فرانسیسی سفیر ملک بدری 31

حکومتی مخالفت کے باوجود ن لیگی رکن اسمبلی کی بل پیش کرنے کی تحریک منظور

Spread the love

بل پیش کرنے کی تحریک

اسلام آباد (صرف اردو آن لائن نیوز) قومی اسمبلی اجلاس میں حکومت اکثریت ثابت کرنے میں ناکام

ہو گئی اور اہم قانون سازی کیلئے بلائے گئے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے قبل اسے اقلیت میں

موجود اپوزیشن کے ہاتھوں2بلوں کی تحاریک پرغیر متوقع طور پر شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے جس

پر اپوزیشن نے حکومت سے اخلاقی طور پر مستعفی ہونے کا مطالبہ کر دیا ۔مسلم لیگ (ن)کے سید

جاوید حسنین کے بل پیش کرنے کی حکومت کی جانب سے مخالفت پر ایوان میں ووٹنگ کرائی گئی

جس پر حکومت کو104کے مقابلے میں اپوزیشن کے 117ووٹوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ایوان

میں ایک پارٹی کے انتخابی نشان پر الیکشن لڑنے والے امیدوار پر7 سال تک دوسری پارٹی کے

انتخابی نشان پر الیکشن لڑنے پر پابندی لگانے سے متعلق بل سمیت 11نئے بل پیش کر دیئے گئے

جنہیں مزید غور خوض کیلئے متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کو بھجوا دیا گیا، تین بل منظوری کے لئے

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے سپرد کرنے کی تحاریک منظورکر لیں گئیں جبکہ د یوانی ملازمین(

ترمیمی) بل بھی منظور کر لیا گیا ۔منگل کو قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کی

صدارت میں ہوا، اجلاس میں رکن اسمبلی امجد علی خان نے بین الاقوامی ادارہ برائے سائنس فنون و

ٹیکنالوجی بل 2021پیش کیا ، جسے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا،رکن اسمبلی سید جاوید

حسنین نے دستور (ترمیمی بل) 2021آرٹیکل( 63الف میں ترمیم) پیش کرنے کی اجازت دینے کی

تحریک پیش، بل کے تحت ایک سیاسی جماعت کے اانتخابی نشان پر الیکشن میں حصہ لینے والا

شخص سات سال تک کسی دوسری پارٹی کے انتخابی نشان پر حصہ نہیں لے سکے گا ۔ پارلیمانی

سیکرٹری برائے قانون ملیکہ بخاری نے بل کی مخالفت کی ، سید جاوید حسنین نے کہا کہ جب سے

پاکستان بنا ہے ہمارا ہر الیکشن کسی نہ کسی حوالے سے متنازع ہو جاتا ہے، ڈپٹی اسپیکر نے سید

جاوید حسنین سے لمبی بات کرنے پر ٹوکا اور کہا کہ جو آپ نے بل پیش کیا ہے اس کی چیزیں بتائیں

جس پر سید جاوید حسنین نے کہا کہ میں تو لوٹوں کے خلاف بات کر رہاہوں آپ نے تو پہلا الیکشن

لڑا ہے آپ جب لوٹا بنیں گے تو آپ کی بات ہو گی، لوٹا گیری کی جو صنعت ہم نے بنا رکھی ہے اس

سے جان چھڑوا دیں۔ اس موقع پر ڈپٹی اسپیکر نے تحریک پر رائے شماری کرائی تحریک کے حق

میں 117جبکہ مخالفت104میں ووٹ آئے جس کے بعد بل پیش کرنے کی اجازت دے دی گئی اورسید

جاوید حسنین نے بل پیش کیا بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔مسلم لیگ(ن) کے رہنماء

سردار ایاز صادق نے کہا کہ جو آج حکومت کو بل پر شکست ہو ئی ہے یہ اپوزیشن کی حکومت کے

خلاف اخلاقی فتح ہے خورشید شاہ کے نیک قدم آئے ، اخلاقی طور پر حکومت کو استعفی دے دینا

چاہیئے ، خان صاحب کو اپنی شکست مان لینی چاہیئے ، مشترکہ اجلاس سے پہلے ہی مان لیں تو بہتر

ہے ۔قادر خان مندوخیل نے دستور (ترمیمی) بل 2021پیش کیا جسے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر

دیا گیا ، مہناز اکبر عزیز نے فوجداری قوانین (ترمیمی) بل2021پیش کیا جسے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے

سپرد کر دیا گیا۔شازیہ مری نے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق (ترمیمی) بل 2021پیش کیا جسے

متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا ۔جیمز اقبال نے فوجداری قوانین ترمیمی بل 2021 پیش کیا

جسے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔ ساجدہ بیگم نے مائیکروفنانس انسٹیٹیوشنز (ترمیمی) بل

2021 پیش کیا، جسے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا،مریم اورنگزیب نے آئی سی ٹی معذور

افراد کے حقوقۃ( ترمیمی) بل پیش کیا جسے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔علی گوہر خان نے

دستور( ترمیمی) بل2021 پیش کیا جسے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا،رکن اسمبلی محسن

داوڑ نے دستور( ترمیمی) بل 2021 پیش کیا جسے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔ علی گوہر

خان نے پاکستان ماحولیاتی تحفظ( ترمیمی) بل 2021 پیش کیا جسے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر

دیا گیا۔رکن اسمبلی اسماء قدیر نے فوجداری قوانین( ترمیمی) بل 2021پیش کرنے کی اجازت دینے کی

تحریک پیش کی جس کی اپوزیشن نے مخالفت کی ،تحریک پر رائے شماری کے دوران حق میں کم

جبکہ مخالفت میں زیادہ ووٹ آئے جس کے بعد تحریک مسترد کر دی گئی۔سید جاوید حسنین نے الکرم

انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ بل 2020 منظوری کے لئے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے سپرد کرنے کی

تحریک پیش کی جسے منظور کر لیا گیا ۔مہناز اکبر عزیز نے علاقہ دارالحکومت اسلام آباد گھریلو

ملازمین بل 2021 منظوری کے لئے مشترکہ اجلاس کے سپرد کرنے کی تحریک پیش کی جسے

منظور کر لیا گیا۔شیر اکبر خان نے انسداد بدعنوانی( ترمیمی) بل 2021 منظوری کے لئے مشترکہ

اجلاس کے سپرد کرنے کی تحریک پیش کی جسے منظور کر لیا گیا۔رکن اسمبلی عبد القادر پٹیل نے

دیوانی ملازمین( ترمیمی) بل2020 منظوری کے لئے پیش کیا رائے شماری کے بعد بل منظور کرلیا

گیا۔علی نواز اعوان نے سینیٹ سے منظور شدہ اسلام آباد خواتین یونیورسٹی بل 2021زیر غور لانے

کی تحریک پیش کی ، بل کو متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی

نے ایاز صادق کے الفاظ کو مسترد کردیا انہوں نے کہاکہ ایم این اے لاہور کے الفاظ کو مسترد کرتا

ہوں۔ اجلاس کے دور ان اظہار خیال کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہاکہ لاہور میں ڈینگی کا بدترین

مسئلہ پیدا ہوگیا ہے،محکمہ صحت کے سٹاک سے تین کروڑ ادویات غائب ہوگئی ہیں،لاہور میں

پیناڈول اور پیراسیٹامول غائب ہوچکی ہیں،حکومت عوام کی مشکل حل کرے۔ انہوں نے کہاکہ عوام

ڈینگی سے مر رہے ہیں اور حکمران قوالیاں سن رہے ہیں۔اجلاس کے دور ان شاہ محمود قریشی نے

کہاکہ آذربائیجان وفد کو پارلیمنٹ ایوان میں خوش آمدید کہتے ہیں،عالمی سطح پر آذربائیجان نے

پاکستان کی حمایت کی،پاکستان ہر مشکل وقت میں آذربائجان کے ساتھ کھڑا ہوگاپاکستانی عوام

آذربائیجان کی عوام کے ساتھ ہیں۔ ارکن قومی اسمبلی محسن داؤد نے کہا ہے کہ افغانستان کے حوالے

سے پارلیمنٹ میں بحث نہیں ہوئی ہماری متنازعہ حیثیت کو کلئیر نہیں کیا گیا۔ محسن داوڑ نے

افغانستان کے موجودہ حالات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی حفاظت اور

سیکیورٹی کے حوالے سے حکومتِ وقت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ پاکستان میں دہشتگردی پر کوئی

سمجھوتہ نہ کیا جائے اور نیشنل ایکشن پلان پر من و عن عمل کیا جائے تاکہ ان پیش رفت کے بعد

کسی قسم کے حادثات سامنے نہ آئیں۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)

اور دیگر تنظیموں کے حوالے سے پارلیمنٹ میں آ کر بتانا چاہیے کہ پاکستان میں ان کی کسی قسم کی

کوئی سرگرمی برداشت نہیں کی جائے گی انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ افغان صورتحال پر

پارلیمان کو اعتماد میں لیا جائے اور پاکستان کی پالیسی کے بننے کے طریقہ کار میں سینیٹ کی قرار

داد کے طریقہ کار پر عمل کیا جائے تاکہ بہتر پالیسی بن سکے۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں رکن

قومی اسمبلی لال چندنے انکشاف کیا ہے کہ کراچی میں منشیات فروشی کے363 اڈے پولیس کی

سرپرستی میں چلائے جارہے ہیں جبکہ 310افسران واہلکاروں پر منشیات فروشوں سے بھتہ لینے اور

منشیات کے اڈوں کی سرپرستی کرنے کا الزام ہے مگر کارروائی عمل میں نہیں لائی جارہی ہے

جبکہ وڈیروں اور جاگیرداروں کو کھلے عام جرائم کرنے کے لئے اجازت ہے۔ ڈپٹی اسپیکر قومی

اسمبلی قاسم سوری کی سربراہی میں قومی اسمبلی کے اجلاس میں رکن قومی اسمبلی لال چند نے کہا

ہے کہ 310افسران واہلکاروں پر منشیات فروشوں سے بھتہ لینے اور منشیات کے اڈوں کی سرپرستی

کرنے کا الزام ہے نشاندہی کے باوجود منشیات کے اڈوں کی سرپرستی میں ملوث اکثر افسر و اہلکار

ڈیوٹی پر موجود ہیں لال چند نے مزید کہا ہے کہ کراچی کے اندر ایک و ڈیرے کے غیر ملکی

مہمانون شکار کھلنے گئے تھے انہوں نے نظام جوکھیو نامی ایک غریب شخص کو شہید کر دیا گیا

اس واقعے کوسن کر مہذب معاشرے لرز اٹھتا ہیسندھ کا ہر ضلع میں سندھ پولیس کے نگرانی میں

جرائم کی اماجگاہ بن چکا ہے ایسا معمول بن چکا ہے سندھ کے نوجوانوں اور بچوں کو بے یارو

مددگار چھوڑ دیا گیا ہے رکن قومی اسمبلی لال چند نے مزید کہا ہے کہ سندھ کے اندر ایک معزز

عدالتوں میں کمیشن بنایا جائے جو اس وڈیرہ شاہی اور جاگیرداری نظام کے خلاف نوٹس لیا جائے تاکہ

ایسے واقعات کم ہوں اس موقع پر رکن قومی اسمبلی عبدلقادر پٹیل قانون کسی سے بھی بالا تر نہیں

ہے سندھ حکومت بہترین قانون کی عملی مثال ہے بروقت ایف آئی درج کی گئیں ہیں مگر مرکزی

حکومت نے قانون کو ہر صوبے میں ہاتھ میں لینے کے لئے پالیسیاں بنائی ہیں اس کا نوٹس بھی لیا

جائے۔

بل پیش کرنے کی تحریک

ڈاکٹر وحید قریشی بطور محقق

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں