افغان حکام سے ملاقات 44

کابل میں پاکستان کی سیاسی ، عسکری قیادت کی افغان حکام سے ملاقات

Spread the love

افغان حکام سے ملاقات

کابل (صرف اردو آن لائن نیوز) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے افغانستان کے عبوری وزیر اعظم ملا حسن اخوند سے ملاقات کی، جس میں دو طرفہ امور، تجارتی و اقتصادی شعبوں میں تعاون بڑھانے پر با ت چیت کی گئی ۔ اعلی عسکری قیادت و پاکستانی وفد کے دیگر اراکین بھی اس ملاقات میں شریک تھے۔

اس موقع پر شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان، افغانستان میں دیرپا امن اور استحکام کا خواہاں ہے، پاکستان، انسانی بنیادوں پر افغان بھائیوں کی مدد کیلئے پر عزم ہے، پاکستان، افغانستان کے ساتھ دو طرفہ تجارت بڑھانے کا متمنی ہے، پاکستان، افغانستان کے قریبی ہمسایہ ممالک کے ساتھ مل کر، خطے میں امن کیلئے پر عزم ہے۔

عبوری وزیراعظم ملا حسن اخوند نے انسانی امداد کی بروقت فراہمی پر پاکستانی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔اس سے قبل وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ، افغانستان کے ایک روزہ دورے پر کابل پہنچے ہوائی اڈے پر افغانستان کے عبوری وزیر خارجہ امیر خان متقی، افغانستان میں تعینات پاکستانی سفیر منصور احمد خان اور وزارت خارجہ افغانستان کے سینئر حکام نے وزیر خارجہ کا خیر مقدم کیا ،

ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید ،وزیر اعظم کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان محمد صادق،سیکرٹری خارجہ سہیل محمود،سیکرٹری کامرس صالح احمد فاروقی،چیرمین پی آئی اے ایر مارشل (ر) ارشد ملک،چیرمین نادرا طارق ملک،کسٹم،ایف بی آر اور وزارت خارجہ کے سینئر افسران بھی وزیر خارجہ کے ہمراہ تھے ۔ ملاقات میں تجارتی و اقتصادی شعبہ جات میں تعاون بڑھانے اور افغان عوام کو معاشی بحران سے نکالنے کیلئے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔

شاہ محمود قریشی نے کہاکہ پاکستان، افغانستان کے ساتھ دو طرفہ تجارت بڑھانے کا متمنی ہے۔ انہوں نے کہاکہ افغان شہریوں بالخصوص تاجروں کیلئے ویزہ سہولیات، نئے بارڈر پوائنٹس کا اجراء اور نقل و حرکت میں سہولت کی فراہمی اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان، افغانستان کے قریبی ہمسایہ ممالک کے ساتھ مل کر، خطے میں امن و استحکام کیلئے اپنا تعمیری کردار ادا کرنے کیلئے پر عزم ہے، افغان حکومت کے عبوری وزیراعظم ملا حسن اخوند نے انسانی امداد کی بروقت فراہمی پر پاکستانی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔

دوسری طرف افغان قیادت نے بھی وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا دورہ کابل کامیاب اور مفید قراردے دیا،شاہ محمود قریشی کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے افغان عبوری وزیر خارجہ امیر خان متقی نے کہا کہ ہمارے برادر،دوست اور ہمسایہ ملک پاکستان کے وفد کیساتھ افغان قیادت کی مفید گفتگو ہوئی،پاکستانی وفد کے دورہ کابل پر ان کے مشکور ہیں،

امید ہے کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی سربراہی میں پاکستانی وفد کے دورے سے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور سفارتی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے ۔امیر خان متقی کا کہنا تھا کہ پاکستانی وفد کیساتھ تجارت،ویزا مسائل اور بارڈر پر آمدورفت میں درپیش مشکلات سے متعلق تفصیلی گفتگو ہوئی،پاکستانی وفد نے مسائل کے حل کی یقین دہانی کرائی ۔افغان عبوری وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ توقع ہے دونوں ممالک کے درمیان وزارتوں کی سطح پر بھی بات چیت کا سلسلہ جاری رہے گا،

امکان ہے کہ ہمارے وفود بھی اسلام آباد جائیں گے،انہوں نے یہ بھی کہا کہ افغانوں کی بڑی تعداد پاکستان میں علاج کے لئے جاتی ہے،پاکستانی قیادت نے مریضوں اور افغان شہریوں کی آمدورفت میں سہولیات دینے کا وعدہ کیا ہے۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کابل کا ایک روزہ دورہ مکمل کر کے وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔وطن واپسی پروفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ دورہ افغانستان کے دوران افغان حکام نے دوٹوک الفاظ میں باور کرایا ہے کہ وہ کسی کو اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کی ہرگزاجازت نہیں دیں گے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت کی میزبانی میں افغانستان سے متعلق ہونے والی میٹنگ میں ہمسایہ ملک کی طرف سے دعوت نامہ آچکا ہے، ہم نے فیصلہ کرنا ہے شرکت کرنی ہے یا نہیں، بھارت کے ساتھ تعلقات میں سرد مہری ہے، مناسب وقت پر فیصلہ کریں گے۔انہوں نے بتایا کہ ڈی جی آئی ایس آئی نے دورے میں انٹیلی جنس وفد سے ملاقات کی۔ ہماری خواہش ہے مہاجرین واپس جائیں، افغانستان میں حالات نارمل ہیں، ہمیں خوف کا عالم دکھائی نہیں دیا، کابل ایئرپورٹ پربھی حالات معمول کے مطابق تھے۔

حامد کرزئی، عبداﷲ عبداﷲ اورگلبدین حکمت یارکے ساتھ ٹیلی فونک گفتگوبھی ہوئی ہے۔ افغان حکام کیساتھ طویل اور مفید نشست رہی، ملاقاتوں میں افغان امن، تجارت، دفاع اور نقل وحمل سے متعلقہ امور پر گفتگو ہوئی۔ افغان کاروباری شخصیات کے لیے 5 سالہ ویزہ کی سہولت کا اختیار کابل میں پاکستانی سفارتخانے کو دے دیا گیا ہے، اگلی نشست 27 اکتوبر کو تہران میں متوقع ہے۔شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان افغانستان کی معاونت کے لیے 5 ارب روپے کی امدادی اشیا فراہم کرے گا،

افغانستان میں سالوں کا بگاڑ چند ہفتوں میں ٹھیک نہیں ہو گا، سمت درست ہو تو آہستہ آہستہ پیشرفت ہوسکتی ہے، طالبان حکومت کوابھی تک دنیا میں کسی نے تسلیم نہیں کیا، افغان حکومت کی خواہش ہے ان کی حکومت کوتسلیم کیا جائے، خیرخواہ ہونے کے ناطے افغان حکام کو عالمی برادری کی توقعات کے بارے میں بتایا، اگرافغان حکومت عالمی برادری کی توقعات پرپیشرفت کرتی ہے توافغان حکومت کے لیے آسانی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ طالبان سمجھتے ہیں

پاکستان ان کے لیے نرم گوشہ رکھتا ہے، وفود کے آنے جانے سے ماحول سازگارہو گا، افغان، طالبان، تاجک کو میز پر بٹھا کر گفتگو کے ذریعے غلط فہمیوں کو دور کریں گے۔ افغان قیادت نے مشکل وقت میں ساتھ دینے پر پاکستان کے تعاون کو سراہا، پیدل بارڈر کراسنگ کے وقت کو 12 گھنٹے کردیا ہے، ٹریڈ کی حد تک بارڈر چوبیس گھنٹے کھلا رہے گا، 24 گھنٹے بارڈرکھلنے سے افغانستان اور پاکستان کو فائدہ ہو گا،

میڈیکل، ایمرجینسی کیس والوں کو آن آرائیول ویزا دیا جائے گا، آن لائن ویزا کے اجرا سے بہت آسانی ہوئی ہے۔۔انہوں نے کہا کہ معاشی طور پر افغانستان کی مدد کرنے کے لیے تمام پھل اور سبزیاں ڈیوٹی یا ٹیکس عائد کیے بغیر افغانستان درآمد کرنے کی اجازت ہو گی جس سے یقیناً ان کی معیشت اور کسان و کاشتکار کو فائدہ ہو گا ہم معاشی استحکام میں افغانستان کی مدد کے لیے تیار ہیں اور ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہمارے اور ان کے ماہرین آپس میں بیٹھ کر فیصلہ کریں گے کہ مزید کون سی اشیا ہے جن کی ڈیوٹی کو ہم ختم یا کم کر سکتے ہیں تاکہ ان کی ایکسپورٹ میں آسانی ہو
کابل دورہ
افغان حکام سے ملاقات

ڈاکٹر وحید قریشی بطور محقق

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں