پاکستان لانے کی درخواست 28

نیب کے پاس مریم نواز کیخلاف ایک خط کے علاوہ کیا ثبوت ہے؟اسلام آباد ہائیکورٹ

Spread the love

مریم نواز کیخلاف خط

اسلام آباد (جے ٹی این آن لائن نیوز) اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ مریم نواز کے

خلاف نیب کے پاس ایک خط کے علاوہ کیا ثبوت ہے کسی کو غیرملکی وکیل کے ایک خط پر سزا

سنائی جارہی ہے ،ہم نے سب کچھ قانون شہادت کے مطابق دیکھنا ہے، نیب سے پوچھ رہے ہیں کہ

ملکیت کا ثبوت کیا ہے تو نیب ملکیت کا ثبوت دینے کی بجائے ایک خط پیش کر رہا ہے۔ یہ تو ایک

لاء فرم کا لکھا گیا خط ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ ایک وکیل کی لی گئی معلومات ثبوت نہیں کہ

کمپنیوں کا بینفشر اونر کون ہے، کیا اس خط کو ملکیت کا ثبوت تسلیم کر لیا گیا؟یہ کیسے ثابت ہو

گا کہ آف شور کمپنیوں کا بینفشر اونر کون ہے؟یہ سول نہیں، کریمنل کیس ہے۔ کرمنل کیس میں ہم

مفروضے پر سزا نہیں دے سکتے،کیا ایک چھٹی ملکیت کا ثبوت ہو سکتی ہے؟ عدالت نے سوالوں

کے جوابات دینے کے لیے نیب کی استدعا منظور کرتے ہوئے مزید سماعت 24 نومبر تک ملتوی

کردی۔ بدھ کے روز اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی نے

مریم نواز ایوان فیلڈ ریفرنس میں سزا کے خلاف اپیل کی سماعت کی ،مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر

مریم نواز عدالت میں پیش ہوئیں۔دوران سماعت جسٹس محسن اختر کیا نی نے کہا ہے کہ ہم نے سب

کچھ قانون شہادت کے مطابق دیکھنا ہے۔ نیب سے پوچھ رہے ہیں کہ ملکیت کا ثبوت کیا ہے،نیب

ملکیت کا ثبوت دینے کی بجائے ایک خط پیش کر رہا ہے۔ آپ کسی کو غیرملکی وکیل کے ایک خط

پر سزا سنا رہے ہیں۔یہ تو ایک لاء فرم کا لکھا گیا خط ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ ایک وکیل کی

لی گئی معلومات ثبوت نہیں کہ کمپنیوں کا بینفشر اونر کون ہے جسٹس محسن اختر کیانی نے سوال کی

کہ کیا اس خط کو ملکیت کا ثبوت تسلیم کر لیا گیا؟یہ کیسے ثابت ہو گا کہ آف شور کمپنیوں کا بینفشل

اونر کون ہے؟جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ یہ سول نہیں، کریمنل کیس ہے۔ کرمنل کیس

میں ہم مفروضے پر سزا نہیں دے سکتے۔جسٹس عامر فاروق سے ریمارکس میں کہا پاکستان میں کیس

ہو تو آپ کہیں گے کہ ایس ای سی پی کا ریکارڈ منگوا لیں۔کیس تو چار لائنوں کا ہے ، مگر پہلے آپ

نے اپنا برڈن آف پروف اتارنا ہے۔پراسیکیوشن نے سب سے پہلے بنیادی چیزیں ثابت کرنی ہوتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ مفروضوں کی بنیاد پر تو بوجھ ملزم پر نہیں ڈالا جا سکتا۔آپ کے پاس کیا

ڈاکومنٹ ہے کہ مریم نواز ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کی بینفشل اونر ہیں؟آپ کے پاس کیس ثابت کرنے

کے لیے کیا ثبوت ہے؟ کیا ایک چھٹی ملکیت کا ثبوت ہو سکتی ہے؟عدالت نے استفسار کیا کہ ایک

خط کے علاوہ نیب کے پاس کیا ثبوت ہے کہ مریم نواز بینفشری اونر ہیں۔برٹش ورجن آئی لینڈ سے

آپ کے پاس کوئی لیٹر آتا تو بات تھی۔اگر کوئی وکیل کلائنٹ کے کہنے پر لکھے کہ وہ کمپنی کا اونر

ہے تو کیا وہ پروف ہو جائے گا؟جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ یہ 2012 کا لیٹر ہے اور

ٹرائل 2018 میں ہوا،ٹرائل کے دوران پرانے لیٹر پر انحصار کیسے کر لیں گے؟ ہو سکتا ہے کہ اس

دوران اونرشپ تبدیل ہو گئی ہو،ملزم ریمانڈ پر رہے؟ بیئرر سرٹیفکیٹ برآمد کیے؟ کیا آپ نے اس

معاملے میں کوئی تفتیش بھی کی تھی؟انہوں نے مزید کہا کہ اگر 1980 میں کمپنی خریدی گئی تو

مریم نواز بینفشل اونر نہیں ہو سکتی۔ سات سال کی بچی خود کفیل تو نہیں ہو سکتی، وہ کسی کی تو

کفالت میں ہو گی۔ عدالت نے نیب سے استفسار کیا یہ لیکس کب پبلک ہوئی یہ ساڑھے گیارہ ہزار

پیپرز لیکس ہوئے جس پر نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایاکہ آئی سی ایف جے نے دنیا بھر سے یہ

دستاویزات جمع کرکے لیک کئے اس موقع پر جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ جو سوال پوچھا گیا وہ

جواب یہ نہیں آپ نے بتایا کہ ٹرسٹ کیسے آیا پراپرٹیز کی ملکیت مریم نواز کی نہیں وہ کمپنی کی

ہیکیا کمپنی کی ملکیت مریم نواز نے قبول کرلی یا نہیں اس موقع پر نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو

بتایا کہ مریم نواز نے ملکیت قبول کرنے سے انکار کیامگر خود کو ٹرسٹی قبول کیا عدالت نے پوچھا

کہ سپریم کورٹ میں درخواست کس نے دائر کی تھی؟عدالت نے نیب پراسکیوٹر پر اظہار برہمی کیا

اور کہاآپکا کیس ہے کہ وہ بنفیشل اونر ہے جبکہ وہ خود کو ٹرسٹی مانتی ہے اب آپ نے 342 کے

بیان اور شواہد سے عدالت کو بتانا ہے مریم نواز کے وکیل عرفان قادر نے اپنے دلائل میں عدالت کو

بتایا کہ کچھ چیدہ چیدہ چیزیں بتانا چاہوں گا اور کچھ چیزیں جمع کرنا چاہتے ہیں جس پر جسٹس عامر

فاروق نے کہا کہ آپ نے جو بحث کرنا ہے وہ آپ کریں تاکہ ریکارڈ کا حصہ ہو اس موقع پر عرفان

قادر نے عدالت کو بتایا کہ اگر اجازت ہو تو کچھ گزارشات ہم آج پیش کرنا چاہتے ہیں جس پر عدالت

نے کہا کہ میں سمجھ سکتا ہوں آپ نے جو کہنا ہے کھل کر کہیں بعد میں یہ بات نہ آئے کہ ہم کوئی

بحث کرنا چاہتے تھے کر نہ سکے اس موقع پر عرفان قادر نے عدالت کو بتایا کہ بغیر شواہد کے

میرے موکل کے خلاف ریفرنس دائر کیا گیا چیرمین نیب کی احکامات پر ریفرنس دائر کیا گیاایسی

کوئی دستاویزات نہیں جس پر ریفرنس فائل کیا جاسکے میں اس موقع پر عدالت نے کہا کہ عرفان قادر

صاحب شور کی وجہ سے یا انگریزی میں آگے پیچھے ہوسکتا ہے ہم تصحیح کرتے ہیں میں اس کیس

میں میرٹ کو بالکل ٹچ نہیں کررہا تھا اور نہ ہی چارج پڑھ رہا تھا عدالت نے نیب کو دلائل دینے کی

ہدایت کی جس پر نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ ایک ہی چارج میں تینوں ملزمان کو سزا ہوئی

6 جولائی 2018 کو احتساب عدالت نے اس ریفرنس میں سزا سنائی جس پر عدالت نے کہا کہ آپ

پہلے مرکزی اپیل پر بحث کریں اس موقع پر عدالت نے عرفان قادر سے کہا کہ ابھی نیب کے دلائل

ہیں اس بعد آپ نے بھی جوابی دلائل دینے ہیں آپ کے لیے بھی ابھی دروازے کھلے ہیں ابھی کیس بند

نہیں ہوامیں آپ کا کنسرن سمجھ سکتا ہوں ایسا کچھ نہیں کہ آپ نے بحث کرنی ہے یا نہیں اس کیس کو

آگے کیسے لیکر چلین آٓپ نے دلائل دینے ہیں یا نیب نے جس پر عرفان قادر نے کہا کہ میرے موکل

نے جب آرڈر پڑھا تو سمجھا کہ عرفان قادر نے سب کچھ مکمل کرلیا ۔اس موقع پر عدالت نے کہا کہ

یہ چیزیں آخری نہیں ہیں آپ نے ایک دن دلائل دینے ہیں یا دس دن آپ کرسکتے ہیں اپنے موکل سے

کہیں کہ ابھی آپ نے بحث بند نہیں کی اور راستہ کھلا ہے جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا ہم یہاں پر

صرف زبانی نہیں بلکہ دستاویزات کے ساتھ سب کچھ جمع کرائیں گے عدالت نے کہا کہ آپ نے جو

دستاویزات بنانے ہیں وہ آپ عرفان قادر کو بھی کاپی مہیا کریں عدالت نے نیب پراسیکیوٹر سے

استفسار کیا کہ کیا آپ نے یہ چھ ہزار صفحات پڑھے ہیں؟ میں جو بھی دلائل دونگا وہ پیپر بکس سے

دونگا جس پر عامر فاروق نے استفسار کیا کہ نواز شریف کے اوپر الزام کیا ہے؟اپارٹمنٹ لینا تو کوئی

غلط نہیں اگر مرکزی ملزم کے خلاف شواہد نہیں ہونگے تو بنفیشری کے خلاف کیس کیسے ہوگا ؟آپ

کا کہنا ہے کہ دونوں کمپنیوں کے مالک مریم نواز ہے؟سوال یہ ہے کہ اگر کوئی والد اپنے بیٹی کو

کچھ دیتا ہوں تو کیا کرنا ہوگا کسی بھی کمپنی کے ڈائرکٹ ملکیت نہیں ہوتی آپ نے شواہد سے بتانا

ہے کہ یہ کمپنی کس کی ہے ؟میڈیا یا لوگوں سے نہیں شواہد سے آپ نے عدالت کو سب کچھ مطمئن

کرنا ہے نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایاکہ نیلسن اور نیسکول دونوں برٹس آئرلینڈ ورجن آف شور

کمپنیاں ہیں دونوں آف شور کمپنیوں کی بنفیشری ملکیت مریم نواز کے ساتھ ہیں جو 1993 میں بنی

ہیں2 فروری 2006 کا ٹرسٹ ڈیڈ ہے جس پر کیپٹن صفدر نے بطور گواہ دستخط کئیے اس موقع پر

عدالت نے پوچھا کہ کیا ان کمپنیوں کے دستاویزات پر مریم نواز کی دستخط موجود ہیں ؟میڈیا اور

لوگوں نے کیا کہا ہمیں کوئی لینا دینا نہیں، جو والیمز ہیں ان کو دیکھنا ہے عدالت نے نیب پراسیکیوٹر

سے استفسار کیا کہ بئیر شئیر کرسٹلائن کی وضاحت کرے اسکا مطلب کیا ہے؟نیب پراسکیوٹر اپنے

کہے الفاظ سے لاعلم نکلے کہا انگریزی کا لفظ ہے یہاں جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ اہم سوال

کمپنی ملکیت اور ٹرسٹ ڈیڈ کا ہے وہ بتائیں جس پر نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ مریم نواز

شریف نے کمپنی ملکیت کے حوالے سے حقائق چھپائے مریم نواز کا کوئی سورس آف انکم نہیں نواز

شریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر نے ملکر آف شور کمپنیاں بنائی اور حقائق چھپائے عدالت نے

استفسار کیا کہ اگر مرکزی ملزم سورس نہیں بتاتا تو کیا بنفیشری اونر سورس بتائے گا؟مریم نواز نے

اپنی دفاع میں کیا جواب دیا؟یہاں جو باتیں اٹھائی گئیں یا ہونگی اس میں اکثریت ہوچکی اس موقع پر

عدالت نے کہا کہ سپریم کورٹ نے جو فیصلہ دیا وہ ایک رائے ہے ٹرائل ایک الگ چیز ہے ٹرائل ہونا

ہے اور اس میں پراسیکیوشن نے ہر چیز بتانی ہے مریم نواز نے دفاع میں کیا کہا وہ بتائے ؟عدالت

نے نیب سے استفسار کیا یہ لیکس کب پبلک ہوئی یہ ساڑھے گیارہ ہزار پیپرز لیکس ہوئے جس پر

نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایاکہ آئی سی ایف جے نے دنیا بھر سے یہ دستاویزات جمع کرکے

لیک کئے اس موقع پر جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ جو سوال پوچھا گیا وہ جواب یہ نہیں آپ نے بتایا

کہ ٹرسٹ کیسے آیا پراپرٹیز کی ملکیت مریم نواز کی نہیں وہ کمپنی کی ہے کیا کمپنی کی ملکیت مریم

نواز نے قبول کرلی یا نہیں اس موقع پر نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ مریم نواز نے ملکیت

قبول کرنے سے انکار کیامگر خود کو ٹرسٹی قبول کیا عدالت نے پوچھا کہ سپریم کورٹ میں

درخواست کس نے دائر کی تھی؟عدالت نے نیب پراسکیوٹر پر اظہار برہمی کیا اور کہاآپکا کیس ہے

کہ وہ بنفیشر اونر ہے جبکہ وہ خود کو ٹرسٹی مانتی ہے اب آپ نے 342 کے بیان اور شواہد سے

عدالت کو بتانا ہے جس پر نیب نے جواب دیا کہ ہم نے برطانیہ کو خط لکھا جس کا جواب آیا کہ

بینیفشر مالک مریم نواز ہیں عدالت نے کہا کہ کیا نیب نے صرف ایک خط پر انحصار کرکے مریم

نواز کو مالک کہہ دیا؟ٹرائل کورٹ میں ملزمان کی جانب سے جو اعتراض اٹھایا گیا وہ پارلیمنٹ سے

ختم ہوگیا آپ سے بار بار پوچھ رہے ہیں کہ آپ ملکیت کا ثبوت لانا ہے آٓپ کسی کے خط پر کسی کو

الزام نہیں دے سکتے آپ کے پاس تو فوٹو کاپی آئی ہوگی، اوریجنل تو نہیں ہوگی نیب نے عدالت کو

بتایا کہ اصلی ایگزیبٹ دستاویزات ہمارے پاس موجود ہیں عدالت نے کہا کہ ملکیت کے لیے جس لیٹر

پر انحصار کر رہے ہیں وہ 2012 کا ہے جبکہ ٹرائل 2018 میں ہوا ٹرائل کے دوران پرانے لیٹر پر

انحصار کیسے کریں گے؟ہو سکتا ہے اس دوران اونرشپ تبدیل ہو گئی عدالت صرف ایک سوال

کررہی ہے کہ کس ثبوت سے مریم نواز لندن فلیٹس کی بینیفشل مالک ثابت ہوتی ہیں؟ عدالت کہہ رہی

ہے بھائی سادہ سوال ہے جواب دے دیں آپ نے ملکیت کا ثبوت لے کر آنا ہے مگر آپ ایک غیر ملکی

ایجنسی کے لیٹر پر انحصار کر رہے ہیں پہلے آپ انہیں مالک ثابت کریں گے تو وہ ذرائع بتائیں گے

آف شور کمپنیوں کو برٹش ورجن آئی لینڈ کے قانون کے تحت کیا پروٹیکشن حاصل ہے ؟ اگر پاکستان

میں برٹش ورجن آئی لینڈ کی طرح سٹرکچر بنایا جائے تو لوگ انویسٹ کریں گے جس وکیل نے خط

بھیج دیا ہے وہ شاید ٹھیک ہو مگر ہم پبلک نقطہ نظر پر نہیں جاسکتے ہم کسی کو عوامی نقطہء نظر

پر سزا نہیں دے سکتے آپ نے وہ شواہد اور دستاویزات دیکھانے ہیں جس پر یہ کیس بنا1980 میں

مریم نواز کتنی عمر کی تھی 1980 میں مریم پیدا نہیں ہوئی تھی نیب پراسکیوٹر کے جواب پر

عدالت میں قہقہے لگے عدالت نے کہا کہ 1980 میں مریم نواز سات سال کی تھی اور اس وقت سورس

آف انکم نہیں تھاعدالت نے آئندہ سماعت پر نیب سے سوالات پر جوابات طلب کرلئے ہم چھ ہزار

صفحات نہیں پڑھ سکتے سب کچھ ساتھ ساتھ لیکر جائیں گے عدالت نے کیس کی سماعت 24 نومبر

تک کے لئے ملتوی کردی۔

مریم نواز کیخلاف خط

ڈاکٹر وحید قریشی بطور محقق

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں