طالبان کی حوصلہ افزائی 57

دنیا طالبان کی حوصلہ افزائی کرے، عمران خان

Spread the love

طالبان کی حوصلہ افزائی

اسلام آباد (صرف اردو آن لائن نیوز) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ طالبان چاہتے ہیں کہ عالمی برادری انہیں تسلیم کرے، افغانستان میں امن اور استحکام کے لیے آگے بڑھنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ طالبان کے ساتھ بات چیت کی جائے اور ان کی خواتین کے حقوق اور جامع حکومت کے قیام جیسے مسائل پر حوصلہ افزائی کی جائے،

افغانستان میں طالبان کے آنے کے بعد سے امریکی صدر جو بائیڈن سے بات نہیں ہوئی جبکہ انہوں نے فون نہیں کیا، وہ مصروف شخصیت ہیں۔امریکی نیوز چینل سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ افغانستان میں کیا ہو گا کوئی بھی پیش گوئی نہیں کر سکتا،

افغانستان سے امریکی و دیگر غیر ملکی فوجیوں کے انخلا کے بعد اور گذشتہ ماہ طالبان کی جانب سے افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد وزیراعظم پاکستان کا کسی بھی بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے ساتھ یہ پہلا انٹرویو تھا۔وزیراعظم نے کہا کہافغانستان کو دہشت گردی کا سامنا ہو سکتا ہے،

وہاں افراتفری اور پناہ گزینوں کے مسئلے کا بھی خدشہ ہے۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ افغانستان کو باہر سے کنٹرول نہیں کیا جا سکتا۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ امریکا نے دہشت گردی سے لڑنے کے لیے افغانستان پر حملہ کیا تھا لیکن غیرمستحکم افغانستان کے نتیجے میں وہاں سے پھر دہشت گردی کا خطرہ جنملے گا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ افغانستان کی صورتحال پریشان کن اور وہ اس وقت ایک تاریخی موڑ پر ہے، اگر وہاں 40سال بعد امن قائم ہوتا ہے اور طالبان پورے افغانستان پر کنٹرول کے بعد ایک جامع حکومت کے قیام کے لیے کام کرتے ہیں اور تمام دھڑوں کو ملاتے ہیں تو افغانستان میں امن ہو سکتا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ عمل ناکامی سے دوچار ہوتا ہے جس کے بارے میں ہمیں بہت زیادہ خدشات بھی لاحق ہیں، تو اس سے افرا تفری مچے گی سب سے بڑا انسانی بحران پیدا ہو گا، مہاجرین کا مسئلہ ہو گا، افغانستان غیرمستحکم ہو گا۔ان کا کہنا تھا کہ امریکا کے افغانستان میں آنے کا مقصد دہشت گردی اور عالمی دہشت گردوں سے لڑنا تھا لہذا غیرمستحکم افغانستان، مہاجرین کا بحران کے نتیجے میں افغانستان سے پھر دہشت گردی کا خطرہ جنم لے سکتا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ ہم میں سے کوئی بھی یہ پیش گوئی نہیں کر سکتا کہ یہاں سے افغانستان کی صورتحال کیا نکلے گی، ہم صرف امید اور دعا کر سکتے ہیں کہ وہاں امن قائم ہو، طالبان نے کہا کہ وہ ایک جامع حکومت چاہتے ہیں، وہ اپنے خیالات کے مطابق خواتین کو حقوق دینا چاہتے ہیں، وہ انسانی حقوق کی فراہمی چاہتے ہیں،

انہوں نے عام معافی کا اعلان کیا ہے تو یہ سب چیزیں اس بات کا عندیہ دیتی ہیں کہ وہ چاہتے ہیں کہ عالمی برادری انہیں تسلیم کرے۔انہوں نے کہا کہ افغانستان کو باہر سے بیٹھ کر کنٹرول نہیں کیا جا سکتا، ان کی ایک تاریخ ہے، افغانستان میں کسی بھی کٹھ پتلی حکومت کو عوام نے سپورٹ نہیں کیا لہذا یہاں بیٹھ کر یہ سوچنا کہ ہم انہیں کنٹرول کر سکتے ہیں،

اس کے بجائے ہمیں ان کی مدد کرنی چاہیے کیونکہ افغانستان کی موجودہ حکومت یہ محسوس کرتی ہے کہ عالمی معاونت اور امداد کے بغیر وہ اس بحران کو نہیں روک سکیں گے۔طالبان کی جانب سے افغان خواتین کو حقوق فراہم نہ کرنے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ ایک غلط تاثر ہے کہ باہر سے آ کر کوئی فرد افغان خواتین کو ان کے حقوق دے گا،

افغان خواتین مضبوط ہیں، انہیں وقت دیں، وہ خود اپنے حقوق حاصل کریں گی۔ طالبان چاہتے ہیں عالمی برادری انہیں تسلیم کرے، ہمیں طالبان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے انہوں نے کہا اگر میں نائن الیون کے وقت وزیر اعظم ہوتا تو افغانستان پرامریکی حملے کی اجازت نہیں دیتا۔تعلقات کے حوالے سے

وزیراعظم نے کہاکہ امریکا کے ساتھ ویسے ہی تعلقات چاہتے ہیں جیسے اس کے بھارت کے ساتھ ہیں ، پاکستان سے عدم اعتماد کی وجہ زمینی حقائق سے امریکا کی قطعی لاعلمی ہے۔۔انہوں نے کہا کہ نائن الیون کے بعد امریکا کا اتحادی بننے کی وجہ سے پاکستان نے بہت کچھ بھگتا ہے، ایک وقت تھا کہ 50 شدت پسند گروپ پاکستان پر حملہ کررہے تھے، 80 کی دہائی میں پاکستان نے سوویت یونین کے خلاف امریکا کا ساتھ دیا،

ہم نے مجاہدین کو تربیت دی تاکہ وہ افغانستان میں جہاد کر سکیں ان مجاہدین میں القاعدہ اور طالبان شامل تھے اور اس وقت اسے جہاد کا نام دیا گیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ نائن الیون کے بعد امریکا کو افغانستان میں ہماری ضرورت تھی، جارج بش نے پاکستان سے مدد طلب کی اور اس وقت کہا تھا کہ ہم پاکستان کو دوبارہ تنہا نہیں چھوڑیں گے، پاکستان امریکا کی جنگ کا حصہ بن گیا، اگر میں وزیر اعظم ہوتا تو میں کبھی ایسا نہ کرتا۔

انہوں نے کہاکہ پہلے پہلے امریکہ جنہیں مجاہدین کہتا تھا نائن الیون کے بعد انہیں دہشت گر د قرار دے دیا ، وہ ہمارے مخالف ہو گئے تاہم پاکستان کے تمام قبائل اور پشتون آبادی بھی طالبان کے حق میں ہو گئے اور اس کی وجہ مذہب نہیں بلکہ یہ تھی کہ وہ بھی پشتون تھے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا کا ساتھ دینے کے نتیجے میں جہادی ہمارے خلاف ہو گئے، پشتون ہمارے خلاف کھڑے ہو گئے اور ہم نے شہری علاقوں میں جتنے زیادہ فوجی آپریشنز کیے تو اس کے اتنے ہی زیادہ نقصانات ہوئے اور ایک وقت میں 50 شدت پسند گروپ پاکستان پر حملہ آور تھے۔

عمران خان نے کہا کہ ان گروپس کے حملوں کے ساتھ ساتھ پاکستان میں 480 امریکی ڈرون حملے ہوئے اور یہ پہلا موقع تھا کہ کسی جنگ میں کسی ملک پر اس کے اپنے ہی اتحادی نے حملہ کیا ہو۔

دوران پروگرام وزیراعظم کو امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ انٹونی بلنکن کی افغانستان میں صورتحال کے حوالے سے گفتگو بھی سنائی گئی جس میں انہوں نے صورتحال کا ذمے دار پاکستان کو قرار دیتے ہوئے حقانی نیٹ ورک سمیت دہشت گردوں کو پناہ گاہیں فراہم کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔

اس پر وزیر اعظم نے کہا کہ میں نے ان کو سنا ہے انہیں کچھ پتا ہی نہیں ہے کہ افغانستان میں ہوا کیا ہے، وہ سب سکتے کی حالت میں ہیں، ریاست پاکستان دراصل امریکا کا ساتھ دینے کی وجہ سے حملوں کی زد میں تھی۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے پاس ایک نئی جنگ لڑنے کیلئے سرمایہ نہیں تھا، امریکی حکام افغانستان سے متعلق حقائق سے لاعلم ہیں، امریکیوں کو حقانی نیٹ ورک سے متعلق معلومات نہیں، حقانی خاندان افغانستان میں رہائش پذیر ہے۔

طالبان کی حوصلہ افزائی

ڈاکٹر وحید قریشی بطور محقق

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں