شیعہ برادری مسجد دھماکہ 35

افغانستان , مسجد میں نماز جمعہ کے دوران ھماکے سے 3 افراد جاں بحق

Spread the love

جمعہ کے دوران ھماکے

ننگرہار (صرف اردو آن لائن نیوز) افغانستان کے صوبے ننگرہار کی ایک مسجد میں نماز جمعہ میں

دھماکے سے 3 افراد جاں بحق اور 15 افراد زخمی ہوگئے۔غیرملکی خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘

کے مطابق دھماکا مشرقی صوبے کے اسپن غر ضلع میں ہوا جو اگست میں ملک میں طالبان کے

اقتدار پر قبضے کے بعد سے داعش کی سرگرمیوں کا گڑھ ہے۔دوسری جانب طالبان کے ایک ذمہ

داری نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’میں ضلع اسپن گھر کی ایک مسجد کے اندر نماز

جمعہ کے دوران دھماکے کی تصدیق کرتا ہوں جس میں ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں‘۔مقامی ہسپتال کے ایک

ڈاکٹر نے بتایا کہ ’اب تک 3 افراد جاں بحق جبکہ 15 زخمی ہو چکے ہیں‘۔خیال رہےکہ داعش پہلی

مرتبہ 2015 میں ننگرہار میں سامنے آئی تھی، طالبان کی اقتدار میں واپسی کے بعد سے افغانستان

میں ہونے والے خونریز حملوں کی ذمہ داری قبول کر چکی ہے۔گزشتہ ماہ کے وسط یعنی 16 اکتوبر

کو دہشت گرد تنظیم داعش نے افغانستان کے مغربی شہر قندھار میں نماز جمعہ کے دوران ہوئے خود

کش حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی جہاں 41 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔قبل

ازیں اکتوبر میں ہی صوبے قندوز کی ایک مسجد میں نماز کی ادائیگی کے دوران دھماکے کے نتیجے

میں 55 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔اس دھماکے میں بھی اہلِ تشیع برادری سے

تعلق رکھنے والے افراد کو نشانہ بنایا گیا تھا جس کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔خیال رہے کہ

داعش نے مزید پر تشدد کارروائیوں کی دھمکی دی ہے لیکن اس مرتبہ طالبان بطور ریاست کردار ادا

کررہے ہیں کیونکہ امریکی فوجی اور ان کی اتحادی افغان حکومت رخصت ہوچکی ہیں۔طالبان نے

امریکا سے وعدہ کیا تھا کہ وہ عسکریت پسند گروپ پر نگرانی رکھیں گے لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ

15 اگست کو طالبان کے ملک کا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد سے داعش کے حملوں میں اچانک

اضافے کے ساتھ وہ اپنے عہد پر برقرار رہ سکیں گے یا نہیں۔اس حوالے سے افغانستان کے قائم مقام

ڈپٹی وزیر اطلاعات و ثقافت ذبیح اللہ مجاہد نے کہا تھا کہ دہشت گرد تنظیم داعش ہمارے لیے کوئی بڑا

مسئلہ نہیں ہے، اس کی افغانستان میں نمایاں حیثیت نہیں ہے اور داعش کے تمام اراکین افغان ہیں، ان

میں کوئی غیر ملکی نہیں ہے۔


جمعہ کے دوران ھماکے

ڈاکٹر وحید قریشی بطور محقق

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں