27

چیئرمین نیب جسٹس (ر)جاوید اقبال کو توسیع مل گئی

Spread the love

چیئرمین نیب جاوید اقبال

اسلام آباد (صرف اردو آن لائن نیوز) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے قومی احتساب دوسرا ترمیمی آرڈیننس 2021 جاری کردیاجس کے مطابق چیئرمین نیب جسٹس )ر(جاوید اقبال کو نئے چیئرمین نیب کی تعیناتی تک توسیع دے دی گئی،

نئے چیئرمین کے تقرر تک موجودہ چیئرمین نیب کام جاری رکھیں گے، صدر مملکت چیئرمین نیب کا تقرر وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کی مشاورت سے کریں گے تاہم صدر مملکت اتفاق رائے نہ ہونے پرچیئرمین نیب کا معاملہ پارلیمانی کمیٹی کو بھجوائیں گے،

نئے چیئرمین نیب کی مدت ملازمت چار سال ہوگی جبکہ چار سال مکمل ہونے پر چیئرمین نیب کو اگلے چار سال بھی تعینات کیا جاسکے گا، پارلیمانی کمیٹی میں 12 ارکان شامل ہوں گے،

دوبارہ تعیناتی کیلئے تقرری کا طریقہ کارو ہی اختیار کیا جائے گا تاہم چیئرمین نیب کو سپریم کورٹ کے ججز کی طرح ہی ہٹایا جاسکے گا ، صدر مملکت جتنی چاہیں گے ملک میں احتساب عدالتیں قائم کریں گے،

آرڈیننس کے تحت صدر مملکت متعلقہ چیف جسٹس ہائیکورٹ کی مشاورت سے احتساب عدالتوں کے ججز مقرر کریں گے اور احتساب عدالتوں کے ججز کا تقرر تین سال کیلئے ہوگا ۔ بدھ کو صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے قومی احتساب دوسرا ترمیمی آرڈیننس 2021 جاری کردیا

جس کے مطابق صدر مملکت جتنی چاہیں گے ملک میں احتساب عدالتیں قائم کریں گے۔آرڈیننس کے تحت صدر مملکت متعلقہ چیف جسٹس ہائیکورٹ کی مشاورت سے احتساب عدالتوں کے ججز مقرر کریں گے اور احتساب عدالتوں کے ججز کا تقرر تین سال کیلئے ہوگا۔

آرڈیننس کے مطابق صدر مملکت چیئرمین نیب کا تقرر وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کی مشاورت سے کریں گے تاہم صدر مملکت اتفاق رائے نہ ہونے پرچیئرمین نیب کا معاملہ پارلیمانی کمیٹی کو بھجوائیں گے۔آرڈیننس میں کہا گہا ہے کہ نئے چیئرمین کے تقرر تک موجودہ چیئرمین نیب کام جاری رکھیں گے۔

آرڈیننس کے تحت چیئرمین نیب جسٹس )ر(جاوید اقبال کو نئے چیئرمین نیب کی تعیناتی تک توسیع دے دی گئی۔آرڈیننس کے مطابق نئے چیئرمین نیب کی مدت ملازمت چار سال ہوگی جبکہ چار سال مکمل ہونے پر چیئرمین نیب کو اگلے چار سال بھی تعینات کیا جاسکے گا۔

آرڈیننس میں کہا گیا ہے کہ پارلیمانی کمیٹی میں 12 ارکان شامل ہوں گے۔آرڈیننس کے مطابق دوبارہ تعیناتی کیلئے تقرری کا طریقہ کار ہی اختیار کیا جائے گا تاہم چیئرمین نیب کو سپریم کورٹ کے ججز کی طرح ہی ہٹایا جاسکے گا جبکہ چیئرمین نیب اپنا استعفیٰ صدرمملکت کو بھجواسکتے ہیں۔

آرڈیننس کے تحت نیب قانون کا اطلاق وفاقی، صوبائی اور مقامی ٹیکسیشن کے معاملات پر نہیں ہوگا۔۔ قومی احتساب بیورو کے اختیارات میں کمی سمیت مجموعی طور پر نیب قانون کی 11 شقوں میں ترامیم کی گئی ہے۔نیب ترمیمی آرڈیننس 2021 کے ذریعے ٹیکس کیسز، اجتماعی فیصلہ سازی، طریقہ کار کی غلطی نیب دائرہ اختیار سے نکل گئی،

وفاقی و صوبائی کابینہ، کمیٹیوں، کونسلز، کمیشنز اور بورڈ فیصلوں پر نیب اختیار ختم ہوگیا، اچھی نیت سے سرکاری امور نمٹانے، براہ راست مالی فائدہ نہ لینے کے کیسز بھی نیب اختیار سے خارج ہوں گے۔آرڈیننسکے مطابق احتساب عدالت کے ججوں کو ہائیکورٹ کے جج کی مراعات ملیں گی،

جب کہ جج احتساب عدالت کو ہٹانے کے لئے صدر و چیف جسٹس کی مشاورت لازمی قرار دے دی گئی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ کرپشن کیسز کا روزانہ کی بنیاد پر ٹرائل کرنے اور 6 ماہ میں فیصلے سنانیکا پابن کیا گیاہے۔ احتساب عدالت میں آڈیو ویڈیو آلات سے بیانات بھی ریکارڈ ہوں گے، ریفرنس سے پہلے اور ریفرنس دائر ہونے کے بعد چئیرمین نیب کو مقدمہ ختم کرنے کا اختیار ہوگا۔


نیب ترمیمی آرڈیننس

ڈاکٹر وحید قریشی بطور محقق

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں