شوبز انڈسٹری سوگوار 32

عمر شریف کے انتقال پر شوبز انڈسٹری سوگوار

Spread the love

شوبز انڈسٹری سوگوار

،کراچی (صرف اردو آن لائن نیوز) سینئر اداکار جاوید شیخ نے کہا کہ عمر شریف کے انتقال کی خبر سن کر میرے سمیت ان کے دنیا بھر

میں چاہنے والے سکتے کی حالت میں ہیں۔عمر شریف کے انتقال سے فن کا ایک باب ہمیشہ کیلئے بند ہو گیا ۔میر ااور عمر شریف کا چالیس سال تک تعلق رہا ۔

پاکستان میں انٹرٹینمنٹ کی دنیا میں شاید ہی عمر شریف جیسا فنکار دوبارہ پیدا ہوگا ۔انہوںنے کہا کہ میں نے جو پہلا ڈرامہ کیا تھا وہ محترمہ فاطمہ ثریا بجیا نے لکھا تھا لیکن اس میں میر اجو کردار تھا وہ عمر شریف نے تحریر کیا تھا۔ سینئر اداکار مصطفی قریشی ، ندیم بیگ، سید نور نے عمر شریف کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عمر شریف جیسا اداکار صدیوں میں پیدا ہوتا ہے ۔

انہوںنے حقیقی معنوںمیں فن کی خدمت کی اور ان کی وجہ سے روتے ہوئے چہروں پر مسکراہٹیں بکھر جاتی تھیں ۔ شکیل صدیقی نے کہا کہ آج کامیڈی کا بادشاہ دنیا سے چلا گیا ۔ وہ برصغیر پاک و ہند میں برابر مقبول تھے اور انہیں تمام فنکار عزت اور احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔

عمر شریف جہاں کھڑے ہو جاتے تھے وہیں میلہ لگ جاتا تھا۔ بشری انصاری، ذوالقرنین حیدر، بہروز سبزواری، اسماعیل تارانے عمر شریف کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اہل خانہ کے لئے صبر جمیل کی دعا کی ہے ۔ ان اداکاروںنے کہا کہ عمر شریف فن کی جن بلندیوں پر تھے ان کے لئے الفاظ کم پڑ جاتے ہیں۔

عمر شریف نے حقیقی معنوں میں فن اور اپنے ملک کی خدمت کی ۔ خدا کی ذات انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام دے ۔ عثمان پیرزادہ ، ریشم، احسن خان، معمر رانا، میرا نے کہا کہ عمر شریف جیسا انسان صدیوں میں پیدا ہوتا ہے ، وہ حقیقی معنوں میں کامیڈی کے بے تاج بادشاہ تھے اور کسی فنکار کا ان سے موازنہ نہیں ۔

عمر شریف کی وجہ سے لوگوں کی چہروں پر مسکراہٹیں بکھر جاتی تھیں ۔عمر شریف دل کے بھی بادشاہ تھے ۔ قوی خان ، عتیقہ اوڈھو نے کہا کہ انہیں معلوم تھاکہ کس وقت کیا کہنا ہے ، ہمیں جب تک اسکرپٹ نہ ملے ہم بول نہیں سکتے تھے وہ ایک آنکھ سے سننے والوںکو رولا او رایک آنکھ سے ہنسا بھی دیتے تھے ۔

جب وہ اسٹیج پر آتے تھے تو ان کا تالیوں سے جس طرح استقبال ہوتا تھا وہ کوئی معمولی لمحہ نہیں ہوتا تھا ۔ سہیل احمد، شہزاد رضا ، عطا اللہ عیسیٰ خیلوی نے کہا کہ عمر شریف انسانیت سے بھرے ہوئے انسان تھے ،

انہوںنے اپنے فن کے ذریعے معاشرے کی اصلاح کا فریضہ بھی سر انجام دیا ، عمر شریف کے فن کو مدتوں یاد رکھا جائے گا اور جب بھی کامیڈی اداکاری کی تاریخ لکھی جائے گی وہ عمر شریف کے ذکر کے بغیر ادھوری ہو گی ۔ انہوںنے کہا کہ اتنا بڑا فنکار ہونے کے باوجود ان میں تکبر نام کی کوئی چیز نہیں تھے بلکہ وہ خود لوگوں سے رابطہ کرتے تھے۔

شوبز انڈسٹری سوگوار

ڈاکٹر وحید قریشی بطور محقق

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں