پاکستان لانے کی درخواست 22

سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم اور دیگر کو توہین عدالت کے نوٹس جاری

Spread the love

توہین عدالت کے نوٹس

اسلام آباد (صرف اردو آن لائن نیوز) چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اﷲ نے

نواز شریف اور مریم نواز کی اپیلوں سے متعلق انکشافات پر سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم

اور دیگر کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کردیئے ہیں۔عدالت نے فریقین کو (آج)منگل کی صبح

10بجے طلب کرلیا۔ ہائی کورٹ نے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کو بھی ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم

نواز کی نیب ریفرنسز کے فیصلوں پر نظر ثانی اپیلوں سے متعلق انکشافات کا نوٹس لے لیا ہے۔عدالتی

ذرائع کے مطابق معاملے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کا نام آنے کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ

نے صحافی انصار عباسی کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کا آغاز کردیا ۔ اس کے علاوہ سابق

جج رانا شمیم کو بھی توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا گیا ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق چیف جسٹس

اسلام آباد ہائی کورٹ نے دوران سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ جرنلسٹ ایسوسی ایشن کو کمرہ عدالت

طلب کرلیا ، انہوں نے صدر اسلام آباد ہائی کورٹ جرنلسٹ ایسوسی ایشن ثاقب شیر سے استفسار

کیا کہ اس عدالت نے ہمیشہ اظہار رائے کی قدر کی ہے اور اظہار رائے پر یقین رکھتی ہے ، مجھے

اس عدالت کے ہر ججپر فخر ہے، اگر اس عدالت کے غیر جانبدارانہ فیصلوں پر اس طرح انگلی

اٹھائی گئی یہ اچھا نہیں ہے، یہ عدالت آپ سب سے توقع رکھتی ہے کہ لوگوں کا اعتماد اداروں پر

بحال ہو،زیر سماعت کیسسز پر اس قسم کی کوئی خبر نہیں ہونی چاہیے۔ اس عدالت کی آزادی کو

کوئی مشکوک بنائے گا تو برداشت نہیں کیا جائے گا۔عدالت نے تمام فریقین کو (آج)منگل کی صبح

10بجے طلب کرلیا۔ ہائی کورٹ نے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کو بھی ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔

بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے تحریری حکم نامہ میں کہا ہے کہ عدالت سے باہر کسی قسم کا

ٹرائل عدالتی کارروائی پر اثر انداز ہونے کے مترادف ہے،اخبار میں شائع خبر بادی النظر میں زیر

سماعت مقدمے پر اثر انداز ہونے کی کوشش ہے۔۔تحریری حکم نامے کے مطابق رجسٹرار آفس نے

دی نیوز میں چھپنے والی خبر کی طرف توجہ دلائی اور بتایا کہ اخبار میں شائع خبر زیر التوا

کیس پر سے متعلق ہے۔حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ عدالت سے باہر کسی قسم کا ٹرائل عدالتی

کارروائی پر اثر انداز ہونے کے مترادف ہے، دی نیوز میں شائع خبر بادی النظر میں زیر سماعت

مقدمے پر اثر انداز ہونے کی کوشش ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق تحریری حکم نامے میں کہا گیا کہ

سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا محمد شمیم اور ایڈیٹر انچیف دی نیوز، ایڈیٹردی نیوز، ایڈیٹر انویسٹی

گیشن انصار عباسی بھی ذاتی حیثیت میں پیش ہوں۔اس سے قبل پیر کے روز ایک مقامی انگریزی

آخبار میں خبر شائع ہوئی جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا ایم شمیم

نے 10 نومبر 2021کو اوتھ کمشنر کے روبرو اپنے حلفیہ بیان میں کہا ہے کہ چیف جسٹس پاکستان

ثاقب نثار نے ہائی کورٹ کے ایک جج کو حکم دیا تھا کہ 2018 کے عام انتخابات سے قبل نواز

شریف اور مریم نواز کو ضمانت پر رہا نہ کیا جائے، دوسری طرف سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے

کہا ہے کہ میرے متعلق رپورٹ ہونے والی خبر حقائق کے منافی ہے،سابق چیف جسٹس گلگت بلتستان

رانا شمیم کے سفید جھوٹ پر کیا جواب دوں۔ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ سابق چیف جسٹس

گلگت بلتستان رانا شمیم رانا شمیم بطور چیف جسٹس گلگت بلتستان عہدے کی توسیع مانگ رہے تھے

جو میں نے منظور نہیں کی۔ ایک مرتبہ رانا شمیم نے مجھ سے ایکسٹینشن نہ دینے کا شکوہ بھی کیا

تھا۔جکہ اس کے جواب میں سابق چیف جسٹس گلگت بلتستان رانا شمیم نے کہا ہے کہ سابق چیف

جسٹس پاکستان ثاقب نثار جھوٹ بول رہے ہیں، انہیں کبھی اپنی ایکسٹینشن کا نہیں کہا، نہ ہی چیف

جسٹس پاکستان اس کا اختیار رکھتے ہیں۔ رانا محمد شمیم نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں سابق چیف

جسٹس پاکستان کے جواب پر جواب الجواب میں کہا کہ ثا قب نثار گلگت میں میرے مہمان تھے، میں

نے ثاقب نثار کے گلگت آنے پر کوئی سرکاری خرچ نہیں کیا تھا اور خبر میں دی گئی تمام باتوں پر

قائم ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مجھے مدت ملازمت میں توسیع مانگنے کی کوئی ضرورت محسوس

ہی نہیں ہوئی اور سابق چیف جسٹس ثاقب نثارکے پاس قانون کے مطابق مجھے توسیع دینے کا اختیار

ہی نہیں تھا، ثاقب نثار کون ہوتے ہیں مجھے توسیع دینے والے؟ ۔رانا شمیم نے مزید کہا کہ حلف نامہ

کب اور کس کو دیا یہ ابھی نہیں بتا سکتا لیکن گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی سپریم کورٹس، سپریم

کورٹ آف پاکستان کے ماتحت نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی سپریم

کورٹ میں چیف جسٹس کو ایکسٹینشن دینا وزیراعظم کا اختیار ہے، میں کوئی سیاسی شخصیت نہیں

جو سیاسی بیانات دوں، جو بھی حقائق معلوم تھے سامنے لے آیا۔دریں اثناچیئرمین قائمہ کمیٹی برائے

اطلاعات میاں جاوید لطیف نے انصار عباسی کی خبر کا نوٹس لیتے ہوئے سابق چیف جج رانا شمیم

اور ایڈیٹر دی نیوز اور ایڈیٹر انوسٹی گیشن انصار عباسی کو کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں طلب کرلیا۔

چیئرمین میاں جاوید لطیف کی زیرصدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی اطلاعات کا اجلاس ہوا،

وزیرمملکت برائے اطلاعات فرخ حبیب بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔جاوید لطیف نے کہاکہ اجلاس

میں اہم معاملے پر بات کرنی تھی،خبر ہے کہ کس طرح سابق چیف جسٹس شریف خاندان کیخلاف

عدالتوں پر اثرانداز ہوئے،اس اہم معاملے پر بھی تفصیلی بات کرنا ہے۔چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ کیا

20 سال بعد ہمارے ملک میں حقائق کو سامنے لایا جائے گا،پاکستان کو اس طرح نہیں چلانا چاہیے،

ملک کو آئین اور قانون کے تحت چلانا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے چیف جج کا بیان حلفی

بہت اہم ہے، ہمارے ہاں تحقیقاتی اداروں کے ہاتھ باندھ دئیے جاتے ہیں۔میاں جاوید لطیف نے گلگت

بلتستان کے سابق چیف جج رانا شمیم کے انکشافات کو شریف خاندان کے بے گناہ ہونے کا ایک اور

ثبوت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جہاں اداروں میں ثاقب نثار اور مشرف جیسے لوگ ہوتے ہیں وہیں

جسٹس فائز عیسیٰ جیسے لوگ بھی موجود ہوتے ہیں۔پارلیمنٹ ہاؤس گفتگو کرتے ہوئے میاں جاوید

لطیف کا کہنا تھا کہ ملک کو چلانا ہے تو قانون کی حکمرانی قائم کرنا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ گلگت

بلتستان کے سابق چیف جج کے انکشافات کے بعد ان لوگوں کو اپنے سوال کا جواب مل گیا ہوگا جو

پوچھتے تھے نواز شریف بیرون ملک کیوں مقیم ہیں۔جاوید لطیف کا کہنا ہے کہ اپنی ضد اور انا کیلئے

سول حکمرانوں کو کب تک نشان عبرت بنایا جاتا رہے گا۔

توہین عدالت کے نوٹس

ڈاکٹر وحید قریشی بطور محقق

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں