آئی ایس آئی کابل 40

ڈی جی آئی ایس آئی کا دورہ کابل، طالبان قیادت سے مشاورت

Spread the love

آئی ایس آئی کابل

کابل (صرف اردو آن لائن نیوز) پاک فوج کے شعبہ انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی)کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید وفد کے ہمراہ افغانستان کے دارالحکومت کابل پہنچ گئے ہیں جہاں پر انہوں نے طالبان لیڈر شپ سے مشاورت کی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ہفتہ کے روز ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید وفد کے ہمراہ افغانستان کے اہم دورہ پر کابل پہنچے۔ اس موقع پر طالبان رہنماؤں نے انہیں خوش آمدید کہا۔ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی قیادت میں دونوں ممالک کے وفود کے درمیان پاک افغان سیکیورٹی، اقتصادی اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا

۔نجی ٹی وی کے مطابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید نے طالبان حکومت کے انٹیلی جنس چیف ملانجیب سے ملاقات بھی کی ہے جس دوران دونوں ممالک کی قومی سلامتی کے حوالے سے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر طالبان رہنماؤں کا کہنا تھا کہ پاکستان ہمارا دوسرا گھر ہے اور ہمارا قابل بھروسہ دوسست ملک ہے۔ ہماری پوری کوشش ہے کہ ملک میں امن و امان قائم ہو جس کیلئے ہمیں پاکستان کے قریبی تعاون کی ضرورت ہے۔ افغان طالبان نے ملاقات میں اس امید کا اظہار کیا کہ مستقبل میں دوطرفہ تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔ اس موقع پر افغانستان میں نئی حکومت کی تشکیل کے بعد پاک افغان تعلقات سے متعلق معاملات پر گفتگو کی گئی۔

واضح رہے کہ لیفٹیننٹ جنرل فیض طالبان شوریٰ کی دعوت پر کابل پہنچنے والے اعلیٰ ترین درجہ کے پہلے غیر ملکی عہدیدار ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق قبل ازیں کابل آمد پر میڈ یا سے گفتگو میں ڈی جی آئی ایس آئی لیفیٹننٹ جنرل فیض حمید نے کہا کہ وہ یہاں پاکستانی سفیر سے ملنے آئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان پہلے بھی افغانستان کی بہتری کے لیے کام کرتا رہاہے اورمستقبل میں بھی افغان امن کے لیے کام کرتے رہیں گے۔پریشان ہونے کی ضرورت نہیں سب ٹھیک ہو گا۔

ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے مزید کہا کہ کابل میں جو بھی ملاقاتیں ہوں گی ان کا اہتمام افغان سفیر کریں گے۔دوسری طرف قطر میں طالبان رہنماؤں کے وفد نے پاکستانی سفارتخانے کا دورہ کیا جس دوران پا کستانی سفیر احسن کمال نے ان کاپرتپاک خیرمقدم کیااور ملاقات کی جس دوران طالبان رہنماؤں نے پاکستان کے مثبت کردار کوسراہتے ہوئے مستقبل میں قریبی تعاون کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے افغانستان کی تعمیر نو، طورخم اور سپن بولدک میں لوگوں کی نقل و حرکت کو آسان بنانے سے متعلق مسائل پر بھی بات چیت کی ۔

ہفتہ کو طالبان رہنماؤں کے وفد نے مولانا شیر محمد عباس ستانکزئی کی قیادت میں دوحہ میں پاکستانی سفارتخانے کا دورہکیا۔ پاکستانی سفیر احسن کمال نے افغان وفد کاخیرمقدم کیا۔ اس موقع پرافغان طالبان قیادت نے افغانستان کے موجودہ حالات میں پاکستان کے مثبت کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ساتھ نہ صرف اسلام کا رشتہ ہے بلکہ وہ ایک بہترین پڑوسی ملک بھی ہے جس نے افغان مہاجرین کی لمبے عرصہ تک میزبانی کی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی یہ تعاون مزید مستحکم ہو گا۔

دوحہ آفس میں طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے اس ملاقات کے حوالے سے ٹویٹ کرتے ہوئے بتایا کہ دونوں فریقوں نے موجودہ افغان صورتحال، انسانی امداد، باہمی دلچسپی اور احترام پر مبنی دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا۔ملاقات میں افغانستان کی تعمیر نو، طورخم اور سپن بولدک میں لوگوں کی نقل و حرکت کو آسان بنانے سے متعلق مسائل پر بھی بات چیت کی گئی۔افغانستان کے دارالحکومت کابل کی مرکزی منی ایکسچینج مارکیٹ ہفتہ کے روز دوبارہ کھل گئی ہے جبکہ طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے 10 روز بعد بھی ایشیائی ملک میں بینکنگ بحران بدستور موجود ہے۔

منی ایکسچینج کے ایک ڈیلرنجیب اﷲ نے شِنہوا کو بتایا کہ سرائے شہزادہ پرائیویٹ ایکسچینج مارکیٹ ہفتہ کو دوبارہ کھل گئی ہے، مرکزی بینک یا دا افغانستان بینک نے جمعرات کو اعلان کیا تھا کہ مارکیٹ جلد ہی کام شروع کر دے گی۔انہوں نے کہا کہ غیر ملکی کرنسی کے تبادلہ کے نرخ بدستور اتار چڑھا کا شکار ہیں کیونکہ نرخ مستحکم نہیں اور دن میں اکثر تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔نجیب اﷲ نے کہا کہ ہفتے کی صبح مارکیٹ کھلنے کے بعد افغان کرنسی میں ایک امریکی ڈالر کی قیمت 87 سے 89 افغانی رہی ۔10 روز قبل طالبان کے اقتدار سنبھالنے سے پہلے ایک امریکی ڈالر 79 افغانی کے برابر تھا۔

انہوں نے بتایا کہ قریبی کاروباری مرکز” کابل مانڈاوی “بھی کھل گیا ہے تاہم کاروباراور روزمرہ امور اچھے نہیں ہیں کیونکہ پرہجوم رہنے والے کابل کے اس مرکزی حصے میں حالات معمول پر نہیں آئے ہیں۔ کاروباری مرکز پر چند گاہک ہی آئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں بڑے پیمانے پر بینکنگ بحران موجود ہے ۔ ہر روز شہر کے ارد گرد سرکاری اور نجی بینکوں کی مرکزی شاخوں کے باہر لوگوں کی لمبی قطاریں لگی رہتی ہیں۔ بینکوں کی برانچیں ابھی تک نہیں کھلی ہیں ۔ لوگ اپنی رقوم نہیں نکال سکتے ، انہیں مرکزی بینک کے حکم کے مطابق ہفتہ وار بنیاد پر صرف 200 امریکی ڈالر یا 20 ہزار افغانی ہی ملتے ہیں۔

مقامی میڈیا کے مطابق رقوم منتقلی سروس کی 2 نجی ایجنسیوں ویسٹرن یونین اور منی گرام نے بھی جمعہ کو افغانستان کے 34 صوبوں میں سے بیشتر میں کام کا دوبارہ آغاز کر دیا ہے اور لوگ اب بیرون ملک سے رقوم وصول کر سکتے ہیں۔افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے والے طالبان کے ترجمان بلال کریمی نے کہاہے کہ کابل ایئر پورٹ کے اب صرف کچھ حصے میں امریکی موجود ہیں۔

امریکی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے افغان طالبان کے ترجمان بلال کریمی نے کہا کہ افغانستان میں بننے والی نئی حکومت کی کوشش ہوگی کہ امریکا کے ساتھ اچھے تعلقات رکھے جائیں۔انہوں نے کہا کہ امریکا کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنا چاہیں گے، تاہم امریکا سے سفارتی و معاشی تعلقات برابری کی بنیاد پر استوار کیئے جائیں گے۔طالبان جنگجوؤں کی جانب سے کابل میں کی گئی ہوائی فائرنگ کے نتیجے میں 17افرادہلاک ہوگئے ،میڈیارپورٹس کے مطابق کابل کے ایمرجنسی ہسپتال نے بتایاکہ 17 لاشوں اور 41 زخمی افراد کو ہسپتال لایا گیا جو گذشتہ رات کی ہوائی فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک یا زخمی ہوئے۔

گذشتہ رات فائرنگ کی اطلاعات کے بعد طالبان کے ترجمان ذبیح اﷲ مجاہد نے اپنے جنگجوؤں کو ہوائی فائرنگ سے گریز کرنے کو کہا تھا۔ٹویٹر پر پوسٹ کیے گئے پیغام میں طالبان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ہوائی فائرنگ کے بجائے خدا کا شکر ادا کریں۔ہتھیار اور گولہ بارود آپ کے ہاتھ میں ہے، کسی کو ان کو ضائع کرنے کا حق نہیں ہے۔ یہ گولیاں عام شہریوں کو زیادہ نقصان پہنچاتی ہیں۔ اس لیے بلا ضرورت گولی نہ چلائیں۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوتریس نے13 ستمبرکو جنیوامیں افغانستان کی انسانی صورت حال پراعلی سطح کی وزارتی کانفرنس کے انعقاد کا اعلان کیا ہے۔ انتونیوگوتریس کے ترجمان سٹیفن دوجارک نے ایک بیان میں کہا کہ کانفرنس میں افغانستان میں انسانی زندگیوں کو بچانے کی کوششوں کو جاری رکھنے کے لئے امدادی فنڈ میں تیزی سے اضافے کامطالبہ کیا جائے گا

اورافغان شہریوں کوضرورت کی لازمی خدمات کی مکمل اور بلا روک ٹوک مسلسل فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مدد کی اپیل کی جائے گی۔افغانستان کے صوبے پنجشیر میں طالبان کے خلاف مزاحمت کرنے والی فورس کے سربراہ احمد مسعود کا کہنا ہے کہ عوام اپنے حقوق کے لیے لڑنے سے کبھی بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔طالبان افغانستان کے 34 میں سے 33 صوبوں کا کنٹرول حاصل کر چکے ہیں تاہم وادی پنجشیر میں مذاکرات کے کئی دور ناکام ہونے کے بعد 2 روز سے طالبان اور مزاحمتی فورس کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔

آئی ایس آئی کابل

ڈاکٹر وحید قریشی بطور محقق

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں