پیدائش انتقال طلاق سرٹیفکیٹ 19

نادراکا بائیومیٹرک ڈیٹا ہیک ہونے کا انکشاف

Spread the love

نادراکا بائیومیٹرک

اسلام آباد (صرف اردو آن لائن نیوز) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی میں ایڈیشنل ڈائریکٹرایف آئی اے نادرا کے بائیومیٹرک ڈیٹا کے ہیک ہونے کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا نادرا کا ڈیٹا ہیک ہونے کی وجہ سے مسا ئل میں اضافہ ہوا ڈیٹا ہیک ہونے سے ہیکرز باآسانی فراڈ کرتے ہیں۔

کمیٹی نے آئی ٹی کے برآمدکننداگان کودرپیش مسائل پر اگلے اجلاس میں ایف بی آر، ایچ ای سی اور اسٹیٹ بینک حکام طلب کرلیا،چیئرمین کمیٹی نے سوشل میڈیا کے قواعد بنانے کے دوران ارکان پارلیمنٹ سے رائے نہ لینے پر شدید برہمی کااظہار کرتے ہوئے وزارت آئی ٹی سے تفصیلی بریفنگ طلب کرلی۔حکام نے بتایا پاکستان کی آئی ٹی برآمدا ت میں 47فیصد اضافہ ہواہے جس کی وجہ سے آئی ٹی شعبہ کوہنر مندافراد ی قوت کی کمی سامناہے۔

کسی بھی موبائل فون کمپنی کو ڈور ٹو ڈور سم فروخت کرنے اجازت نہیں دی،غیر قانونی سمز کی فروخت میں ایک سال میں چھ سو فیصد کمی آئی ہے۔جمعرات کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا اجلاس چیئرمین علی خان جدون کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا۔اجلاس میں اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے دورہ آذر بائیجان کے دوران آئی ٹی کے شعبے تعاون کا معاملہ پر غور کیاگیا۔

رکن قومی اسمبلی منزہ حسن نے کہاکہ آذر بائیجان میں تمام اشیاء درآمد کی جاتی ہیں کیونکہ وہاں صرف تیل نکلتا ہے، آئی ٹی کے شعبے میں آذر بائیجان نے پاکستان سے تعاون طلب کیا ہے،آذر بائیجان کے ساتھ آئی ٹی تجارت میں بڑا پوٹینشل ہے، پاکستان کی ڈگری آذر بائیجان میں قبول نہیں کی جاتی،سب سے پہلے پاکستان کی ڈگری کو وہاں شناخت ملنی چاہیے،آذر بائیجان کے حوالے سے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کو سنجیدہ طور پر کام کرنا ہوگا۔

سیکرٹری آئی ٹی نے کمیٹی کوبتایاکہ پاکستان کی آئی ٹی برآمدات سالانہ2 ارب ڈالر کی ہیں جو ٹیکسٹائل اور زراعت کے بعد تیسرے نمبر پر ہیں،، ممبر آئی ٹی نے کہاکہ آذر بائیجان سمیت نئی مارکیٹ میں پاکستانی آئی ٹی برآمدات کے حوالے سے کام ہورہا ہے47 فیصد آئی ٹی برآمدات میں گزشتہ مالی سال اضافہ ہوا، برآمدات میں اضافہ کی وجہ سے سکل کا چیلنج سامنے آرہا ہے،پاکستان میں آئی ٹی کے شعبے میں افرادی قوت کا فقدان ہے،

پاکستانی آئی ٹی کمپنیاں پاکستان میں بیٹھ کر کام کررہی ہیں،آئی ٹی برآمدات کیلئے مرکزی بینک نے پرپز کوڈ بنائے ہیں،چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ آئی ٹی کے شعبے کے برآمد کنندگان کو ایف بی آر سے کافی مسائل ہیں، آئی ٹی کے برآمد کنندگان ایف بی آر کے چکر لگاتے رہتے ہیں، کمیٹی نے اگلے اجلاس میں ایف بی آر، ایچ ای سی اور اسٹیٹ بینک حکام طلب کرلیا۔سوشل میڈیا قواعد کے حوالے سے ممبر لیگل وزارت آئی ٹی بابر سہیل نے بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ سوشل میڈیا قواعد 2020 کے حوالے سے ایس آر او 1077 لایا گیا،سوشل میڈیا پر کوئی پاکستانی قانون لاگو نہیں ہوتا،

وزیر اعظم نے سوشل میڈیا قواعد پر پارلیمانی سیکرٹری برائے قانون انصاف ملیکہ بخاری کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی ہے ،وسائل کے اعتبار سے ہم مائیکرو سطح پر اور مسائل میکرو سطح کے ہیں،ہمارے تعلیمی ادارے، نجی و سرکاری شعبہ جدیدیت سے واقف نہیں ہیں،کمیٹی میں تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے نمائندوں کو بلایا گیا اور سنا گیا،

بھارت میں ا?ئی ٹی کے حوالے بڑا کام ہورہا ہے۔چیئرمین پی ٹی اے عامر عظیم باجوہ نے کمیٹی کوبتایاکہ سوشل میڈیا پر شائع شدہ مواد کو نہیں ہٹایا جاسکتا، پاکستان میں صرف سوشل میڈیا سروسز کو بند کیا جاسکتا ہے۔ رکن کمیٹی علی گوہر بلوچ نے کہاکہ بھارت آئی ٹی میں آگے تو پاکستان بھی پیچھے نہیں ہے،ہمیں عالمی سطح پر زیادہ مسائل کا نہیں بلکہ اندرونی طور پر مسائل کا سامنا ہے،قانون سازی ایسی ہونی چاہیے جس سے عام لوگوں کو فائدہ ہو۔رکن کمیٹی ناز بلوچ نے کہاکہ ہمارے قوانین ہمارے لوگوں پر لاگو ہوتے ہیں، کوئی بھی جرم کرتا ہے

وہ یہاں موجود ہوتا ہے اس کے خلاف کاروائی نہیں ہوتی۔ چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ سوشل میڈیا قواعد پر تمام لوگوں سے مشاورت کی گئی لیکن پارلیمان کے ممبران سے نہیں کی گئی،قواعد جب بنتے تو آئی ٹی کمیٹی کے ممبران کی سفارشات شامل ہوتیں،اس طرح کام نہیں چلے گا کمیٹی کو مکمل بریفنگ دی جائے۔کمیٹی نے سوشل میڈیا استعمال کے قواعد پر وزارت آئی ٹی سے تفصیلی بریفنگ طلب کرلی،قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی کا اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے طارق پرویز نینادرا کا بائیو میٹرک ڈیٹا ہیک ہونے کا انکشاف کرتے ہوئے بتایاکہ نادرا کا ڈیٹا ہیک ہونے کی وجہ سے مسائل میں اضافہ ہوا،

بائیو میٹرک ڈیٹا ہیک ہونے سے ہیکرز باآسانی فراڈ کرتے ہیں، مالی فراڈ کے کیس آتے ہیں تو جب کسی کو پکڑتے ہیں تو کوئی بوڑھا شخص یا خاتون ہوتی ہے۔ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کمیٹی کوبتایاکہ سائبر کرائم کی ایف آئی اے کے پاس 89 ہزار شکایات آئی ہیں، ایف آئی اے کے پاس 162 آئی ٹی ایکسپرٹس ہیں۔چیئرمین پی ٹی اے نے کہاکہ پی ٹی اے نے کسی بھی موبائل فون کمپنی کو ڈور ٹو ڈور سم فروخت کرنے اجازت نہیں دی،

غیر قانونی سمز کی فروخت میں ایک سال میں چھ سو فیصد کمی آئی ہے، پاکستان میں آنکھوں کا ڈیٹا بیس موجود نہیں ہے،غیر قانونی طریقے سے لوگوں کے انگوٹھے کے نشان لئے جاتے ہیں، انگوٹھا کے نشان والے معاملہ کو ختم کرنے کیلئے اب باقی انگلیوں کوبھی شامل کیاجارہاہے۔اس معاملے پردو آپریٹرز کو ایک سال میں 10 کروڑ اور 5 کروڑ جرمانہ کیا ہے،5 لاکھ 36 ہزار سمز کو بلاک کیا گیا ہے،

موبائل آپریٹرز نے فرنچائزز کو 2 کروڑ 30 لاکھ جرمانہ کیا ہے،26 ہزار غیر قانونی سمز کی صرف رواں سال اکتوبر میں نشاندہی کی گئی ہے۔چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ غیر قانونی سمز کی فروخت روکنے کیلئے پی ٹی اے نے کیا اقدامات کئے گئے ہیں، جس پر چیئرمین پی ٹی اے نے کہاکہ مالی فراڈ کا میسج بھیجنے والوں کے خلاف پی ٹی اے کی ویب سائٹ پر شکایت کی جاسکتی ہے۔

نادراکا بائیومیٹرک

ڈاکٹر وحید قریشی بطور محقق

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں