افغان حکومت کے عبوری 49

حسن اخوند افغان حکومت کے عبوری سربراہ مقرر

Spread the love

افغان حکومت کے عبوری

کابل (صرف اردو آن لائن نیوز) افغان طالبان کی جانب سے افغانستان کی 33 رکنی کابینہ کا اعلان کر

دیا گیا ہے جس میں ملا حسن اخوند کو عبوری وزیر اعظم مقرر کیا گیا ہے جب کہ ملا عبدالغنی برادر

نائب وزیراعظم ہوں گے۔کابل میں طالبان کے ترجمان ذبیح اﷲ مجاہد نے ایک پریس کانفرنس میں

افغانستان کی نئی عبوری حکومت کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ نئی افغان حکومت کے سربراہ

ملا محمد احسن اخوند ہونگے جنہیں عبوری وزیر اعظم مقرر کیا گیا ہے۔ قطر میں طالبان کے سیاسی

دفتر کے سربراہ ملاعبدالغنی برادر نائب وزیر اعظم اور سربراہ حکومت کے معاون ہونگے۔ اس کے

علاوہ حقانی نیٹ ورک کے سربراہ سراج حقانی کو وزیر داخلہ جبکہ اسد الدین حقانی کو نائب وزیر

داخلہ مقرر کیا گیا ہے۔ طالبان کے شریک بانی ملا عمر کے صاحبزادے اور طالبان کے ملٹری کمیشن

کے سربراہ ملا محمد یعقوب کو افغانستان کا وزیر دفاع جب کہ ملا فضل اخوند کو آرمی چیف تعینات

کیا گیا ہے۔ملا عبدالحق واثق خفیہ ایجنسی نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سیکیورٹی (این ڈی ایس) کے

سربراہ ہوں گے۔طالبان کی حکومت میں ملا امیر خان متقی کو وزیر خارجہ جب کہ قطر میں طالبان

کے سیاسی دفتر کے نائب شیر محمد عباس ستانکزئی کو نائب وزیر خارجہ بنایا گیا ہے۔ ہدایت اﷲ

بدری وزیر خزانہ ہوں گے۔ شیخ خالد کو دعوت و ارشادات ،ملا ہدایت اﷲ کو ماحولیات وزیر تعلیم

شیخ اﷲ منیر کو مقرر کیا جارہا ہے اور عدالتی امور مولوی عبدالحکیم دیکھیں گے۔ملا خیراﷲ خیر

خواہ کو وزیر اطلاعات کا عہدہ دیا گیا ہے۔ ملا ہدایت اﷲ وزیر ماحولیات ہوں گے۔ نور محمد ثاقب

وزارت حج و اوقاف، عبد الحکیم شرعی وزیر قانون ہوں گے ملا عبد المنان فوائد و اعمال، نور اﷲ

نوری وزیر سرحدی امور و قبائل ، یونس اخونزادہ انٹیلی جنس، ملا عبد المنان فوائد و اعمال، شیخ نور

اﷲ منیر سرپست وزیر ہونگے طالبان نے مولوی عبدالحکیم کو عدالتوں (وزیر قانون)کا سربراہ مقرر

کیا ہے جب کہ خلیل الرحمان حقانی وزیر برائے تارکین وطن ہوں گے،ذبیح اﷲ مجاہد نے کہا کہ ملا

خیراﷲ خیرخوا وزیر اطلاعات ہوں گے اور قاری دین محمد حنیف وزیر کان کنی ہوں گے۔طالبان

ترجمان نے اپنی نئی حکومت میں دیے جانے والے عہدوں کا اعلان کرتے ہوئے 33 رکنی کابینہ میں

شامل اراکین کے ناموں کا اعلان کیا ۔ انہوں نے کہا کہ جن وزرا کے ناموں کا اعلان کیا گیا ہے وہ

عبوری طور پر کام کریں گے اور اس میں بعد میں تبدیلی کی جاسکتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ

پنجشیر میں کوئی جنگ نہیں ہے اور ملک کا ہر حصہ ہمارے وجود کا حصہ ہے سب طبقوں کو

موجودہ کابینہ میں نمائندگی دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں مرضی صرف افغانوں کی

چلے گی اور آج کے بعد کوئی بھی افغانستان میں دخل اندازی نہیں کرسکے گا۔ بیشتر ممالک کے ساتھ

رابطہ ہوئے ہیں اور متعدد ممالک کے محکمہ خارجہ کے نمائندگان نے افغانستان کا دورے کیے ہیں۔

طالبان ترجمان نے کہا کہ افغانستان میں کسی کی مداخلت قبول نہیں، ہم نے افغانستان میں مداخلت

کرنے والے امریکا کے خلاف بیس سال تک جدوجہد کی بالاآخر فتح حاصل کی، ہمارے معاملات میں

پاکستان کوئی مداخلت نہیں کررہا یہ محض 20 سال سے پروپیگنڈا کیا جارہا ہے۔ان سے سوال کیا گیا

کہ افغانستان کا اب پورا نام کیا ہوگا تو انہوں نے جواب دیا کہ ملک کا نام افغانستان اسلامی امارت ہو

گا۔دوسری طرف طالبان نے کابل میں انسانی بنیادوں پر بین الاقوامی امداد کی اپیل کر دی ۔ترجمان

طالبان ذبیح اﷲ مجاہد نے کہا ہے کہ بین الاقوامی امداد کی ضرورت ہے تاہم امداد شرائط سے پاک

ہونی چاہئیں۔ادھر طالبان کے کنٹرول سنبھالنے کے بعد افغانستان کی جامعات میں دوبارہ تعلیم کا آغاز

ہوگیا۔کابل، قندھار اور ہرات میں طالبات کو الگ کلاسز میں پڑھانے یا کیمپس کے مخصوص مقامات

تک محدود کرنے کی اطلاعات ہیں۔بعض کلاسز میں طلبہ اور طالبات کے درمیان پردہ بھی لگا دیا گیا

ہے جس کی تصاویر وائرل ہورہی ہیں۔کابل میں چینی سفیر نے طالبان کے سیاسی دفتر کے نائب

سربراہ مولوی عبدالسلام سے ملاقات کی ہے۔ترجمان افغان طالبان محمد نعیم نے ٹوئٹر پر اس ملاقات

کے حوالے سے تفصیل فراہم کی۔اطلاعات کے مطابق چینی سفیر وانگ یو نے ملاقات میں افغانستان

کیلئے انسانی امداد جاری رکھنے پر زور دیا۔ملاقات میں باہمی معاملات زیر غور آئے جبکہ چینی

سفیر نے افغانستان کے لیے چین کی انسانی بنیادوں پر امداد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔افغان

دارالحکومت کابل کی سڑکوں پرخواتین نے احتجاجی مارچ کیا، افغان خواتین اور نوجوانوں نے اپنے

حقوق کا مطالبہ کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان مخالف نعرے بازی بھی کی ،احتجاج میں شامل افراد اﷲ

اکبر، ہم ایک آزاد ملک چاہتے ہیں،کی نعرے بازی بھی کی،مظاہرین نے صدارتی محل کی جانب

جانے کی بھی کوشش کی تاہم طالبان جنگجو ؤں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ

کی،اس موقع پر طالبان نے احتجاج میں حصہ لینے والے صحافیوں اور کیمرہ مین کو گرفتار کر لیا ۔

امریکی وزیرِ خارجہ انتونی بلنکن نے کہا ہے کہ افغانستان سے انخلاء کے عمل میں قطر سے زیادہ

کسی ملک نے کام نہیں کیا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق دورہ قطر پر موجود انتونی

بلنکن نے قطری ہم منصب کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ امریکا افغانستان ڈپلومیسی

جاری رکھے ہوئے ہے، جانتے ہیں اس میں قطر امریکا کا شراکت دار ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ دہری

شہریت رکھنے والے تقریباً 100 امریکی شہری اب بھی افغانستان میں موجود ہیں جن سے ورچوئلی

رابطے میں ہیں اور این جی اوز، کانگریس اراکین کے ساتھ مل کر افغانستان سے چارٹر پروازوں

سے ان کی محفوظ روانگی کیلئے مسلسل کام کر رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں موجود

امریکیوں کے انخلاء کے عمل میں ان کے پاس مکمل دستاویزات نہ ہونے کا چیلنج درپیش ہے جبکہ

طالبان نے کہا ہے مکمل سفری دستاویزات رکھنے والوں کو آزادنہ طور پر ملک سے جانے دیا جائے

گا۔ انہوں نے کہا ہے کہ افغان عوام کو امداد کی فراہمی جاری رکھنے کیلئے امریکا عالمی برادری

کے ساتھ ہے۔اس موقع پر قطری وزیرِ خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن الثانی نے کہا کہ امریکی حکام

کے ساتھ افغانستان سے ہوئے انخلاء پر تبادلہء خیال کیا ہے، کابل ایئر پورٹ چلانے سے متعلق اب

تک معاہدہ نہیں ہوا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ کابل ایئر پورٹ پر مختلف ممالک سے امدادی پروازیں

اتر رہی ہیں، امید ہے کہ آئندہ چند روز میں کابل ایئر پورٹ مسافروں کیلئے فعال ہو جائے گا۔طالبان

کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین کا کہنا ہے کہ افغانستان کی تعمیر نو میں امریکا کے ممکنہ

کردار کا خیر مقدم کریں گے۔روسی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں سہیل شاہین نے کہا کہ طالبان

واشنگٹن کے ساتھ تعلقات کے لیے تیار ہیں جو افغانستان اور امریکا دونوں کے مفاد میں ہوں۔۔سہیل

شاہین کا کہنا تھا کہ اگر نئے باب میں امریکا ہمارے ساتھ تعلقات چاہتا ہے جو دونوں ممالک اور عوام

کے مفاد میں ہوسکتے ہیں،۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کے اسرائیل کے ساتھ کوئی تعلقات نہیں ہوں گے،

ہم دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات چاہتے ہیں اور ان ممالک میں اسرائیل شامل نہیں ہے۔

افغان حکومت کے عبوری

ڈاکٹر وحید قریشی بطور محقق

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں