نواز شریف کوپنجاب کارڈیالوجی داخل کروانے کا حکم،سابق وزیر اعظم کا جیل جانے پر اصرار

Spread the love

سروسز ہسپتال لاہور میں زیر علاج نواز شریف کے میڈیکل بورڈ کی حتمی رپورٹ میں سفارش کی گئی تھی کہ سابق وزیر اعظم جو عارضہ قلب میں مبتلا ہیں کو فوری طور پر کسی کارڈیک ہسپتال میں منتقل کیا جانا چاہئے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے عارضہ قلب کے انکشاف کو 21 روز گزر چکے ہیں۔ جنہیں ان حالات میں انڈر کیئر رکھنا ضروری ہے۔

دوسری جانب سروسز ہسپتال میں زیر علاج سابق وزیراعظم نواز شریف نے پی آئی سی منتقل کرنے کے احکامات کی خبر ملتے ہی وہاں جانے سے انکار کر دیا۔ذرائع کے مطابق نواز شریف کا موقف تھا کہ وہ پہلے بھی پی آئی سی میں داخل رہے ہیں لیکن وہاں انہیں طبی سہولتیں فراہم نہیں کی گئیں

جس کے باعث ان کے مرض میں اضافہ ہوا ،ذرائع کے مطابق نوازشریف نے کہا کہ تین بورڈز طبی معائنہ کرچکے، اب پھر نئے ہسپتال لے جانا چاہتے ہیں،

پہلے بھی پی آئی سی جا چکا ہوں اور پھر سروسز ہسپتال لایا گیا، یہ خانہ بدوشی مناسب نہیں لہٰذا میں نے سامان باندھ لیا ہے مجھے جیل بھیجا جائے۔

ذرائع کے مطابق سابق وزیرا عظم میاں نواز شریف کی جانب سے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی منتقل ہونے سے انکار کے بعد حکومت نے نواز شریف کو سروسز ہسپتال میں ہی زیر علاج رکھنے کا فیصلہ کر لیا جبکہ پی آئی سی کے ڈاکٹرز سروسز ہسپتال میں ان کا علاج کریں گے۔

سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کے علاج کیلئے تشکیل دئیے گئے میڈیکل بورڈ نے پانچویں روز بھی معمول کا چیک اپ کیا ۔بعدا زاں میڈیکل بورڈ کا اجلاس ہوا جس میں نواز شریف کے اب تک کئے گئے ٹیسٹوں کی رپورٹ مرتب کر کے سفارشات وزارت داخلہ کو ارسال کر دی گئیں ۔

میڈیکل بورڈ کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر محمود ایاز نے بتا یا کہ میڈیکل بورڈ کی جانب سے نواز شریف کو امراض قلب کے سپیشلسٹ ہسپتال میں رکھنے کی تجویز دی گئی۔

نوازشریف سے ان کی صاحبزادی مریم نواز ،سابق وزیر قانون زاہد حامد اور سینیٹر رانا مقبول اور سابق وزیراعظم کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نے بھی میڈیکل بورڈ اور نواز شریف سے ملاقات کی ۔میڈیکل بورڈ کے اراکین نے بھی نواز شریف سے تین گھنٹے سے زائد وقت تک ملاقات کی اور انہیں میڈیکل رپورٹس اور ٹیسٹوں کے حوالے سے مکمل آگاہ کیا۔

ذرائع کے مطابق نوازشریف کے انکار کے بعد پنجاب حکومت نے نوازشریف کو سروسزہسپتال میں ہی رکھتے ہوئے ماہرین امراض قلب کا نیا بورڈ تشکیل دے کر علاج کا فیصلہ کیا۔

دوسری جانب سابق وزیراعظم کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کا کہنا تھا کہ ہمیں ابھی تک نواز شریف کی رپورٹس نہیں دی گئیں جبکہ ان کی پی آئی سی میں منتقلی کا فیصلہ میڈیکل بورڈ نے کرنا ہے۔

ڈاکٹر عدنان نے مزید کہا کہ نوازشریف کی صحت کے حوالے سے شدید تحفظات ہیں، ان کا علاج ماہر امراض قلب سے ہونا چاہیے تھا جو ابھی تک میسر نہیں۔

علاوہ ازیں ترجمان پنجاب حکومت شہباز گل نے کہا کہ نوازشریف کے میڈیکل بورڈ کی جانب سے نئی رپورٹس حکومت کو نہیں بھجوائی گئی انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ میاں صاحب کو صحت دے جبکہ مریم نواز اور مسلم لیگ(ن) سے گزارش ہے کہ وہ اس معاملے پر سیاست نہ چمکائیں.

نواز شریف جیل میں ہیں اوران کا فیصلہ نہ آپ نے اور نہ ہم نے کرنا ہے ۔دریں اثناء مریم نواز اپنے والد سے طویل ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کئے بغیر ہی واپس چلی گئیں تاہم کارکنان کی جانب سے نعروں کا جواب ہاتھ ہلاکر دیتی رہیں ۔

بعدازاں سوشل میڈیا پراپنے بیان میں کارکنوں کی محبتوں کا شکریہ اداکیا۔ کارکنوں کی ایک بڑی تعداد گزشتہ روز بھی سروسز ہسپتال میں موجود رہی جنہوں نے مریم نواز کی آمد اور روانگی کے موقع پر ان کی گاڑی پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں اور نواز شریف اور ان کے حق میں نعرے لگائے ۔

Please follow and like us:

Leave a Reply