طالبان جنگ ختم اعلان 45

ننگر ہار ،داعش کیخلاف آپریشن ،کئی دہشتگردہلاک، اہم عہدیدار گرفتار

Spread the love

داعش کیخلاف آپریشن

کابل،جلال آباد،واشنگٹن (صرف اردو آن لائن نیوز) ترجمان طالبان نے کہا ہے کہ لڑکیوں کے سیکنڈری اسکولز بھی جلد کھول دیئے جائیں گے۔قطر ی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے طالبان حکومت کے وزارت داخلہ کے ترجمان نے کہا کہ بہت جلد لڑکیوں کو اسکول جانے کی اجازت دیں گے۔ترجمان سعید خوستی نے مزید کہا کہ لڑکیوں کے سیکنڈری اسکولز کھولنے کی تاریخ کا باضابطہ اعلان وزارت تعلیم جلد ہی ایک پریس کانفرنس میں کرے گی۔

وزارت داخلہ کے ترجمان نے یہ بھی کہا کہ میری معلومات کے مطابق نہ صرف لڑکیوں کے سیکنڈری اسکولز بلکہ یونیورسٹیز بھی کھول دی جائیں گی۔ ملک میں لڑکیوں اور خواتین کو تعلیم کی اجازت ہوسکے گی۔افغانستان کے قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی نے کہا ہے کہ افغانستان میں نئی حکومت کو تسلیم نہ کرنے سے داعش کو فائدہ ہے۔امیر خان متقی نے ترک میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان کی حکومت کو تسلیم نہ کرنا افغانوں کے حقوق سلب کرنا ہے اور اس صورتحال نے افغانستان کی معیشت پر منفی اثر ڈالا ہے،

طالبان حکومت کو عالمی سطح پر تسلیم کرنا اور عالمی امداد ملکی معیشت کی بحالی کیلئے اہم ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکا کا ملکی ذخائر منجمد کرنا عالمی قوانین اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔اافغانستان میں طالبان تحریک نے مشرقی صوبے ننگرہار میں داعش تنظیم کے والی(عہدیدار)کو گرفتار کر لیا۔ ننگرہار کو داعش تنظیم کا گڑھ شمار کیا جاتا ہے۔داعش تنظیم کے سیکڑوں ارکان نے ننگرہار صوبے میں پناہ لے رکھی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق ٹویٹر پر طالبان حکومت کے سرکاری اکاؤنٹ پر بتایا گیا کہ یہ چھاپہ مار کارروائی نہایت کامیاب رہی اور گروپ کے تمام ارکان کو ہلاک کر دیا گیا۔

یہ کارروائی افغانستان میں داعش تنظیم کی جانب سے کابل ہوائی اڈے کے باہر دو خونی دھماکوں کی ذمے داری قبول کرنے کے بعد عمل میں آئی۔افغانستان کے مشرقی ننگرہار کی صوبائی حکومت نے کہا ہے کہ اس نے صوبے میں تاریخی اور ثقافتی اہمیت کے حامل مقامات کی کھدائی اور کھوج پر پابندی عائد کر دی ہے۔

مشرقی ریجن کی تاریخی یادگاروں بارے ڈائریکٹوریٹ نے پیر کو اپنی ویب سائٹ پر جاری کردہ ایک بیان میں اس ادارے کے ڈائریکٹر مولوی امان اﷲ کے حوالے سے کہا ہے کہ تاریخی اور ثقافتی ورثہ کی حفاظت اور ان کی تحفظ کیلئے صوبہ ننگرہار بھر میں ان مقامات پر بے دریغ کھدائی پر پابندی ہے۔ امریکہ رواں ہفتے توسیعی ٹرائیکا کے ماسکو میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت کے لیے تیار دکھائی دیتا ہے لیکن اس کے باوجود اپنی شرکت کی تصدیق کرنے سے گریزاں ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق ایک نیوز بریفنگ میں امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا کہ بائیڈن انتظامیہ اجلاس میں شرکت کا ارادہ رکھتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جب افغانستان کی بات آتی ہے تو روس جیسے ممالک کے ساتھ ہمارے مفادات میں ربط ہے اور پہلے ہم نے دیکھا ہے کہ توسیعی ٹرائیکا مفید ثابت ہوا ہے۔

داعش کیخلاف آپریشن

ڈاکٹر وحید قریشی بطور محقق

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں