37

قومی اسمبلی، اپوزیشن کا شدید احتجاج ، حکومت نے عوام کو مہنگائی کے سیلاب میں ڈبو دیا، شہباز شریف

Spread the love

اپوزیشن کا شدید احتجاج

اسلام آباد(صرف اردو آن لائن نیوز) قومی اسمبلی میں اپوزیشن ارکان نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور ہوشرباء مہنگائی کے خلاف شدید احتجاج کیا اپوزیشن ارکان نے بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ رکھی تھیں جبکہ پلے کارڈز بھی لہرائے ، پلے کارڈز پر ’’پینڈورا‘کابینہ نامنظور ، 126دن کا دھرنا 137کا لیٹر پیٹرول سمیت دیگر نعرے درج تھے، اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ریاست مدینہ کا دن رات نام لینے والوں نے پھر مہنگائی کے ایک اور سیلاب میں عوام کو ڈبو دیا ہے ،

بجلی ،پیٹرول ڈیزل مٹی کے تیل کی قیمت میں اضافہ کیا گیا،بجلی کے بل بجلی بن کر عوام پر گر رہے ہیں،انہوں نے عوام کی زندگی تنگ کر دی ہے غریب یتیم اور بیواؤں کے آنسوؤں کا ان کو حساب دینا پڑے گا، اس کمر توڑ مہنگائی کے خلاف ہم سب نے کمر باندھ لی ہے، ہم اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک پاکستان کے کونے کونے میں جاکر ہم عوام کی آواز نہیں بن جاتے۔ اپوزیشن لیڈرکی تقریر کے جواب میں وفاقی وزیر مراد سعید کی تقریر شروع ہوتے ہی اپوزیشن ارکان نے احتجاج شروع کر دیا اور کورم کی نشاندہی کر دی حکومت کورم پورا کرنے میں ناکام رہی جس پرسپیکر نے اجلاس کی کاروائی بدھ تک ملتوی کردی ۔

پیر کو قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر اسد قیصر کی صدارت میں ہوا ، سپیکر نے وقفہ سوالات شروع کیا تاہم اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے بات کرنے کی اجازت مانگی ،سپیکر کی جانب سے بات کرنے کی اجازت ملنے پر شہباز شریف نے کہا کہ (آج) منگل کوپورے عالم اسلام اور پاکستان بھرمیں نبی کریمؐ کا یوم ولادت سے انتہائی جوش وخروش سے منایا جائے گا ، نبی کریمؐ کو اﷲ تعالیٰ نے آخری نبی بناکر اس دنیامیں بھیجا اور ان کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا ،

ختم نبوت ؐ مسلمانوں کے عقیدے کی اساس ہے ، شہباز شریف نے کہا کہ ریاست مدینہ میں کوئی رات کو بھوکا نہیں سوتا تھا،کسی بیوہ اوریتیم کی حق تلفی نہیں ہوتی تھی،آج جب ہم بات کرتے ہیں ریاست مدینہ کی تو وہاں پر بھوک اور افلاس نہیں تھی، ریاست مدینہ میں ناانصافی نہیں تھی، کمر توڑ مہنگائی نہیں تھی ،بے روزگاری نہیں تھی ، شہباز شریف نے کہا کہ آج پاکستان کے اندر کمر توڑ مہنگائی ہے ،یہ بجٹ جو اس حکومت نے پیش کیا وہ سراسر فراڈ پر مبنی تھا،

یہ جو کہتے تھے بجٹ ٹیکس فری ہے میں نے گزارش کی تھی کہ یہ جھوٹ کا پلندہ ہے اور کئی منی ٹیکسز آئیں گے ، کس طرح حکومتی بینچز سے کتابوں کی شکل میں اپوزیشن کے سروں پر پتھر مارے گئے ،گریبان پکڑے گئے،بدقسمتی سے منی بجٹ کے اوپر منی بجٹ آیا ، پورا پاکستان اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ یہ 74سال کی بدترین حکومت آئی ہے جس نے عوام کا جینا چھین لیا ہے، تین دن پہلے ریاست مدینہ کا دن رات نام لینے والوں نے پھر مہنگائی کے ایک اور سیلاب میں عوام کو ڈبو دیا ہے ،

بجلی کی فی یونٹ قیمت میں ڈیڑھ روپے کا اضافہ کیا گیا، پیٹرول ڈیزل مٹی کے تیل کی قیمت میں دس سے بارہ روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا،بجلی کے بل بجلی بن کر عوام پر گر رہے ہیں ، گھی کی قیمت میں49روپے اضافہ ہوا ، کھانے کے تیل کی قیمت میں 110روپے کا اضافہ ہوا ، اس سے بڑھ کر ظلم کی بات اور کیا ہو سکتی ہے، لاکھوں لوگ بے روزگار ہو چکے ہیں ،

غریبوں کے منہ سے نوالہ چھینا جا چکا ہے۔ لوگ فاقہ کشی پرمجبور ہیں ، آٹا چینی اور دال 20 ہزار ماہانہ کمانے والے کنبے کی پہنچ سے باہر جا چکا ہے، آئی ایم ایف کی شرائط کوپورا کرنے کے لیئے انہوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا، اخبارات میں صاف لکھا ہے کہ آئی ایم ایف اب بھی ان سے راضی نہیں ہوا ، یہ تباہی جوپورے ملک میں پھیل چکی ہے اس کا انجام کیا ہو گا ،یہ حکومت پاکستان کو تباہی کے دہانے پر لا چکی ہے ، عمران خان نے کنٹینر پر کھڑے ہو کر کہا کہ جب بجلی اورگیس کے بل میں اضافہ ہوتاہے تو وہ وزیر اعظم اور حکومت چور ہے ،

یہ بھی کہا کہ اگ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر ایک روپیہ کم ہو جائے تووہ حکومت اور وزیر اعظم چورہے،ڈالر آج بلند ترین سطح پر ہے ،یہ ایک زرعی ملک ہے ، آج 120 روپے میں چینی کلو نہیں ملتی، اس وقت غریب یتیم اور بیوہ سے مفت دوائی چھین کر ان کو موت کے کنویں میں دھکیلا جارہا ہے، صدر مملکت یہاں تشریف لائے اور فرمایا کہ معیشت کی سمت درست ہو گئی ہے ، صدرمملکت اتنے بے خبر ہیں، چینی گندم کے اسکینڈلز جس میں اربوں کھربوں غریب قوم کے لٹ گئے،

معیشت کی تباہی ہو گئی، 15 ہزار ارب کے قرضے تو لے لئے کہیں ایک نئی اینٹ نظر نہیں آتی ، اگر اس سیلاب کے سامنے بند نہ باندھاگیاتو کچھ نہیں بچے گا، نواز شریف کے دور میں جو ایل این جی دس ڈالر میں پڑتی تھی آج 56 ڈالر میں پڑ رہی ہے، معیشت کی اتنی تباہی ہوئی ہے جس کا اندازہ نہیں کر سکتے، انہوں نے جدید ترین بجلی کے پلانٹس کو بند کر دیا اور مہنگے ترین فرنس آئل کی بنیاد پر بجلی بنائی،انہوں نے عوام کی زندگی تنگ کر دی ہے غریب یتیم اور بیوہ کے آنسوؤں کا ان کو حساب دینا پڑے گا، اس کمر توڑ مہنگائی کے خلاف ہم سب نے کمر باندھ لی ہے،

ہم اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک پاکستان کے کونے کونے میں جاکر عوام کی آواز نہیں بن جاتے ۔ اجلاس کے دوران وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے حضرت محمدؐکے اسوہ حسنہ پر بحث کرنے کی تحریک پیش کی جس کے بعد اسپیکر نے وفاقی وزیر مراد سعید کو بات کرنے کا موقع دیا ، مراد سعید نے اپوزیشن لیڈر کی تقریر کا جواب دینا شروع کیا جس پر اپوزیشن ارکان نے احتجاج شروع کر دیا اور کورم کورم کی آوازیں لگاتے رہے ، اپوزیشن ارکان نے مہنگائی کے خلاف پلے کارڈز بھی اٹھارکھے تھے، پلے کارڈز پر پینڈورہ کابینہ نامنظور ، 126دن کا دھرنا 137کا لیٹر پیٹرول سمیت دیگر الفاظ درج تھے ،

اس موقع پر مسلم لیگ(ن)کے رہنماء خرم دستگیر نے کورم کی نشاندہی کر دی جس کے بعد اپوزیشن ارکان ایوان سے باہر نکلنا شروع ہو گئے ،گنتی کرانے کے بعد کورم پورا نہ نکلا جس پرسپیکر نے اجلاس کی کارروائی بدھ تک ملتوی کردی ۔ اس سے قبل پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شہبازشریف نے کہا ہے کہ جتنے عرصے موجودہ حکومت اقتدار میں رہے گی،ملکی معیشت تباہ ہوگی۔ اپوزیشن لیڈر شہبازشریف نے کہا ہے کہ پیٹرول کی قیمتوں کے بڑھنے سے زیادہ تباہی کیا ہوسکتی ہے۔

یہ حکومت ناکام ہوچکی ہے اور جتنا عرصے یہ حکومت اقتدار میں رہے گی، ملکی معیشت مزید تباہ ہوگیشہباز شریف نے کہاہے کہ مہنگائی کے طوفان کا مقابلہ کر نے کا وقت آگیا ہے ، ملک گیر مہنگائی کے خلاف سڑکوں پر نکلنا ہوگا ۔ شہباز شریف نے مشترکہ پارلیمانی پارٹی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ مہنگائی نے عوام کی قمر توڑ دی ہے ،ایک وقت کی روٹی کو لوگ ترس رہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ مہنگائی کا سیلاب عوام کو بہا کے لے جا رہا ہے ،وقت آگیا ہے مہنگائی کے طوفان کا مقابلہ کرنے کا ،ملک گیر مہنگائی کے خلاف سڑکوں پر نکلنا ہو گا۔ انہوں نے کہاکہ مہنگائی اور معاشی تباہی کا زمہ دار صرف اور صرف عمران نیازی ہے ۔

اپوزیشن کا شدید احتجاج


ڈاکٹر وحید قریشی بطور محقق

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں