غزل

Spread the love

ڈاکٹر فیاض احمد علیگ
اسسٹنٹ پروفیسر
ابن سینا طبیہ کالج
بیناپارہ اعظم گڈھ


ڈاکٹر فیاض احمد علیگ

اے دل یہ روز روز کی آہ و فغاں سے ہم
بیزار ہو چکے ہیں تری داستاں سے ہم

پل میں غبار راہ کی صورت بکھر گئے
پیچھے جو رہ گئے تھے ذرا کارواں سے ہم

دنیا سمجھ رہی ہے گنہگار جب ہمیں
لائیں کوئی گواہ تو آخر کہاں سے ہم

دل پر بھی کیا ستم ہوئے اب کے بہار میں
اب کیا بتائیں آپ کو اپنی زباں سے ہم

واعظ تو آج درس عقیدت نہ دے ہمیں
آئے ہیں لوٹ کر ابھی کوئے بتاں سے ہم

ہم کو یقین ہے ترے انکار پر مگر
سننا یہ چاہتے ہیں تیری زباں سے ہم

اپنے لہو سے ہم نے لکھی تھی جو داستاں
محذوف ہو گئے ہیں اسی داستاں سے ہم

اچھے دنوں کی چاہ میں ہر روز ہر گھڑی
گزرے تمام عمر نئے امتحاں سے ہم

درباریوں کی بھیڑ تھی فیاض اس لئے
چپ آپ لوٹ آئے ترے آستاں سے ہم

Please follow and like us:

Leave a Reply