پولیس انسانوں کو مار کر جانوروں کے قتل مقدمات میں نوٹ چھاپے گی

Spread the love

گجرات(نمائندہ) گجرات تھانہ اے ڈویژن میں گورنمنٹ کی ایک ریٹائرڈ ملازمہ

نے5 افراد کے خلاف کتے کے قتل کا مقدمہ درج کر ادیا جس میں تین لوگوں کو نامزد

کیا گیا اور دو نامعلوم افراد بھی شامل ہیں۔ خاتون نے ایف آئی آر میں موقف اپنایا

کہ میرا کتا منشیات فروشوں کو دیکھ کر بھونکتا تھا اس لیے اسے قتل کر دیا گیا۔

اندراج مقدمہ سے پہلے کتے کا پوسٹ مارٹم بھی کروایا گیا تھا۔

پولیس نے ایف آئی آر درج کرنے کے بعد معاملے کی تفتیش شروع کردی۔

یاد رہے کہ حال ہی میں کراچی سٹی کورٹ نے ایک خاتون کیخلاف بلی کے قتل کا مقدمہ

درج کرنے کا حکم دیا تھا۔ یکم فروری 2018 کو کراچی کے علاقے ڈیفنس فیز 8 درخشاں تھانے

کی حدود میں خاتون کی گاڑی تلے آکر بلی ہلاک ہو گئی تھی۔ فائق جاگیرانی نامی شہری

نے خاتون کیخلاف اندراج مقدمہ کیلئے سٹی کورٹ سے رجوع کیا تھا جس پرعدالت

نے خاتون کے خلاف بلی کے قتل کا مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا حکم دیا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل دسمبر 2018 میں سوات کی تحصیل مٹہ کے علاقہ بیاکند میں کتے کے قتل کے جرم میں پولیس نے شتمند نامی ایک شخص کو گرفتار کر لیا تھا۔ اس طرح پاکستان میں جانوروں کے قتل کا یہ تیسرا مقدمہ سامنے آیا ہے۔

ایسے مقدمات میں پولیس کی خوب کمائی ہوتی ہے اور کارکردگی کے بارے میں انتظامیہ اور افسران کی جانب سے سوال بھی نہیں کیا جاتا۔

Leave a Reply