32

امریکہ افغانستان کیلئے انسانی امداد فراہم کرنے پر رضامند

Spread the love

امریکہ افغانستان انسانی امداد

کابل، واشنگٹن (صرف اردو آن لائن نیوز) طالبان حکمرانوں کو سیاسی طور پر تسلیم کیے بغیر امریکہ معاشی تباہی کے دہانے پر موجود انتہائی غریب افغانستان کو انسانی امداد فراہم کرنے پر رضامند ہوگیا ۔

میڈ یارپورٹس کے مطابق طالبان نے کہا ہے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونیوالے مذاکرات اچھے رہے جبکہ امریکہ نے طالبان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے سے منسلک نہ کرتے ہوئے افغانستان کیلئے انسانی امداد جاری کرنے پر رضامند ی ظاہر کر دی ہے ۔

امریکہ نے واضح کیا کہ یہ مذاکرات کسی بھی طرح طالبان کو تسلیم کرنے کی پیشکش نہیں تھے جنہوں نے 15اگست کو امریکی اتحادی حکومت کے خاتمے کے بعد اقتدار سنبھال لیا تھا۔طالبان کے سیاسی ترجمان سہیل شاہین نے کہا ہے تحریک کے عبوری وزیر خارجہ نے مذ ا کرا ت میں امریکہ کو یقین دہانی کروائی ہے کہ طالبان شدت پسندوں کو افغان سرزمین دوسرے ممالک کیخلاف حملے کرنے کیلئے کسی طور استعمال نہیں کرنے دیں گے ،

داعش سے وابستہ افراد کو پاکستان اور ایران میں محفوظ پناہ گاہوں کا بھی کوئی فائدہ نہیں ، البتہ انہوں نے خبردار کیا کہ القاعدہ کیلئے طالبان کی دیرینہ حمایت نے انہیں امریکہ کیلئے انسداد دہشتگردی کے شراکت دار کے طور پر ناقابل بھروسہ بنا دیا ہے۔ادھر طالبان نے 18ملین ڈالرز کی رقم وزارت خزانہ کے اکاؤنٹ میں منتقل کردی۔میڈیارپورٹس کے مطابق امارات اسلامی افغانستان نے ایک بیان میں کہا ہے افغان مرکزی بینک میں 18ملین ڈالرز کی رقم جمع کرائی ہے،

طالبان نے یہ رقم پنج شیر، خوست، کابل اور لوگر سے کچھ سابق حکومتی عہدیداروں سے ضبط کی تھی جس میں امریکی، افغان، یورپی، بھارتی اور اماراتی کرنسیاں شامل ہیں ،افغان مرکزی بینک کے مطابق سابق حکومتی اہلکاروں سے ضبط کیا گیا سونا بھی مرکزی بینک میں موجود ہے۔

دوسری طرف سابق افغان صدر اشرف غنی کی سکیورٹی عملے کے ایک سینئر رکن نے امریکہ کی سرکاری ایجنسی کے دعوے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے ان کے پاس مبینہ چوری کے ویڈیو شواہد موجود ہیں، امریکی ایجنسی نے دعویٰ کیا تھا سابق افغان صدر کابل سے فرار ہوتے وقت اپنے ساتھ 16کروڑ 90 لاکھ ڈالر لے گئے تھے۔اب بریگیڈیئر جنرل پیراز عطا شریفی جنہوں نے اشرف غنی کے محافظوں کی سربراہی کی تھی

نے ایک انٹرویو میں کہا انہوں نے نہ صرف نقد رقم کے بھاری بیگ منتقل ہوتے دیکھے بلکہ ایک سی سی ٹی وی کیمرے سے ایک ویڈیو کلپ بھی حاصل کی،طالبان کو تفتیش کیلئے مطلوب عطا شریفی نے افغانستان میں خفیہ مقام سے بتایا میرا کام صدر کے آنے سے قبل وزارت میں پہرہ دینے والے سپا ہیوں کو غیر مسلح کرنا تھا۔

ہم وہاں صدر کا انتظار کر رہے تھے تاہم پھر مجھے فون آیا وزارت دفاع میں آنے کے بجائے صدر ایئرپورٹ پر چلے گئے، وزیر دفاع بھاگ چکے تھے اور میرے باس نے بھی ایسا ہی کیا اور اشرف غنی کے تمام قریبی خاندان کے افراد اور ساتھیوں نے بھی ایسا ہی کیا، وہ مایوس تھے کیونکہ وہ اشرف غنی کو پسند کرتے تھے،

یہ رقم کرنسی ایکسچینج مارکیٹ کیلئے تھی اور ہر جمعرات کو ڈالر اس مقصد کیلئے لائے جاتے تھے تاہم اس کے بجائے اسے صدر نے رکھ لیا۔ اشرف غنی جانتے تھے آخر کیا ہوگا چنانچہ انہوں نے سارے پیسے لیے اور فرار ہو گئے۔اشرف غنی نے تاہم اس الزام کی تردید کی کہ وہ چار کاروں اور 169 ملین ڈالر سے بھرے ہیلی کاپٹر کیساتھ کابل سے روانہ ہوئے۔انہوں نے مزید کہا کہ خونریزی سے بچنے کیلئے انہوں نے افغانستان چھوڑ ا۔

امریکہ افغانستان انسانی امداد


ڈاکٹر وحید قریشی بطور محقق

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں