طب یونانی کے تاریخی تدریجی ارتقاء کی کہانی: پروفیسر شمیم ارشاد اعظمی کی زبانی

Spread the love

جناب شمیم ارشاد اعظمی جامعہ طبیہ دیوبند سہانپور یوپی انڈیا میں بطور ایسوسی ایٹ پروفیسر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کا شمار ہندوپاک کے مایہ ناز استاذہ اور محققین میں ہوتا ہے ان کی یہ تحریر شعبہ طب یونانی کے لیے ایک اہم اور نایاب تحریر ہے ادارہ ان کا نہایت مشکور ہے کہ انہوں نے اپنا مضمون شامل اشاعت کرنے کی اجازت مرہمت فرمائی۔
دواسازی طب یو نانی کا ایک اہم اور بنیادی مضمون ہے۔ اس کا آغاز مصری طب سے ہوتاہے۔ مصری طبی بردی نوشتہ Eber’s papyrusجس کی تدوین ( 1660-1362BC) عمل میں آئی ہے اس میں نباتی، معدنی، حیوانی مآخذ کی700سے زائددواؤں کا تذکرہ ہے۔ اس نوشتہ میں مرکبات کا بھی استعمال کیا گیا ہے حتی بعض مرکب نسخہ35 اجزاء پرمشتمل ہے۔ اشکال ادویہ میں جو شاندہ، خیساندہ، تدخین، لخلخہ، غرغرہ، سفوف، ضماد( Poutlice )کا ذکر ہے۔ اس نوشتہ میں بیان کیے گئے بیشتر نسخے بے انتہا سادہ اور مفرد ہیں۔ آلات دوا سازی میں ہاون دستہ، لکڑی، اور گلاس کے استعما ل کاذکر ملتا ہے۔ اس کے علاوہ بابلی و آشوری طب اور چینی طبوں میں بھی دواسازی کے اصول و تراکیب بیان ہوئی ہیں۔ یو نانی طب میں شروع سے ہی دواسازی کو کافی اہمیت دی گئی ہے۔ جالینوس کے بیان کے مطابق بقراط دواؤں کوخودیا اپنی نگرانی میں تیار کرواتا تھا۔ عربی عہد میں دواسازی اپنے ارتقائی مراحل کو پہنچ چکی تھی۔بغداد، عراق اور قرطبہ میں درجنوں شفا خانے تھے جہاں ادویہ کی تیاری بہت ہی منظم اور عظیم پیمانہ پر کی جاتی تھی۔ بعض دواخانے ایسے تھے جہاںروزانہ سیکڑوں من شربت تیار کئے جاتے تھے، ایسے ہی دیگر اشکال ادویہ بھی بڑی مقدار میں تیار کی جاتی تھیں۔ آج طب یونانی میں دواسازی سے متعلق جو بھی تراکیب، اصول اور آلات استعمال کیے جاتے ہیں وہ سب کے سب عرب اطبا کی مرہون منت ہیں۔ یہ سچ ہے کہ سب سے پہلے عرب اطبا دواؤں کی ترکیب و ترتیب دینے کا سائنٹفک اصول وضع کیے او رعمل تقطیر، عمل تصعید، عمل تشمیع، عمل تحریق و تکلیس اور اس جیسے علم کیمیا کے بیشتراعمال کے ذریعہ دواسازی کے فن میں وسعت فرمائی۔ انیسویں صدی تک دواسازی تجارتی شکل اختیار نہیں کر پائی تھی۔ حکیم اجمل خاں کا قائم کردہ ہندوستانی دواخانہ (جس کا نام پہلے یونانی اینڈ ویدک میڈیسنز لمیٹڈ کمپنی تھا)1903 میں مشترکہ سر مایہ سے قائم کیا گیا تھا، یہ پہلا دوا خانہ تھا جو تجارتی نکتہ نظر سے قائم کیا گیا تھا، یہاں وسیع پیمانہ پر دوائیں تیار کیا جاتی تھیں۔ اس دواخانہ میں چھ سو سے زائد مرکبات تیار کیے جاتے تھے جن میں شربت مصفی، شربت صدر، اکسیر نسواں اور حب کبد کا شمار اس کمپنی کی مشہور دواؤں میں ہوتا تھا۔ یہ دوائیں صرف مرکبات کا مجموعہ نہ تھیں بلکہ یہ خاندان شریفی کے اطباء کی برسہابرس کی ریاضت اور کوششوں کا نتیجہ تھیں، جن کی تاثیر اور خواص پر خاندانِ شریفی کے اطباء کے مطب کی مہر تصدیق ثبت تھی۔ یہ دوائیں ان کے مجربات و مشاہدے کا نچوڑ تھیں۔ حکیم اجمل خاں نے ہندستانی دوا خانہ کو قائم کرکے خلق خدا کی خدمت کا جو عظیم کارنامہ انجام دیا ہے، اس کی نظیر ملنا مشکل ہے۔ اس سے قبل اطبا خود اپنی نگرانی میں دوائیں تیارکر واتے تھے جن کا استعمال مطب اور محدودمریضوں تک ہی ہوا کرتا تھا۔ ادویہ کی تیاری اور ترکیب ادویہ عطاروں کے سپر د تھی۔ بیسویں صدی کے آغاز سے ہی تجارتی دواساز اداروں کا قیام عمل میں آنا شروع ہو گیا تھا۔ اس سلسلہ میں حکیم عبد الحمید صاحب کے والد گرامی حکیم حافظ عبد المجید کا ہمدرد دواخانہ (دہلی)، حکیم کرم حسین (تجارہ) کادواخانہ، شمع آیورویدک اینڈیو نانی لیبارٹریز(دہلی) اورصدر دواخانہ (دہلی) قابل ذکر ہیں۔ آزادی کے بعد یونانی دواسازی نے صنعت کی شکل اختیار کر لی۔ اب ادویہ کی تیاری عطارخا نوں سے نکل کر خانوں تک پہنچ چکی ہیں۔ ہندوستان سے باہر ہمدرددواخا نہ کی مصنوعات نے کافی شہرت اور مقبولیت حاصل کی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ عالمی سطح پر فارمیسی کی دنیا میں ہمدرد (ہند و پاک) نے جو شہرت اور مقام پیدا کیا وہ ہمدرد دوا خانہ کی مرہون منت ہے، افسوس کہ طب کا یہ قدیم اور قیمتی اثاثہ بے اعتنائی کا شکار ہے۔ آزاد ہندوستان میں دواخانہ طبیہ کالج، مسلم یو نیورسٹی علیگڑھ، ہمدرد کے بعد غالباً پہلا دواسازادارہ ہے جس نے یونانی دواسازی پرخصوصی توجہ دی۔ یہ دواخانہ حکیم عبداللطیف فلسفی کی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ فلسفی صاحب نے دوا کی تیاری اور مصنوعات کا جو اعلیٰ معیار مقرر کیا تھا الحمد للہ اس پر آج بھی یہ دوا خانہ عمل پیرا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عصر حاضر میں دواخانہ طبیہ کالج علیگڑھ کی مصنوعات اطباء کی پہلی ترجیحات میں شامل ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ یو نانی دواسازی اور اس کے آلات و اصول میں وقت کے لحاظ سے ترمیم و تبدیلی نہیں کی گئی، برسوں سے جو اصول اور آلات رائج تھے وہی بعینہ آج بھی مروج ہیں۔ یقیناً یہ آلات اس زمانہ میں دواسازی کی دنیا میں ایک اہم انکشاف کی حیثیت رکھتے تھے لیکن آج بہت کچھ تبدیل ہو چکا ہے۔ دواسازی کے اندر بہت سارے نئے آلات ایجاد ہو چکے ہیں، ان سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔ طریقہ تیاری کو سائنٹفک بنیاد پر زیادہ معیاری بنا دیا گیا ہے۔ یونانی دواسازی میں موجودہ سائنسی انکشافات اور آلات سے بے خبری اور بے نیازی نے یونانی دواسازی کے معیار کو بہت بلند نہیں ہونے دیا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ دواسازی کے جدید طریقہ سے فائدہ اٹھایا جائے اور ان ادویہ کی افادیت بھی سائنسی اصول پر تسلیم کرائی جائے۔ دواسازی کے طریقے جو بہت مجہول، مشکل اور دشوار گزار ہیں ان کی جگہ جدید طریقہ دواسازی سے استفادہ کرتے ہوئے، انہیں آسان بنایا جائے۔ جیسے کی کشتہ بنانا۔ کشتہ سازی ایک مشکل امر ہے اور سخت محنت کا متقاضی ہے نیز اس میں وقت بھی بہت زیادہ سرف ہوتا ہے۔ کشتہ سازی کے لئے مٹی کا برتن حاصل کرنا، ان کا بوتہ بنانا، پھر اس پر گل حکمت کرنا اس کے بعد اسے آگ کے اندر رکھنا۔ اس کے بعد اپلوں کی دستیابی ایک مشکل مرحلہ ہے۔ اپلوں میں یکسانیت ہو، وزن میں، شکل میں نیز ہر اپلہ ایک جیسا سوکھا ہوا ہو۔ اس کے بعد ایسی جگہ کا انتخاب کیا جائے جہاں پر ہوا کا گزر بہت کم ہو، تاکہ اپلے بہت جلدنہ جل جائیں اور کشتہ خام رہ جائے۔ آج کل کشتہ سازی میں برقی بھٹیاں (Muffle Furnace ) کا سہا را لے کر اس کے ذریعہ آسانی سے کشتہ تیار کیا جا سکتا ہے۔ بوتہ کی جگہ چینی مٹی کی پیالیاں (Crucible ) آتی ہیں، اس میں دوا کو رکھ کر مفل فرنیس میں رکھ کر حرارت کو متعین کر دیں۔ یہ ایک آسان طریقہ تیاری ہے اور کشتہ بھی نہایت عمدہ قسم کا تیار ہوتا ہے۔ قرع انبیق کے اندر جدت پیدا کرکے زیادہ بہتر اور معیاری قسم کے عرقیات حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ سفوف کر نے کے لیے ہاون دستہ، کھرل اور سل بٹہ کی جگہ مختلف قسم کے برقی گرائنڈر بازار میں دستیاب ہیں جن کی مدد سے بہت ہی کم وقت میں سخت سے سخت ادویہ کو زیادہ مقدار میں سفوف بنایاجاسکتاہے۔ ہندوستان میں قریب پچھلی تین دہائیوں سے یونانی دواسازی ادارے کثرت سے وجود میں آئے ہیں۔ ایک اندازہ کے مطابق دو سو سے زائد چھوٹے بڑے دواساز ادارے قائم ہیں۔ یہ ادارے ڈرگس اینڈ کاسمیٹکس ایکٹ کے مطابق ہی دوائیں تیار کر رہے ہیں۔ آج بیشتر ادارے GMP (Good Manufactring Practice ) کے حامل ہیں۔ یہ ادارے دواسازی کے معیار کو ترجیحی طور پر نظر میں رکھ کر دوائیں تیار کر رہے ہیں۔ یہ بہت ہی خوش آئند قدم اور قابل تعریف عمل ہے۔ بعض دوا ساز ادارے اجتہاد سے کام لیتے ہوئے دواؤں کی اشکال کو نئے رنگ و روپ میں پیش کر رہے ہیں۔ ہمدرد لیبارٹری نے خمیرہ کو ٹیبلیٹ کی شکل میں پیش کر کے دواسازی کی دنیا میں ایک نیا قدم بڑھایا ہے۔ نیو شمع لیبارٹریز، دہلی نے بھی آبریشم کو ٹیبلیٹ کی شکل میں پیش کیا ہے۔ دہلوی ریمیڈیز نے مختلف اشکال ادویہ کو ٹیبلٹ کی شکل میں پیش کیا ہے۔ لیمرا، دہلی نے جوشاندہ کو ’’ٹی بیگ‘‘ کی شکل میں پیش کیا ہے۔ ریکس ریمیڈیز، دہلی نے ہل ریکس کے نام سے پانی بوتل کو بازار میں پہلی بار متعارف کرایا ہے۔ اسی طرح پہلے کے نسبت پیکنگ کو بھی خوبصورت اور جاذبِ نظر بنانے کی کوشش کی جارہی ہے اور ساتھ ہی ساتھ اشتہارات کا سہارا لیا جارہا ہے، یقیناً یہ ایک مستحسن قدم ہے۔ دواسازی میں ایک بہت اہم چیز خالص و اصلی ادویہ (بنیادی اجزا) کی فراہمی ہے۔ عصر حاضر میں قیمتی ادویہ کی فراہمی ایک اہم مسئلہ ہے۔ کچھ دوائیں ایسی ہیں جن کا حصول اب ناممکن ہے جیسے دندان فیل، شیر کی چربی، مشک وغیرہ۔ کیونکہ حکومت نے مذکورہ جانوروں کے شکار پر پابندی لگا رکھی ہے۔ اسی طرح کچھ دوائیں ایسی ہیں جو تقریباً ناپید ہو چکی ہیں جیسے گل مختوم جو تریاق فاروق جیسی عظیم المنفعت ادویہ کا اہم جزو ہے، یہ اب بالکل ناپید ہے۔ آج ہی نہیں بلکہ حکیم اکبر ارزانی نے بھی اپنے زمانہ میں اس کے حصول کو ناممکن بتا یا تھا۔ اسی طرح کچھ دوائیں قیمتاً بہت مہنگی ہیں جیسے زعفران، مروارید، سونا، یاقوت وغیرہ۔ مرکبات کی تیاری میں افیون کا استعمال بکثرت ملتا ہے، لیکن اب اس کا حصول بغیر حکومت کی اجازت کے ناممکن ہے۔ لہٰذا مذکورہ صورتوں میں متبادل ادویہ کا استعمال کسی حدتک ضروریات کی تکمیل کر سکتا ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ بدل ادویہ اصل ادویہ کا کبھی مقابلہ نہیں کر سکتی ہیں۔ طب کی ایک اہم دوا جواہر مہرہ ہے۔ امراض قلب میں اس کی بہت اہمیت ہے۔ یہ حرکات قلب میں تحریک پیدا کرکے اس کے ضعف کو دور کرتا ہے۔ اس میں بکثرت جواہرات کا استعمال کیا گیا ہے۔ جیسے: یاقوت، یشب، فیروزہ، عقیق، زمرد، پکھراج، مروارید، زہر مہرہ خطائی، بسد،کہربا، شاخ مرجان، لاجورد،ورق طلا، ورق نقرہ وغیرہ۔ یہ ایسی قیمتی اور نایاب دوائیں جن کا حصول نہایت مشکل ہے۔ اگر دستیابی کی صورت نکل بھی آئی تو اس کا حصول ہر کس و ناکس کے لئے بہت مشکل ہوگا۔ ایسی صورت میں بدل ادویہ کی ضرورت کا احساس اور سوا ہو جاتا ہے۔ ایسا نہیں کہ یہ کوئی نیا عمل ہوگا، اس سے قبل بھی اطباء نے اپنی قرابادینوں میں جا بجا لکھا ہے کہ اگر فلاں جگہ نہ مل پائے تو فلاں دوا استعمال کریں یا فلاں دوا اس دوا کی قائم مقام ہے۔ راقم کی تحقیقی اداروں کے سربراہان اور طب کے ذمہ داروں سے گزارش ہے کہ وہ اپنے اداروں میں ایسی ریسرچ و تحقیق کی بنیاد ڈالیں جو طب کی ترقی کا ذریعہ بنیں اور خلق خدا کے لئے نفع بخش ثابت ہوں۔ اس کے علاوہ ایک اہم مسئلہ دواؤں میں ملاوٹ کا ہے۔ عصر حاضر میں یہ وبا نہایت عام ہے۔ صرف یہ کہ قیمتی ادویہ بلکہ سستی اور بآسانی فراہم ہونے والی دواؤں کی جگہ بھی نقلی دواؤں کا رواج عام ہوتا جا رہا ہے۔ لہٰذا مفرد ادویہ کی فراہمی، ان کی شناخت اور معیاری بنانا نہایت اہم ہے۔ دواسازی کے اندر اشکال ادویہ کی تبدیلی بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ اطریفل، تریاق، جوارش، حلوہ، خمیرہ، دواء المسک، دواء الکرکم، شربت، لعوق، معجون،مفرح اور یاقوتی وغیرہ کو شکر یا شہد کے قوام میں تیار کیا جا تا ہے۔ ذیابطیس جیسے مرض میں قوامی ادویہ کا استعمال ایک اہم مسئلہ ہے۔ ایسی صورت میں ضرورت ہے کہ ان ادویہ کو سفوف، حبوب یا اقراص کی صورت میں تیار کیا جائے۔ قدیم اطباء کے یہاں اشکال ادویہ کی تبدیلی کے شواہد ملتے ہیں۔ نجیب الدین سمرقندی نے قرابادین صغیر میں لعوق کا ایک نسخہ لکھا ہے جسے معجون اور گولیوں دونوں شکل میں تیار کیا گیا ہے، بلکہ یہاں تک لکھا ہے گولیاں زیادہ قوی ہیں۔ اسی طرح ذکائی نے ایارج فیقرا کو سفوف، معجون اور قرص کی شکل میں تیار کیا ہے۔ حکیم اکبر ارزانی نے جوراش کمونی کو سفوف اور معجون دونوں شکلوں میں استعمال کرنے کی ہدایت کی ہے۔ہمدرد نے کی سعالین اس کی روشن مثال ہے۔ اشکال ادویہ میں بہت سی ایسی دوائیں ہیں جن کی شکلوں (Dosage Form) میں تبدیل کرکے انہیں زیادہ بہتر اور مؤثر بنا یا جا سکتا ہے۔جیسے حبوب و اقراص ہیں، ان میں خشکی کی وجہ سے کھردرا پن آجاتا ہے اور بعض اوقات یہ دوائیں نہایت سخت ہو جاتی ہیں، جس کی وجہ سے ان کا استعمال مریضوں کے لئے بہت دشوار ہوتا ہے۔ لہٰذا انہیں شربت کی شکل میں تیار کیا جا سکتا ہے اور یہ ذائقہ کے اعتبار سے بھی مریضوں کے مزاج کے موافق ہوں گی، دوسرے یہ کہ انہیں Dispersible شکل میں تیار کیا جائے۔ آج کل اس طرح کی اقراص کا رواج بہت زیادہ ہے۔ اقراص و حبوب پر غلاف (Coating) چڑھا ئی جائے، اس سے ان کاکھردراپن ختم ہوجاتا ہے اور ان کا استعمال آسان ہو جاتا ہے۔ حبوب کو خوش ذائقہ، خوش رنگ، نمی و رطوبت سے مفوظ رکھنے نیز انہیں مخصوص مقام و اعضاء تک پہنچانے کے لئے ان پر مختلف مادوں کا غلاف چڑھایا جاتا ہے۔ ایلوہ، افسنتین، چرائتہ، حلتیت، کافور، فاسفورس اورکیلشیم جیسی تلخ اورناگوار بو والی ادویہ پر غلاف اسی مقصد سے چڑھایا جاتا ہے کہ ان کی کڑواہٹ، تلخی اور ناگواری سے بچا جا سکے۔ بعض حبوب کو خوش ذائقہ بنانے کے لئے ان پر شیریں مادوں ( شکر و شہد و چاکلیٹ)سے ورق چڑھایا جاتا ہے۔ اسی طرح کبھی کبھی حبوب کو خوش رنگ اور جاذب نظر بنانے کے لئے غلاف لولوی و غلاف وارنش، غلاف روغنی کا استعمال کیا جاتا ہے۔ مقامی طور پر استعمال کئے جانے والے ضماد، طلاء، روغن یا سفوف کو کریم یا جِل (Cream & Gel) کی شکل میں تیار کیا جائے، جس سے ان کے استعمال میں آسانی پیدا ہوگی۔ قوامی ادویہ جیسے اطریفل، جوارش، خمیرہ، اور معجون وغیرہ جا شہد یا شکر سے تیار کی جاتی ہیں انہیں شوگر فری سیرپ یا ٹیبلٹ کی شکل میں تیار کیا جا سکتا ہے۔ جوشاندہ کی تیاری کا مرحلہ مریض کیا صحت مند انسان کے لئے بھی ایک دشوار گزار مرحلہ ہوتا ہے لہٰذا انہیں خشک کرکے ان کا گرینیولس تیار لیں اورٹی پیک کی طرح استعمال کریں یا انہیں ٹیبلٹ کی شکل میں بھی بنایا جا سکتا ہے۔

Leave a Reply