الیکٹرانک ووٹنگ مسترد 30

پی ڈی ایم کا مہنگائی مارچ کا فیصلہ ,دسمبرمیں حکومت مخالف تحریک

Spread the love

حکومت مخالف تحریک

اسلام آباد (صرف اردو آن لائن نیوز) پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے حکومت کیخلاف لانگ مارچ کا اعلان کردیا ، اس سے قبل چار و ں صوبوں میں ’’مہنگائی مارچ‘‘ ہونگے جبکہ لانگ مارچ کی تاریخ کا حتمی فیصلہ 11 نومبر کو پی ڈی ایم سربراہی اجلاس میں ہو گا۔

یہ اعلان ملک بھر میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کیخلاف احتجا ج کی حکمت عملی پر غور کیلئے پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) میں شامل جماعتو ں کے اجلاس میں کیا گیا ۔ مولانا فضل الرحمان کی زیر صدارت اسلام آباد میں ہوئے پی ڈی ایم کے ورچوئل سربراہی اجلاس میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال اور بڑھتی مہنگائی کے مسئلے پر بات چیت کی گئی۔

اجلاس میں قائدمسلم لیگ ن نوازشریف ، صدر مسلم لیگ ن شہباز شریف ، نائب صدر مسلم لیگ ن نائب صدرمریم نواز، محمود اچکزئی، سردار اختر مینگل اور آفتاب شیرپاؤ شریک ہوئے ۔ اجلا س میں حکومت مخالف تحریک میں تیزی لانے کیلئے اہم فیصلے کئے گئے ہیں، مہنگائی کیخلاف احتجاجی ریلیوں اور جلسوں کا سلسلہ جاری رہیگا۔لانگ مارچ کی تاریخ کا حتمی فیصلہ 11 نومبر کو پی ڈی ایم سربراہی اجلاس میں ہو گا۔

سربراہی اجلاس اسلام اباد میں ہو گا، جبکہ اجلاس میں بعض شرکاء نے رائے دی ’’لانگ مارچ‘‘ کی تاریخ کا اعلان لاہور جلسے کے بعد کیا جائے۔ مہنگائی مارچ مرحلہ وار صوبائی سطح پر ہوگا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا 13 نومبر کو کراچی، 17 نومبر کو کوئٹہ ، 20نومبر کو پشاور اور لاہور میں 29 یا 30 نومبر کو مہنگائی مارچ کئے جائینگے ۔

اجلاس میں دس نومبر کو ہونیوالے پار لیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے حوالے سے بھی حکمت عملی پر غور کرتے ہوئے ای وی ایم ، نیب ترمیمی آرڈیننس سمیت مختلف 18 بلز کی پارلیمنٹ سے منظوری رکوانے کی حکمت عملی طے کرتے ہوئے اپوزیشن کے تمام ارکان کو پیر کو اسلام آباد پہنچنے کی ہدایت کی گئی ۔

پی ڈی ایم نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کو بھی مسترد کر دیا اور کہا سمندر پار پاکستانیوں کی ووٹنگ کا میکنزم تبدیل ہونا چاہئے۔11نومبرکو ہونیوالے پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس میں انتخابی اصلاحات بلز روکنے کیلئے پیپلز پارٹی کیساتھ بھی مشترکہ حکمت عملی بنانے کی مشاورت کی جائیگی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمن نے کہا حکومت نے مہنگائج بڑھا کر عوام پر مظالم کے پہاڑ گرا دئیے ہیں،

ہمیں عوام کو اور خود کو گھر و ں سے نکالنا ہو گا،حکومت کو مذید وقت دینا عوام اور ملک سے زیادتی ہو گی۔ پی ڈی ایم اجلاس کے بعد حکومت مخالف اتحاد کے سیکرٹری جنرل شاہد خاقان عباسی نے اعلامیہ جاری کیا۔اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں ملک کی مجموعی سیاسی اور معاشی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، بدترین مہنگائی، نیب آرڈیننس، نام نہاد انتخابی اصلاحات اور ملک کو درپیش داخلی و خارجی امور پر بھی تفصیلی غور کیا گیا، ملک میں بدترین مہنگائی کی شدید مذمت کی گئی،

بجلی، گیس، پٹرول، چینی اور دیگر اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں بدترین اضافہ مسترد کر دیاگیا۔ حکومت کی عوام دشمنی کیخلاف فیصلہ کن تحریک چلانے پر اتفاق کیا گیا، جس کے تحت صوبائی دارالحکومتوں میں بھرپور احتجاجی ریلیوں کے انعقاد کا فیصلہ کیا گیا۔

اعلامیہ کے مطابق پی ڈی ایم نے مطالبہ کیا کہ اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ واپس لیکر عوام کو فوری ریلیف دیا جائے، مہنگائی کی بنیادی وجہ عمران خان حکومت کی تاریخی کرپشن ہے، آئی ایم ایف سے طے پانیوالی شرائط عوام کے سامنے لائی جائیں، اعلامیہ میں کہاگیا حکومت کیخلاف پارلیمنٹ کے اندر اور باہر احتجاج کی حکمت عملی طے کر لی گئی،

پارلیمنٹ میں تمام جماعتوں سے مل کر حکمت عملی کی تیاری کی ذمہ داری قائد حزب اختلاف شہباز شریف کو سونپ دی گئی۔ اجلاس نے ڈسکہ دھاندلی رپورٹ میں قصوروار قرار پانے والوں کیخلاف فوری قانونی کارروائی کرنے کا بھی مطالبہ کیا ۔ انہوں نے کہاکہ ثابت ہوا کہ مسلط ٹولے نے ووٹ چوری کی، عملے کو اغوا کرایا، ووٹ چوروں اور اغوا کاروں کو سزائیں دی جائیں۔

شاہد خاقان عباسی نے اجلاس کے بعد بتایا پی ڈی ایم نام نہاد انتخابی اصلاحات پر حکومتی اقدامات کو 2018ء کے الیکشن فراڈ سے بڑا فراڈ سمجھتا ہے، یہ ملک وقوم کے حق انتخاب کی نفی اور الیکشن چوری کرنے کی بد ترین حکومتی سازش ہے ،جسے ناکام بنائیں گے۔ اب یہ تحریک عمران خان کو گھر بھجوا کر ہی ختم ہو گی، عوام مزید ایک لمحہ بھی عمران نیازی حکومت کو برداشت کرنے کو تیار نہیں،انہوں نے کہا اجلاس نے نیب ترمیمی آرڈیننس، انتخابی اصلاحات، ای وی ایم اور انٹرنیٹ ووٹنگ کو بد نیتی قرار دیا۔

حکومت مخالف تحریک

ڈاکٹر وحید قریشی بطور محقق

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں