فرانسیسی سفیر ملک بدری 26

حکومت کی اتحادی جماعتوں ،تحریک انصاف کے سینئرارکان اسمبلی کے پارلیمینٹ کامشترکہ اجلاس موخر

Spread the love

پارلیمینٹ کامشترکہ اجلاس

اسلام آباد (صرف اردو آن لائن نیوز) حکومت نے انتخابی اصلاحات پر اتفاق رائے پیدا کرنے کیلئے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس موخر کر دیا ہے اور سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو اپوزیشن سے ایک بار پھر رابطہ کرنے کا کہا گیا ہے ۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا کہ انتخابی اصلاحات ملک کے مستقبل کا معاملہ ہے ،

ہم نیک نیتی سے کوشش کر رہے ہیں کہ ان معاملات پر اتفاق رائے پیدا ہو، امید ہے اپوزیشن ان اہم اصلاحات پر سنجیدگی سے غور کرے گی ، ایسا نہ ہونے کی صورت میں ہم اصلاحات سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔بدھ کو اپنے ٹوئٹر پیغام میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا کہ انتخابی اصلاحات ملک کے مستقبل کا معاملہ ہے،ہم نیک نیتی سے کوشش کر رہے ہیں کہ ان معاملات پر اتفاق رائے پیدا ہو۔

چوہدری فواد حسین نے کہا کہ اس سلسلے میں سپیکر اسد قیصر کو اپوزیشن سے ایک بار پھر رابطہ کرنے کا کہا گیا ہے،تا کہ ایک متفقہ انتخابی اصلاحات کا بل لایا جا سکے،پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کو اس مقصد کیلئے مو خر کیا جا رہا ہے،ہمیں امید ہے اپوزیشن ان اہم اصلاحات پر سنجیدگی سے غور کرے گی اور ہم پاکستان کے مستقبل کیلئے ایک مشترکہ لائحہ عمل اختیار کر پائیں گے۔وفاقی وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ تاہم ایسا نہ ہونے کی صورت میں ہم اصلاحات سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔

واضح رہے کہ منگل کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومت کو اکثریت کے باوجود بلوں کو پیش کرنے کے موقع پر اپوزیشن کے ہاتھوں کا شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔اس سے قبل بدھ کے روز ہی قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے مطابق صدر مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان نے مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کا مشترکہ اجلاس جمعرات دن 11 بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں طلب کیا

تاہم بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کی 3اتحادی جماعتوں اور پی ٹی آئی کے اپنے ہی متعدد سینئرز ارکان نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم)پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ووٹ دینے سے انکار کردیا اورپارٹی قیادت سے مشاورت کیلئے وقت مانگ لیا۔

وزیراعظم کی پارلیمنٹ ہاؤس میں حکومتی، اتحادی پارلیمانی اراکین سے ملاقات ہوئی، جس میں موجودہ سیاسی صورت حال کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ اتحادی جماعتوں نے ای وی ایم پر تحفظات کا اظہار کیا جبکہ،جی ڈی اے ، متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم)پاکستان اور مسلم لیگ( ق) نے الیکٹرانک ووٹنگ بل کی حمایت نہ کرنے کا دو ٹوک فیصلہ سنایا۔

ایم کیوایم اورق لیگ کے اراکین نے وزیراعظم کے سامنے موقف اپنایا کہ ای وی ایم پربریفنگ، طریقہ کارسے آگاہ نہیں کیاگیاوزیردفاع پرویز خٹک نے بھی اپنے تحفظات سے وزیر اعظم کو آگاہ کیا اور بتایا کہ اتحادی جماعتیں بل پرراضی نہیں،تحریک انصاف کے اپنے ارکان پارلیمنٹ میں بھی ای وی ایم پراتفاق رائے نہیں ہے۔ جس کے بعد پارلیمینٹ کا مشترکہ اجلاس موخر کر دیا گیا


پارلیمینٹ کامشترکہ اجلاس

ڈاکٹر وحید قریشی بطور محقق

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں