313

فیض آباد دھرنا کیس, ملک میں انتشار اور نفرت پھیلانے والوں کیخلاف کارروائی کی جائے،سپریم کورٹ

Spread the love

سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ملک میں انتشار اور ملکی سالمیت کے خلاف نفرت پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی کا حکم دے دیا جبکہ فیصلے میں سانحہ 12 مئی کے مجرموں کو سزا نہ دینے کو بھی غلط مثال قرار دیا ہے۔

سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسی اور جسٹس مشیر عالم پر مشتمل دو رکنی بینچ نے 22 نومبر کو فیض آباد دھرنے کا فیصلہ محفوظ کیا تھا جسے بدھ کو جاری کیا گیا۔

جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دئیے کہ ازخود نوٹس کا فیصلہ سنانا مشکل کام ہے، عدالت عظمی کے بینچ کی جانب سے عدالت میں فیصلہ پڑھ کر نہیں سنایا گیا اور صحافیوں کو کہا گیا کہ اس کی کاپی سپریم کورٹ آف پاکستان کی ویب سائٹ پر دستیاب ہوگی۔

بعد ازاں فیض آباد دھرنا از خود نوٹس کا تفصیلی فیصلہ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر جاری کیا گیا، جو 43 صفحات پر مشتمل ہے۔فیصلے میں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے فرمان بھی پڑھ کر سنائے گئے

فیصلے میں کہا گیا کہ کوئی شخص جو فتوی جاری کرے جس سے کسی دوسرے کو نقصان یا اس کے راستے میں مشکل ہو تو پاکستان پینل کوڈ، انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 اور/ یا پریونشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 کے تحت ایسے شخص کے خلاف ضرور مجرمانہ مقدمہ چلایا جائے۔

فیصلے کی کاپی سیکرٹری دفاع،سیکرٹری داخلہ، ڈی جی آئی ایس آئی، ڈی جی آئی ایس پی آر اور ڈی جی آئی بی کو فراہم کرنے کا حکم دیا گیا۔سپریم کورٹ کی جانب سے سنایا گیا فیصلہ 43صفحات پر مشتمل ہے جس میں کہا گیا ہے کہ شہریوں کو سیاسی جماعتیں بنانے اور ان کا رکن بننے کا حق حاصل ہے اور ہر شہری اور سیاسی جماعت کو اجتماع اور احتجاج کا حق حاصل ہے،

احتجاج کے حق سے دوسرے کے بنیادی حقوق متاثرنہیں ہونے چاہیے ۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ حساس ادارے ملکی سالمیت میں نفرت پیدا کرنے والے لوگوں کو مانیٹر کریں اور سیکیورٹی ہاتھ میں لے کر اکسانے والے لوگوں پر بھی نظر رکھی جائے

جبکہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں بھی ایسے تمام افراد کو مانیٹر کریں جو دہشت گردی، انتہا پسندی اور نفرت آمیز گفتگو کرتے ہیں۔

عدالت نے فیصلہ دیا کہ لوگوں کی جان و مال کو نقصان پہنچانے، بد امنی پر اکسانے اور فتوے دینے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے اور قانون کے مفاد کے لئے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ریاست کو غیر جانبدار اور منصفانہ ہونا چاہیے، قانون کا اطلاق سب پر ہونا چاہیے، فیصلے میں الیکشن کمیشن کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان سیاسی جماعتوں کے خلاف کارروائی کرے جو قانون پر عمل نہیں کرتیں

جب کہ تمام سیاسی جماعتیں اپنے ذرائع آمدن بتانے کی بھی پابند ہیں۔سپریم کورٹ نے فیصلے میں سانحہ 12 مئی کا بھی ذکر کرتے ہوئے ریمارکس دئیے ہیں کہ سانحہ 12 مئی کے مجرموں کو سزا نہ دے کر غلط مثال قائم کی گئی،

اس دن کراچی میں قتل عام کے ذمہ دار اعلیٰ حکومتی شخصیات تھیں، سڑکیں بلاک کرنے والے مظاہرین کے خلاف قانون کے تحت کارروائی ضروری ہے ۔

عدالت نے نفرت انگیز پیغام نشر کرنے والے چینلز کے خلاف بھی پیمرا آرڈیننس کے تحت کارروائی کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے کیبلز آپریٹرز جنہوں نے نشریات بند کیں ان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں