طالبان جنگ ختم اعلان 30

افغان طالبان نے خواتین کے کھیلوں پر باضابطہ پابندی لگانے کی تردید کر دی

Spread the love

افغان طالبان نے خواتین

کابل،روم (صرف اردو آن لائن نیوز) افغان طالبان نے وومن کرکٹ سمیت خواتین کے کھیلوں پر

باضابطہ پابندی لگانے کی تردید کر تے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں خواتین کے کھیلوں میں حصہ لینے پر اعتراض نہیں،

خواتین کو کرکٹ کھیلنے سے روکنے کا حکم نہیں دیا ،ہمیں اس معاملے میں اپنے مذہب اور ثقافت کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے، اگر خواتین شائستہ لبا س پہنیں تو ان کا کھیلوں میں حصہ لینا معیوب نہیں ،

دوسر ی جانب یورپی یونین نے افغانستان کو بڑے انسانی، سماجی اور معاشی بحران سے بچانے کیلئے ایک ارب یورو کے امدادی پیکج کا اعلان کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق افغان کرکٹ بورڈ کے نومنتخب چیئرمین عزیز اﷲ فضلی نے بتایا کہ ان کی طالبان حکومت کے اعلیٰ حکام سے بات ہوئی ہے جنہوں نے کہا ہے کہ سرکاری طور پر خواتین کے کھیلوں خصوصا ًوومن کرکٹ پر کوئی پابندی نہیں،

ہمیں خواتین کے کھیلوں میں حصہ لینے سے کوئی مسئلہ نہیں۔دوسر ی جانب یورپی یونین نے افغانستان کو بڑے انسانی، سماجی اور معاشی بحران سے بچانے کیلئے ایک ارب یورو کے امدادی پیکج کا اعلان کردیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق یورپی یونین نے کہا کہ افغانستان کی انسانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پہلے سے اعلان کردہ 25 کروڑ یوروز کی رقم میں مزید 30 کروڑ یوروز کا اضافہ کیا جائے گا

جبکہ باقی رقم افغانستان کے ان پڑوسی ممالک کو دی جائے گی جہاں لوگ طالبان حکومت سے فرار کے بعد بطور مہاجرین جا رہے ہیں۔

یورپیئن کمیشن کی سربراہ ارسولا وان ڈیر لیین نے اٹلی کی میزبانی میں ورچوئل جی20 سمٹ کے دوران امداد کا اعلان کیا جہاں یہ سمٹ میں افغانستان میں انسانی اور سکیورٹی کی صورت حال پر بات چیت کے لیے طلب کی گئی تھی۔

انہوں نے زور دیا کہ یورپی یونین کے فنڈز افغانوں کی براہ راست مدد کیلئے ہیں اور یہ فنڈز طالبان حکومت کے بجائے زمین پر کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیموں کو بھیجے جائیں گے کیونکہ یورپی یونین طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کرتی۔

افغان طالبان نے خواتین

ڈاکٹر وحید قریشی بطور محقق

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں