تحریک طالبان پاکستان سیزفائر 19

ٹی ٹی پی کو عام معافی دینے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا، آئین کے مطابق بات ہو گی، معید یوسف

Spread the love

ٹی ٹی پی عام معافی

اسلام آباد (صرف اردو آن لائن نیوز) وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی معید یوسف نے کہا ہے کہ پاکستان کی افغان طالبان پر زیادہ نہیں چلتی، ٹی ٹی پی کو عام معافی دینے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا اور اس وقت ٹی ٹی پی کو وہ حمایت حاصل نہیں ہے جو سابقہ افغان حکومت اور بھارت فراہم کرتے تھے۔

ایک انٹرویومیں معید یوسف نے کہا کہ پچھلے 10 سے 15 سال کے دوران تحریک طالبان پاکستان کو پذیرائی ملی جس میں افغان انٹیلی جنس بھی حصہ ڈالتی رہی، ہم دنیا کو بتاتے رہے کہ پاکستانی طالبان پہلے یہ موجود تھے لیکن ہمارے آپریشنز کے بعد وہ افغانستان چلے گئے،

وہاں ان کو پناہ گاہیں دی گئیں جہاں سے وہ پاکستانیوں کو شہید کرتے رہے۔انہوں نے کہاکہ افغانستان میں طالبان حکومت آنے سے پہلے بھی ہم افغان حکومت کو کہتے تھے کہ ان کو حملوں کی اجازت نہیں ہونی چاہیے اور ہم فوجی آپریشن سے پہلے اور ضرب عضب کے بعد بھی بات ہوئی لیکن کسی معاہدے پر عملدرآمد نہیں ہوا۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ٹی ٹی پی کو عام معافی دینے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا، پتا نہیں یہ بات کہاں سے شروع ہوئی ہے، ابھی تو بات ہو گی، پھر پتا چلے گا کہ وہ کہاں کھڑے ہیں اور اس حوالے سے کتنے سنجیدہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس وقت ٹی ٹی پی کو وہ حمایت حاصل نہیں ہے جو انہیں سابقہ افغان حکومت اور بھارت فراہم کرتے تھے،

ابھی ٹی ٹی پی سے کوئی بات نہیں ہوئی، ہمیں معلوم ہے کہ ماضی میں معاہدوں پر عمل نہیں ہوا لیکن اگر وہ ریاست کی رٹ اور سیز فائر پر تیار ہیں تو بات ہو سکتی ہے، یہ ریاست کا کام ہوتا ہے۔معید یوسف نے کہا کہ کمیٹی کی بریفنگ میں قائد حزب اختلاف اور پیپلز پارٹی سمیت تمام پارٹیوں کے نمائندے وہاں موجود تھے، یہ شفاف بریفنگ تھی۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کے تمام بڑے تنازعات کا اختتام مذاکرات پر ہوتا ہے، جو بھی مذاکرات کرتا ہے تو دوسرے فریق نے اس کے بندے مارے یا شہید کیے ہوتے ہیں، اگر آپ یہ موقف اپنا لیں تو پھر کوئی بات نہیں ہو سکتی اور آپ کو آخر تک لڑنا پڑے گا۔

انہوں نے کہاکہ ٹی ٹی پی سے مذاکرات کی شرائط متاثرہ افراد اور پورے پاکستان کے اتفاق رائے سے طے کی جائیں گی، جو بھی بات ہو گی وہ آئین کے مطابق ہو گی۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر کوئی گروپ تشدد سے ہمیشہ کے لیے لاتعلقی کا اعلان کرتا ہے اور پاکستان کی آئینی حدود میں رہتا ہوا زندگی گزارنا چاہتا ہے اور عدالت کی جانب سے دی گئی سزا کو پوری کرتا ہے تو وہ اپنی زندگی عام آدمی کی حیثیت سے گزار سکتا ہے۔

سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے اقلیتی اسٹاف ڈائریکٹر مسٹر کرس سوچا کی سربراہی میں 4 رکنی امریکی وفد نے قومی سلامتی کے مشیر ڈاکٹر معید یوسف سے ملاقات کی جس میں افغانستان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ڈاکٹر معید یوسف نے کہاکہ پاکستان ہمیشہ کہتا رہا ہے کہ افغانستان کا کوئی فوجی حل ممکن نہیں،

افغانستان کو کسی بھی تباہی سے بچانے کے لیے فوری طور پر انسانی بنیادوں پر امداد فراہم کی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ مستحکم اور پرامن افغانستان پاکستان کے بہترین مفاد میں ہے، دونوں فریقین نے مثبت سمت میں آگے بڑھنے اور دوطرفہ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے تمام شعبوں میں مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

ٹی ٹی پی عام معافی

ڈاکٹر وحید قریشی بطور محقق

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں