ہلاکو خان پیدائش 15 اکتوبر 1218ء – وفات 8 فروری 1265ء

Spread the love
بشکریہ آزاد دائرۃ المارف ویکپیڈیا انکسائیکلو پیڈیا

ہلاکو خان (پیدائش 15 اکتوبر 1218کو پیدا ہوا، ہو ایل خانی حکومت کا بانی اور منگول حکمران چنگیز خان کا پوتا تھا۔

چنگیز خان کے لڑکے تولی خان کے تین بیٹے تھے۔ ان میں ایک منگو خان تھا جو قراقرم میں رہتا تھا

اور پوری منگول سلطنت کا خان اعظم تھا، دوسرا بیٹا قبلائی خان تھا جو چین میں منگول سلطنت کا بانی تھا

جبکہ تیسرا لڑکا ہلاکو خان تھا۔ منگو خان کے زمانے میں شمال مغربی ایران میں ایک اسماعیلی گروہ حشاشین نے بڑا ہنگامہ اور خونریزی شروع کردی۔

یہ علاقہ منگولوں کے زیر حکومت تھا اس لیے وہاں کے باشندوں نے منگو خان سے اس ظلم و ستم کے خلاف فریاد کی۔

منگو خان نے اس شکایت پر اپنے بھائی ہلاکو خان کو 1256ء میں ایران کا حاکم بناکر روانہ کیا اور اس کو اسماعیلیوں کے خلاف کارروائی

کرنے کا حکم دیا۔ ہلاکو نے اسی سال اسماعیلیوں کے مرکز قلعہ الموت پر قبضہ کرکے اسماعیلی حکومت کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر دیا

اور ان کے آخری بادشاہ خور شاہ کو قتل کر دیا۔

اسماعیلیوں کا زور توڑنے کے بعد ہلاکو خان نے بغداد کا رخ کیا جو اس زمانے میں شیعہ سنی فساد کا گڑھ بنا ہوا تھا

بیان کیا جاتا ہے کہ ان فسادات کی بنیاد خلیفہ مستعصم باللہ کے وزیر ابن علقمی تھا۔

ابن علقمی نے ہی ہلاکو خان کو بغداد پر حملہ کرنے کے لیے آمادہ کیا تھا۔

1258ء میں بغداد تباہ کرنے کے بعد ہلاکو خان نے پورے عراق پر قبضہ کر لیا اور بصرہ اور کوفہ کے عظیم شہر تباہ و برباد کردیے۔

اس کے بعد منگول فوجوں نے جزیرہ کر راستے شام پر حملہ کیا۔ منگول فوجیں نصیبین، رہا اور حران کے شہروں کو تباہ کرتے ہوئی حلب پہنچ گئیں

جہاں 50 ہزار مرد قتل عام میں مارے گئے اور ہزاروں عورتوں اور بچوں کو غلام بنالیا گیا۔

منگول فوجیں اسی طرح قتل و غارت کرتی اور بربادی پھیلاتی ہوئی فلسطین پہنچ گئیں لیکن یہاں ناصرہ کے جنوب میں

عین جالوت کے مقام پر 25 رمضان 658ھ بمطابق 1260ء کو ایک خونریز جنگ میں مصر کے

مملوکوں نے ان کو شکست دے کر پورے شام سے نکال دیا اور اس طرح مصر منگولوں کے ہاتھوں تباہی سے بچ گیا۔

منگو خان کے بعد قراقرم کی حکومت کا اقتدار کمزور پڑ گیا اور ہلاکو خان نے ایران میں اپنی مستقل حکومت قائم کرلی

جو ایل خانی حکومت کہلاتی تھی۔ اس نے مراغہ کو جو تبریز سے 70 میل جنوب میں واقع ہے اپنا دار الحکومت بنایا۔

بعد میں دار الحکومت تبریز منتقل کر دیا گیا۔ 8 فروری 1265 کو ہلاکو خان کا انتقال ہوا ۔ ہلاکو کے بعد اس کا بیٹا اباقا خان تخت نشین ہو

Please follow and like us:

Leave a Reply