31

ایٹمی قوت بننے سے بھارت کی بلیک میلنگ ختم ہوگئی، ڈاکٹرعبدالقدیر کا آخری انٹرویو

Spread the love

ایٹمی قوت بننے سے

اسلام آباد (صرف اردو آن لائن نیوز) نامور ایٹمی سائنسدان محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے

اپنے انتقال سے کچھ عرصہ قبل ملک کے نامور سینئر صحافی کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا

کہ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی قوت ہیں ،دونوں کو بخوبی علم ہے کہ اگر جنگ ہوئی تو دونوں

ممالک صفحہ ہستی سے مٹ جائیں گے لٰہذا کوئی ایٹمی ہتھیار استعمال نہیں کرے گا ،پاکستان کے

ایٹمی قوت بننے سے خطے میں طاقت کا توازن پیدا ہو گیا ،اب بھارت کبھی پاکستان کو بلیک میل نہیں

کرسکے گا، جس طرح دو سپرپاورزا مریکہ اور روس کے درمیان نونک جھونک ہوتی رہتی ہے

لیکن دونوں کو ایک دوسرے کی طاقت کا علم ہے اس لئے جنگ نہیں ہوتی ،روس افغانستان میں ایٹم

بم استعمال کرنے سے باز رہا ہے ،یہی صورتحال امریکہ کی بھی ہے ، اس نے بھی ایٹم بم کا سہارا

لینے سے گریز کیا لہٰذا اب کوئی ایٹم بم استعمال نہیں کرے گا ،ایٹم بم نے تو امن کو یقینی بنایا ہے

،بھارت کے پاس پاکستان کے مقابلے میں دس گنا زیادہ وسائل ہیں لیکن اس کے باوجود پاکستان کے

عوام بھارت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتے ہیں ۔ تفصیلات کے مطابق اپنی وفات سے کچھ

عرصہ قبل سینئر صحافی نواز رضا کو دئیے گئے آخری انٹرویو کے دوران محسن پاکستان ڈاکٹر

عبدالقدیر خان کہا تھا کہ۔ انہوں نے کہا کہ خطرہ اس وقت تھا جب میں ایٹم بم بنا رہا تھا پوری دنیا میں

گھومتا پھرتا تھا مجھے گھومنے پھرنے کی مکمل آزادی تھی۔میں ہر ماہ یورپ جایا کرتا تھا جہاں مجھ

کوخطرہ لاحق ہو سکتا تھا لوگوں کو معلوم تھا لیکن انہوں نے مجھے کبھی نقصان نہیں پہنچایا ۔اب

میں 85برس کا ہو گیا ہوں اب مجھے کیا خطرہ ہو سکتا ہے ۔میں ، چین ،جاپان ،شام سمیت کہاں کہاں

نہ گیا ،کیا اس وقت مجھے سیکورٹی کی ضرورت نہیں تھی؟ توکیا اب سیکیورٹی کی ضرورت ہے

جب کہ میں اپنے ملک میں رہ رہا ہوں انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ دنیا میں پاکستان

کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں شکوک شہبات کا اظہار کیا جارہا تھا بعض ملک جن میں بھارت

پیش پیش تھا اسے مذاق سمجھ رہا تھا لہذا بھارت سمیت پوری دنیا کو یہ باور کرانا ضروری تھا کہ

پاکستان کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ نہ کرے اور اس کی سلامتی کو کوئی خطرہ لاحق نہ کرے ۔ خدا

کے فضل و کرم سے اب پاکستان ایک ایٹمی قوت بن چکا ہے ۔جنرل ضیا الحق نے بھی ’’India

Today‘‘کو بھی یہ کہا تھا کہ ہم جب چاہیں ایٹم بم بنا سکتے ہیں ۔میں نے 1984میں جنرل ضیا الحق

کو لکھ کر بھیج دیا تھا کہ آپ جب چاہیں مختصر نوٹس پر ایٹمی دھماکہ کیا جا سکتا ہے انہوں نے

ایک سوال کے جواب میں کہا کہااگرچہ ذوالفقار علی بھٹو نے ایٹمی بم بنانے کیلئے گھاس تک کھانے

کا اعلان کیا تھا لیکن گھاس کھانے سے ایٹم بم تو نہیں بنا کرتے ۔میں پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے

کیلئے پوری ٹیکنالوجی لے کر آیا ۔بہرحال ایٹم بم بنانے میں میرا تجربہ کام آیا ۔ذوالفقار علی بھٹوکی

زندگی نے وفا نہ کی۔ ضیا الحق کے دور میں پاکستان ایٹمی قوت بن گیا لیکن نواز شریف کی حکومت

میں ایٹمی دھماکے کرنے کا موقع ملا ۔سبھی نے اپنے اپنے وقت میں اپنا کرادار ادا کیا ہے ۔ ذوالقار

علی بھٹو کی حکومت کے خاتمہ کے بعد جب ضیا الحق کو معلوم ہوا کہ ایٹمی پروگرام کی جان مجھ

میں ہے تو پھر انہوں نے پروگرام کی مکمل حفاظت کی اور اس پروگرام کی پوری سپورٹ کی ۔ اس

پروگرام کے مالی معاملات کے انچارج غلام اسحاق خان تھے اور انہوں نے دل کھول کر فنڈز فراہم

کئے ۔اگر کوئی اور ہوتا تو ممکن ہے کہ یہ پروگرام اتنی جلدی پورا نہ ہوتا بلکہ شاید ختم ہو چکا ہوتا۔

غلام اسحاق ایٹمی پروگرام کی وجہ سے مجھ سے بڑی محبت کرتے تھے ۔انہیں یقین تھا کہ میں

پروگرام کو پایہ تکمیل تک پہنچاؤں گا ۔ایک بات کہوں کہ غلام اسحاق خان پٹھان تھے اور میں بھی۔

اس لئے انہیں یقین تھا کہ پٹھان جو بات کرتا ہے اس پر قائم رہتا ہے اور پورا کر کے دکھاتاہے ۔انہوں

نے بتایا کہ میں نے کلدیپ نیئر سے یہ کہا تھا کہ یہ 1971نہیں ہے جب بھارت نے پاکستان کو دولخت

کر دیا تھا ۔ پاکستان ایٹمی قوت بن چکا ہے اب اگر بھارت نے بدمعاشی کی تو اسے منہ توڑ جواب دیا

جائے گا ۔میرے اس جواب پر پاکستان اور بھارت میں بڑا شور شرابا ہوا۔ جنرل کے ایم عارف نے

میری اس بات پر ناراضی کا اظہار کیابہرحال میرے اس پیغام نے بھارت کو اپنی اوقات میں رہنے پر

مجبور کر دیا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر نے اپنے آخری انٹرویو میں بتایا کہ 1971ء کی جنگ میں بھارت نے

پاکستان کو دولخت کر دیا اس کے بعد بھارت نے پاکستان کو دھمکیاں دینی شروع کر دیں میں نے

ہالینڈ میں سوچا کہ جب تک پاکستان ایٹمی قوت نہیں بن پائے گا تب تک ہم بھارت کی آنکھوں میں

آنکھیں ڈال کر بات نہیں کر سکیں گے ۔میں یہ مشن لے کر 1976میں پاکستان آگیا اس وقت مجھے

3ہزار روپے ماہانہ تنخواہ دی جانے لگی۔پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے والے سائنس دان کی تنخواہ کا

اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب میں ریٹائرڈ ہواتو میری پنشن 4ہزار روپے400روپے

سے کچھ زائد تھی،ڈاکٹر عبدالقدیر نے کہا کہ میں پیسے کمانے تو پاکستان نہیں آیا تھا میں بھاری

تنخواہ چھوڑ کر دراصل اپنے وطن عزیز کو ایک ایٹمی قوت بنانے کا جذبہ لے کر پاکستان آیا تھا۔،

انہوں نے کہا کہ میں نے اپنی ٹیم کے ہمراہ کہوٹہ میں ایٹمی پروگرام کیلئے ایسی جگہ کا انتخاب کیا

جو ایئر پورٹ کے بھی قریب تھی اورجی ایچ کیو کے لئے بھی جہاں بہتر طور پر ایٹمی پروگرام کی

حفاظت بھی کی جا سکتی تھی ۔علاوہ ازیں وہاں پر سائنس دانوں کے قیام کیلئے بھی جگہ موجود تھی ۔

ہم نے تمام لوگوں کو معقول معاوضہ دے کر ایٹمی پلانٹ کے لئے زمینیں حاصل کیں، ایک سوال کے

جواب میں ڈاکٹر عبدالقدیر نے بتایا کہ فرانس کے سفیر اور بی بی سی کے دو نمائندوں نے کہوٹہ تک

پہنچنے کی بڑی کوشش کی بھیس بدل کر کہوٹہ آنے پر ہمارے سیکیورٹی کے اداروں کے اہلکاروں

نے اُن کی خوب خاطر مدارات کی ۔تین چار روز بعد فرانسیسی سفیر نے جنرل ضیا الحق سے اپنی’’

خاطر مدارات‘‘ کئے جانے پرشکایت کی۔جنرل ضیا الحق نے کہا کہ’’ جناب سفیر آپ نے بڑی غلطی

کی کہ ایک حساس علاقے میں پرائیویٹ گاڑی میں چلے گئے۔ آپ ہمیں بتاتے تو ہم آپ کو سرکاری

گاڑی میں لے جاتے ۔میرے خیال میں کاش ان کی جگہ امریکن ہوتے توزیادہ مدار ت کی جاتی، انہوں

نے کہا کہ دنیا میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں شکوک شہبات کا اظہار کیا جارہا تھا

بعض ملک جن میں بھارت پیش پیش تھا اسے مذاق سمجھ رہا تھا لہذا بھارت سمیت پوری دنیا کو یہ

باور کرانا ضروری تھا کہ پاکستان کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ نہ کرے اور اس کی سلامتی کو کوئی

خطرہ لاحق نہ کرے ۔ خدا کے فضل و کرم سے اب پاکستان ایک ایٹمی قوت بن چکا ہے ۔جنرل ضیا

الحق نے بھی ’’India Today‘‘کو بھی یہ کہا تھا کہ ہم جب چاہیں ایٹم بم بنا سکتے ہیں ۔میں نے

1984میں جنرل ضیا الحق کو لکھ کر بھیج دیا تھا کہ آپ جب چاہیں مختصر نوٹس پر ایٹمی دھماکہ کیا

جا سکتا ہے ،میں نے کلدیپ نیئر سے یہ کہا تھا کہ یہ 1971نہیں ہے جب بھارت نے پاکستان کو

دولخت کر دیا تھا ۔ پاکستان ایٹمی قوت بن چکا ہے اب اگر بھارت نے بدمعاشی کی تو اسے منہ توڑ

جواب دیا جائے گا ۔میرے اس جواب پر پاکستان اور بھارت میں بڑا شور شرابا ہوا۔ جنرل کے ایم

عارف نے میری اس بات پر ناراضی کا اظہار کیابہرحال میرے اس پیغام نے بھارت کو اپنی اوقات پر

رہنے پر مجبور کر دیا، انہوں نے کہا کہ جب ایٹمی دھماکے کرنے تھے تو مجھے چاغی کے پہاڑ

سے دور رکھنے کی کوشش کی گئی تھی ،لیکن جب جنرل جہانگیر کرامت کو اس صورتحال کا علم

ہوا تو نہوں نے مجھے فوری طور پر چاغی پہنچانے کیلئے جہاز فراہم کیا ۔ڈاکٹر اشفاق اور میں نے

اکٹھے چاغی کیلئے سفر کیا، پاکستان کے عوام بہتر طور پر جانتے ہیں کہ ایٹمی دھماکے کا کریڈٹ

کس کو جاتا ہے

ایٹمی قوت بننے سے

ڈاکٹر وحید قریشی بطور محقق

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں