عدالت میں تسلی بخش جواب نہیں دے سکاسفارتی ذرائع کے مطابق برطانوی ادارے نے کلبھوش یادیو کا پاسپورٹ اصلی قرار دے دیا جب کہ پاکستان نے برطانوی ادارے کی رپورٹ عالمی عدالت میں پیش کر دی۔

برطانوی ادارے کی رپورٹ کے مطابق کلبھوشن کی جعلی شناخت کے لیے بھارت نے اصل پاسپورٹ جاری کیا۔ حسین مبارک پٹیل کے نام سے پاسپورٹ بھارتی حکومت کا جاری کردہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق کلبھوشن یادیو نے جعلی شناخت اپنا کر حسین مبارک کے نام سے سفر کیا۔ حسین مبارک پٹیل کا پاسپورٹ اصلی ہے تاہم شناخت جعلی ہے۔ پاکستانی وکلا بھارتی دلائل کے بعد آج منگل کو کلبھوشن کی تخریب کاری سے متعلق شواہد عالمی عدالت انصاف میں پیش کریں گے۔پاکستانی دلائل کے بعد 20 فروری کو ایک بار پھر بھارت کو اپنا موقف دوبارہ پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا جس کے بعد 21 فروری کو پاکستان اپنے حتمی دلائل دے گا۔عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن کیس کی سماعت 18 سے 21 فروری تک جاری رہے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں