43

وزیر اعلیٰ جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد بلوچستان اسمبلی میں پیش

Spread the love

بلوچستان اسمبلی میں پیش

کوئٹہ(صرف اردو آن لائن نیوز)بلوچستان اسمبلی میں وزیراعلیٰ جام کمال خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی قرار داد پیش کر دی گئی۔رکن اسمبلی سردار عبدالرحمان کھیتران نے وزیراعلیٰ کیخلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی۔ قرارداد کی 33 ارکان نے حمایت کی، اراکین نے اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر حمایت کا اعلان کیا۔ سپیکر بلوچستان اسمبلی نے تحریک عدم اعتماد پر رائے شماری کیلئے 25اکتوبر دن گیارہ بجے کا وقت مقرر کر دیا ،

اس موقع پر عبدالرحمان کھیتران کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ کی خراب حکمرانی کے باعث مایوسی، بدامنی، بیروزگاری، اداروں کی کارکردگی متاثرہوئی ہے،وزیراعلی خود کو عقل کْل سمجھ کراہم معاملات کو مشاورت کیے بغیر چلارہے ہیں۔

عبدالرحمان کھیتران نے کہا کہ اہم معاملات کو مشاورت کے بغیر چلانے سے صوبے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایاگیا، وزیراعلیٰ جام کمال خان اپنے طور پر صوبے کے معاملات چلارہے ہیں، مطالبہ کرتے ہیں کہ خراب کارکردگی پر وزیراعلیٰ کوعہدے سے ہٹایا جائے۔جمعیت علمائے اسلام (ف) کے اپوزیشن لیڈر اسمبلی کے پانچ اراکین لاپتہ ہیں، انہیں گرفتار کیاگیاہے۔ جو ایم پی ایز لاپتہ ہیں انہیں ایوان میں پیش کیاجائے۔ اگر اراکین کو پیش نہیں کیا تو احتجاج کریں گے گھروں نہیں جائیں گے۔

بلوچستان اسمبلی کے اجلاس کے دوران حکومتی ناراض اراکین بشریٰ رند، ماہ جبین شیران، لالا رشید، اکبر آسکانی اور لیلیٰ ترین شریک نہیں ہوئے۔اس سے قبل حکمران جماعت بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما ظہور احمد بلیدی کا کہنا ہے کہ 36 ممبر شو کر دئیے، 65 کے ایوان میں 40 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔ملک سکندر، اسد بلوچ اور دیگر رہنماؤں نے بھی وزیراعلیٰ جام کمال کو مستعفی ہونے کا مشورہ دے دیا۔

65 ارکان کی بلوچستان اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کے لیے 33 ارکان کی حمایت کی ضرورت ہے۔وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کا کہنا تھا کہ پہلے روز سے کہہ رہا ہوں کہ اتحادی ہمارے ساتھ ہیں اور ہم پر امید ہیں، پہلی مرتبہ اپوزیشن حکمراں جماعت کے ساتھ ملکر کھیل رہی ہے، سیاست میں سب پر اعتماد ہوتا ہے ہیں، کیسے ممکن ہے حکومتی ارکان اپوزیشن کے ساتھ ملکرتحریک لیکر آئیں، اگرتحریک عدم اعتماد اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے آتی تو بات بنتی تھی،

اپوزیشن نے نا اتفاقی پیدا کرنے کے لیے ماحول پیدا کیا، 26 ممبران ہمارے ساتھ ہیں۔ دوسری طرف بلوچستان حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے کہا ہے کہ 5ارکان کو غائب کرنے کی باتیں قابل مذمت ہیں، مخالفین اپنی شکست دیکھ کر الزام تراشی کررہے ہیں،اسمبلی اراکین کا ایوان میں آنا یا نہ آنا ان کا اپنا حق ہے، کسی کوزبردستی ایوان میں جانے سے روکا نہ لایا جا سکتا ہے،

ہم ناراض اراکین کے ساتھ رابطے میں تھے، کچھ ناراض اراکین مان گئے باقی بھی مان جائیں گے۔ لیاقت شاہوانی نے کہا کہ ہم اپنے دوستوں کومنانے کی کوشش کررہے تھے۔اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی میں قرار داد پیش کرنے والے اپنی شکست دے کرالزامات لگا رہے ہیں۔

مقدس ایوان میں ایسے الفاظ، رویئے کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ترجمان لیاقت بلوچستان حکومت نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان اور ہمارے اتحادی وزیراعلی جام کمال کے ساتھ ہیں، بار ہا کہا اکثریت ہمارے ساتھ ہے آج واضح ہو گیا، ایک،آدھ دوست ناراض ہے ان کوبھی منانے کی کوشش کررہے ہیں۔

بلوچستان اسمبلی میں پیش


ڈاکٹر وحید قریشی بطور محقق

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں