39

امریکہ کی افغان ڈپلومیسی ٹیم تبدیل زلمے خلیل زاد فارغ

Spread the love

امریکہ کی افغان ڈپلومیسی

واشنگٹن(صرف اردو آن لائن نیوز) امریکہ نے افغانستان کے لئے اپنی ڈپلومیسی ٹیم کو تبدیل کر دیا ہے جس کے نتیجے میں موجودہ نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کو فارغ کر کے ان کی جگہ ان کے نائب تھامس ویسٹ کو اس عہدے پر تعینات کر دیا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے یہاں واشنگٹن میں اس تبدیلی کا اعلان کرتے ہوئے وزیر خارجہ انٹیونی بلنکن کا ایک بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے زلمے خلیل زاد کی امریکی عوام کے لئے کئی عشروں تک محیط خدمات پر ان کا شکریہ ادا کیا ہے۔ بیان میں بتایا گیا ہے کہ تھامس ویسٹ اس وقت کے نائب صدر بائیڈن کی قومی سلامتی ٹیم اور نیشنل سکیورٹی کونسل کے سٹاف میں شامل رہے ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ نے بتایا کہ مسٹر ویسٹ اب افغانستان کے حوالے سے امریکی سفارتی عمل کی قیادت کرینگے اور دوحہ میں موجود کابل کے لئے امریکی سفارتخانے سے قریبی رابطہ رکھیں گے۔ یاد رہے کہ صدر بائیڈن کے نائن الیون تک مکمل انخلاء کے اعلان کے بعد زلمے خلیل زاد نے اپنا عہدہ چھوڑنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا لیکن انہیں فی الحال عہدے پر موجود رہنے کی درخواست کی گئی تھی جسے انہوں نے قبول کر لیا تھا۔

تاہم واشنگٹن کے سفارتی حلقوں پر واضح تھا کہ افغانستان کے بارے میں زلمے کی اپروچ سے بائیڈن انتظامیہ مطمئن نہیں تھی۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق طالبان نے پوری ہوشیاری اور چالاکی کے ساتھ امریکہ کے ساتھ امن معاہدہ کیا لیکن خفیہ طور پر افغانستان کے اندر پیش قدمی جاری رکھی۔

زلمے خلیل زاد نے طالبان کی اسمارٹ ڈپلومیسی کا نوٹس نہیں لیا۔ اس طرح ان کے ساتھ جو امن معاہدہ کیا اس نے انتظامیہ کے ہاتھ باندھ دیئے۔ طالبان کا اس کا پورا فائدہ اٹھایا اور اس طرح امریکہ کو انخلاء پر آمادہ کر کے تیز رفتاری سے کابل پر قبضہ کر لیا۔ تاہم سیاسی مبصرین توقع کر رہے ہیں کہ نئے امریکی نمائندے کی تعیناتی سے طالبان کو رعایتیں دینے کا عمل رک جائے گا اور افغانستان کے بارے میں زیادہ ٹھوس پالیسی اختیار کی جائے گی۔

امریکہ کی افغان ڈپلومیسی


ڈاکٹر وحید قریشی بطور محقق

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں