نسلہ ٹاور گرانے کا 48

سپریم کورٹ کا ایک ہفتے میں نسلہ ٹاور گرانے کا حکم , کمشنر کراچی سے رپورٹ طلب

Spread the love

سپریم کورٹ کا حکم

کراچی (صرف اردو آن لائن نیوز) سپریم کورٹ نے ایک ہفتے میں نسلہ ٹاور گرانے کا حکم دیتے ہوئے کمشنر کراچی سے ایک ہفتے میں رپورٹ طلب کرلی۔ چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں لارجر بینچ نے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں اہم مقدمات کی سماعت کی۔

نسلہ ٹاور کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے عمارت کو ایک ہفتے میں گرانے کا حکم دیدیااور نسلہ ٹاور گرانے کیلئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا اس کے اخراجات مالک سے لئے جائیں گے۔

عدالت نے گجر، اورنگی اور محمودآباد نالہ متاثرین بحالی کیس میں سندھ حکومت کی رپورٹ پر عدم اطمنان کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ کو طلب کیا، رپورٹ میں مالی مشکلات کا ذکر کیا گیا تھا۔ چیف جسٹس کے حکم پر کچھ دیر بعد وزیراعلیٰ سندھ صوبائی وزراء اور ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب کے ہمراہ عدالت پہنچ گئے۔

چیف جسٹس نے کہا حضور بتائیں شہر کی کیا حالت ہوگئی، لوگوں کو پینے کا پانی نہیں مل رہا، سڑکیں بھی خراب ہیں۔ مرادعلی شاہ نے بتایا ہمارے پاس افسران کی کمی ہے، ایک کی جگہ چار لوگ کام کر رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا آپ سیاسی بیان بازی مت کریں۔ و ز یر اعلیٰ سندھ نے کہا میں سیاسی بیان نہیں دے رہا،

حقیقت بتا رہا ہوں۔جسٹس اعجاز الحسن نے کہا آپ نالوں کے متاثرین کیلئے بحریہ ٹاؤن کے پیسے مانگ رہے ہیں۔ جو ابھی آئے بھی نہیں۔ مرادعلی شاہ نے کہا یہ سندھ کے عوام کے پیسے ہیں، متاثرین کی بحالی کیلئے 36 ارب روپے درکار ہیں، جو وفاق نے دینے سے انکار کر دیا، ہم نے سو ایکڑ زمین مختص کی، مالی مشکلات کے باعث تیزی سے کام نہیں ہو رہا۔

عدالت نے تجاوزات سے متعلق سندھ ہائی کورٹ کے تمام حکم امتناعی ختم کر دیئے، سٹے آرڈرز کے باعث اینٹی انکروچمنٹ سیل کی کارروائی رک گئی تھی۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں لارجر بنچ جو چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس قاضی امین پر مشتمل ہے نے گجر نالہ متاثرین کی بحالی سے متعلق کیس پر سماعت کے دوران سندھ حکومت کی جانب سے گجر نالہ متاثرین کی بحالی سے متعلق پیش کی جانیوالی رپورٹ پر ریمارکس دیئے کہ آپ لوگ عدالت کا مذاق اڑا رہے ہیں ؟

کیا رپورٹ پیش کی ہے آپ نے ؟ اب تک کیا ہوا ہے ؟ زمینی حقائق کیا ہیں یہ بتائیں ؟ بعدازاں نارتھ ناظم آباد میں ہسپتال کی پارکنگ کیلئے سرکاری جگہ پر قبضے کیخلاف درخواست پر سماعت چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں ہوئی،

اس موقع پر چیف جسٹس جسٹس گلزار احمد نے کہا شہر قائد میں سالہا سال سے یہی چلا آ رہا ہے جو آتا ہے مال بناتا ہے اور چلا جاتا ہے۔۔ہسپتال کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ضیاء الدین ہسپتال نے کسی سرکاری جگہ پر قبضہ نہیں کیا، لوگ روڈ پر خود ہی پارکنگ کرتے ہیں۔عدالت نے ڈی جی کے ڈی اے سے استفسار کیا یہ روڈ آپ کیوں نہیں بناتے،

اسے بند کیا ہوا ہے؟ روڈ پر گھر کیسے بن گئے؟چیف جسٹس نے ریمارکس دیے گزشتہ کئی دہائیوں سے شہر کا یہی حال ہے، پورا کراچی گرے اسٹرکچر ہو گیا ہے، آپ لوگ دفتر چائے پینے آتے ہیں، آپ نے شہر کو بنانا ہے، آپ کو پتہ ہے شہر کیا ہوتا ہے،

کراچی میٹرو پولیٹن سٹی ہے، کر کیا رہے ہیں آپ؟سپریم کورٹ نے ڈی جی کے ڈی اے سے استفسار کیا کتنے لوگوں کو آپ نے نوٹس جا ر ی کیے ہیں؟ جس پر ڈی جی کے ڈی اے نے کہا جلد تبادلے ہو جاتے ہیں، میرا بھی تبادلہ کر دیا گیا تھا،

میں نے ہائیکورٹ سے رکوایا ہے۔عدالت نے پوچھا آپ کی جگہ کس کو ڈی جی کے ڈی اے لگایا گیا ہے؟ ڈی جی کے ڈی اے نے بتایا میری جگہ محمد علی شاہ کو لگایا گیا ہے۔چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ سے استفسار کیا کہ کون ہیں یہ محمد علی شاہ؟

جس پر انہوں نے کہا میں معلوم کر لیتا ہوں۔عدالت نے ڈی جی کے ڈی اے سے استفسار کیا شہر میں کتنے رفاہی پلاٹس ہیں، جس پر انہوں نے بتایا 3000 کے قریب رفاہی پلاٹس ہیں۔چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے رفاہی پلاٹس پر کہیں کلب چل رہا ہے تو کہیں شادی ہال، کچھ اور باقی پلاٹوں پر گھر بنے ہوئے ہیں۔ بعد ازاں پی آئی اے کی زمین کے تنازع کیس کی سماعت سپریم کورٹ نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ کو رپورٹ پیش کرنے کا حکم د یتے ہوئے بورڈ آف ریونیو سے زمین کے متعلق جواب طلب کرلیا ،

عدالت عظمیٰ نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا سول ایوی ایشن کی کارکردگی صفر ہے، آپ نے دنیا کے سامنے تماشا بنا دیا ہے۔دوسران سماعت ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل سول ایوی ایشن و دیگر افسران سپریم کورٹ میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس گلزاراحمد نے کہا ائیرپورٹ کی زمین پر شادی ہالز بنے ہوئے ہیں۔

کیا اب سول ایوی ایشن نے بھی شادیاں کرانا شروع کردی ہے؟ چیف جسٹس نے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل سی اے اے سے مکالمہ میں کہا کیا آپ کو پتہ ہے آپ کا ائیر پورٹ 100 سال پرانا لگتا ہے۔ صرف 2 جہاز کھڑے دیکھتے ہیں، اتنی بڑی زمین ہے وہاں پر ترقیاتی کام کیوں نہیں کرتے؟

آپ کے ڈی جی سول ایوی ایشن کہا ہیں؟ انہیں بلائیں۔ وکیل سول ایوی ایشن نے عدالت کو بتایا ڈی جی کابینہ اجلاس میں ہے۔ ڈی جی اسلام آباد میں ہونے کے باعث پیش نہیں ہوسکتے۔ کیا آپ کو معلوم ہے دیگر ائیر پورٹ پر ہر ایک سیکنڈ میں جہاز آتے جاتے ہیں۔ جس زمین کیلئے آئے ہیں انہیں واپس کردیں آپ کا کام نہیں۔ ہمیں سول ایوی ایشن کے کام کا اندازہ ہوچکا ہے۔ سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ کو رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا اور بورڈ آف ریونیو سے زمین کے متعلق جواب طلب کرلیا ہے۔

سپریم کورٹ کا حکم

ڈاکٹر وحید قریشی بطور محقق

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں