33

ڈینگی بخارکی دوائی کی بلیک مارکیٹنگ عروج پر،30پیسے والی گولی 10روپے کی ہو گئی

Spread the love

ڈینگی دوائی بلیک مارکیٹنگ

لاہور (صرف اردو آن لائن نیوز) ڈینگی بخار کی دوائی کی بلیک مارکیٹنگ عروج پر پہنچ گئی ، ایک روپے 30 پیسے قیمت والی گولی دس روپے میں فروخت ہو نے لگی جبکہ دوسری طرف عام میڈیکل سٹورزپر پیناڈول دستیاب ہی نہیں ،تیز بخار میں مبتلا لوگ بخارمیں کمی کیلئے بروفن استعمال کرنے پر مجبورہیں،

جسے ماہرین صحت یہ کہہ پر ڈینگی کے بخار میں استعمال کرنا ممنون قرار دے چکے ہیں کہ بروفین سے وائٹ سیل کم ہوتے ہیں،تا ہم لوگ مجبور اََ یہ گولی استعمال کرنے پر مجبور ہیں ،ادھر محکمہ صحت نے بھی آنکھیں مکمل طور پر بند کر رکھی ہیں،

جبکہ اعداد و شمار کے مطابق پینا ڈو ل کی پروڈکشن ضرورت سے زیادہ ہے مگر مارکیٹ سے غائب ہے، باخبر ذرائع کے مطابق شہریوں کی بڑھتی ڈیمانڈ اور ذخیرہ اندوزی ٹیبلٹ کی عدم دستیابی کا سبب، پینا ڈول ٹیبلٹ کی فروخت میں 100 گنا اضافہ ہو چکا ہے۔

پروڈکشن ضرورت سے زیادہ ہونے کے باوجود پینا ڈول نہیں مل رہی۔ پینا ڈول کا ہی فارمولا پیراسیٹامول ہے جو بخار اور درد میں استعمال ہوتی ہے۔ شہری پینا ڈول جیسی اور دیگر پیراسیٹامول کے برانڈز کم استعمال کر رہے ہیں۔

پینا ڈول کا متبادل کیل پول، ڈسپرول، فیبرول، ٹائلول، میسفاڈول وغیرہ بھی موجود ہے، شہریوں کی ا کثر یت بخار کیلئے صرف پیناڈول استعمال کرنے پر بضد ہیں۔ شہریوں کی اس ضد کو دیکھتے ہوئے ذخیرہ اندوز بھی متحرک ہو چکے ہیں۔

ڈ سٹر ی بیوٹرز، فارمیسیز، میڈیکل سٹورز نے پینا ڈول ذخیرہ کرنا شروع کر دی۔ طلب اور گاہک بڑھنے سے دکاندار روک روک کر پینا ڈول بیچ رہے ہیں۔

دکاندار زیادہ دوائی لینے والے کو پینا ڈول دے دیتے ہیں۔ صرف پینا ڈول مانگنے والے کو ٹیبلٹ دی ہی نہیں جاتی۔اس حوالے سے معلوم ہوا ہے بلیک مارکیٹنگ یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ دس روپے میں گولی فروخت ہو رہی ہے وہ بھی بڑے سٹورز پر پیناڈول کے ڈسٹر یبیوٹرز کی چاندی ہوگئی ہے

انہوں نے خود مصنوعی قلت پیدا کر رکھی ہے، اس حوالے سے سیکرٹری ہیلتھ عمران سکندر نے کہا مارکیٹ میں پینا ڈو ل کی دستیابی کو فیلڈ فورس کی مدد سے یقینی بنارہے ہیں،

جبکہ صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا ہے کہ پنجاب کے تمام سرکاری ہسپتا لو ں میں پینا ڈول موجود ہے۔ ڈینگی کے مریضوں کو تمام طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

ڈینگی دوائی بلیک مارکیٹنگ


ڈاکٹر وحید قریشی بطور محقق

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں