55

طالبان نے جو نقصان پہنچایا ابھی تک اسکا علاج جاری ہے ، ملالہ

Spread the love

ابھی تک علاج جاری

لندن (صرف اردو آن لائن نیوز) کم عمر ترین نوبیل انعام یافتہ پاکستانی اور انسانی حقوق کی کارکن ملالہ یوسفزئی نے کہا ہے کہ طالبان نے میرے جسم کو جو نقصان پہنچایا ڈاکٹر اس کا علاج آج بھی کررہے ہیں۔ ملالہ یوسفزئی نے افغانستان میں طالبان کی واپسی کے تناظر میں اپنے علاج سے متعلق مضمون فیس بک کے بلیٹن پوڈیم کے لیے تحریر کیا جس میں انہوں نے 2012 سے لے کر اب تک جاری رہنے والی سرجریز پر بات کی ہے۔

اپنے مضمون کا آغاز میں خود پر کیے گئے حملے کے 9 برس بعد بھی اب تک علاج جاری رہنے سے متعلق بتاتے ہوئے ملالہ نے لکھا کہ ‘2 ہفتے قبل جب امریکی افواج، افغانستان سے انخلا کررہی تھیں اور طالبان کنٹرول حاصل کررہے تھے، اس وقت میں بوسٹن کے ایک ہسپتال میں بستر پر لیٹی اپنے چھٹے آپریشن سے گزر رہی تھی،

کیونکہ طالبان نے میرے جسم کو جو نقصان پہنچایا تھا، ڈاکٹر اب بھی اس کا علاج کررہے تھے’۔ اکتوبر 2012 میں ہونے والے حملے میں ایک گولی سے خود کو پہنچنے والے نقصان سے متعلق ملالہ یوسفزئی نے کہا کہہ ‘گولی نے میری بائیں آنکھ، کھوپڑی اور دماغ کو چیر دیا تھا،

میرے چہرے کو زخمی کردیا تھا، میرے کان کا پردہ توڑ دیا تھا اور میرے جبڑے کے جوڑوں کو شدید نقصان پہنچایا تھا’۔انہوں نے لکھا کہ پشاور کے ایمرجنسی سرجنز نے میری بائیں کھوپڑی کی ہڈی کو ہٹا دیا تھا تاکہ میرے دماغ کو چوٹ لگنے کے نتیجے میں ہونے والی سوجن کے لیے جگہ پیدا ہو،

ان کی بروقت کارروائی نے میری جان بچائی لیکن جلد ہی میرے اعضا نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا اور مجھے طیارے کے ذریعے اسلام آباد لے جایا گیا تھا’ ‘9 سال بعد میں اب تک صرف ایک گولی سے صحتیاب ہو رہی ہوں،

افغانستان کے لوگوں نے تو پچھلی 4 دہائیوں میں لاکھوں گولیاں کھائی ہیں’۔ملالہ یوسفزئی نے کہا تھا کہ ‘میرا دل ان لوگوں کے لیے تڑپتا ہے جن کے نام ہم بھول جائیں گے یا انہیں کبھی جان بھی نہیں سکیں گے اور جو مدد کے لیے پکار رہے ہیں لیکن ان کی مدد کے لیے کوئی نہیں آسکے گا’

ابھی تک علاج جاری

ڈاکٹر وحید قریشی بطور محقق

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں