38

بھارتی فوج نے سید علی گیلانی کی میت چھین کر زبردستی تدفین کر دی ,بیٹا اور بہو زخمی ,سری نگر میں کرفیو

Spread the love

سید علی گیلانی میت

سرینگر (صرف اردو آن لائن نیوز) غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیرمیں مودی کی فسطائی بھارتی حکومت نے بابائے حریت ، سید علی گیلانی کی اہلخانہ کو مزار شہداء عید گاہ سرینگر میں بزرگ رہنماء کی تدفین کی اجازت نہیں دی ۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق اہلخانہ جب سید علی گیلانی کی آخری رسومات کی ادائیگی کی تیاری کر رہے تھے تو بھارتی فورسز کی بھاری نفری نے سرینگر میں انکی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا اور ان کے اہلخانہ کو ہراساں کیا اور ان سے سیدعلی گیلانی کی میت زبردستی اپنی تحویل میں لے لی۔

اہلخانہ نے جب پولیس کو مزار شہداء عید گاہ سرینگر میں انکی تدفین کے بارے میں ان کی آخری خواہش کے بارے میں بتایا تو انہیں کہاکہ بھارت انکی اپنی مرضی کی جگہ پر تدفین کی اجازت نہیں دے گا۔اس دوران مزاحمت پر پولیس نے سید علی گیلانی کے بیٹے اوربہو پر تشدد کیا ۔

ڈاکٹر نعیم گیلانی اور ان کی اہلیہ نے پولیس کو سید علی گیلانی کی میت اپنی تحویل میں لینے سے روکا تو پولیس نے ان پر تشدد کیا جس سے وہ زخمی ہو گئے۔ بعدازاں سیدعلی گیلانی کو حیدر پورہ سرینگر کے قبرستان میں رات کی تاریکی میں خاموشی سے سپرد خاک کردیاگیا۔

بھارت سیدعلی گیلانی سے کس حد تک خوفزدہ تھا اس کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ وفات کے بعد اس نے بزرگ رہنماء کی میت بھی انکے اہلخانہ سے چھین لی اور خاموشی سے انہیں اہلخانہ اور چند رشتہ داروں کی موجودگی میں دفن کردیاگیا۔۔

صرف چند قریبی رشتے داروں کو ہی جنازے میں شرکت کی اجازت دی گئی جس کے فورا بعد بھارتی میڈیا نے اطلاع دی کہ سید گیلانی کی تدفین کردی گئی ہے ۔ احتجاج کے خوف سے قابض انتظامیہ نے مقبوضہ وادی کشمیرمیں کرفیو نافذ کردیا ہے اور انٹرنیٹ سروسزمعطل کر دی گئی ہے ۔۔

سید علی گیلانی کے رہائشی علاقے حیدر پورہ میں غاصب فوج کا کڑا پہرہ ہے۔ گھر کے اطراف خار دار تاریں لگا کر راستے بند کر دیئے گئے۔ سری نگر کے مرکز ی لال چوک میں بھی پولیس اہلکاروں نے رکاوٹیں کھڑی کر دیں۔ سیدعلی گیلانی کے انتقال پر صحافیوں کو کوریج سے بھی روک دیا گیا۔

دوسری طرف پاکستان کے مختلف شہروں میں حریت رہنما علی گیلانی کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔ اسلام آباد میں غائبانہ نماز جنازہ میں صدر مملکت عارف علوی، چیئرمین سینیٹ بھی شریک ہوئے، آزاد کشمیر کے وزیراعظم اور صدر نے بھی شرکت کی

۔پارلیمنٹ ہاؤس کے سبزہ زار میں غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔ میرپور آزاد کشمیر میں بھی حریت رہنما سید علی گیلانی کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔ ڈپٹی کمشنر، سیاسی سماجی رہنماؤں اور وکلا نے بھی شرکت کی۔ باغ اور بھمبر آزاد کشمیر میں بھی حریت رہنما علی گیلانی کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔

منصورہ لاہور میں بھی حریت رہنما علی گیلانی کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے نماز جنازہ پڑھائی۔ پشاور کے کینٹ ریلوے اسٹیشن پر سید علی گیلانی کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔ ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار نے کہا ہے کشمیریوں پر مظالم سے بھارت کا جعلی جمہوری چہرہ عیاں ہوگیا، پاکستان سید علی گیلانی کے جنازے میں شرکت سے کشمیری عوام کو روکنے کی مذمت کرتا ہے۔

دریں اثنا پاکستان نے بھارتی فورسز کی جانب سے تحریک آزادیِ کشمیر کے سینئر رہنما سید علی گیلانی کے جسد خاکی کو چھینے جانے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان قابض بھارتی فورسز کی جانب سے سید علی گیلانی کے اہل خانہ سے سینئر حریت رہنما کے جسد خاکی کو چھینے جانے کے سفاکانہ عمل کی بھرپور مذمت کرتا ہے۔

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی برادری کو بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر کی ابتر صورت حال کا ناصرف نوٹس لینا چاہیے بلکہ بھارت کو بین الاقوامی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا مرتکب ٹھہرانا چاہیے۔

سید علی گیلانی میت

ڈاکٹر وحید قریشی بطور محقق

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں