فیاض احمد علیگ ڈاکٹر 129

غزل

Spread the love

گم ہوئے رشتے سبھی اس بے وفا کے سامنے
خون پھیکا پڑ گیا رنگ حنا کے سامنے
شیخ جی دن رات کرتے ہیں نصیحت بھی مگر
ہار جاتے ہیں وہ اکثر دلربا کے سامنے
اب جلانا ہے اگر تو دل جلاو سر پھرو
ٹک نہ پائے گا دیا اب کے ہوا کے سامنے
ہم سے ممکن ہی نہیں سجدہ کسی دربار میں
سر جھکاتے ہیں فقط ہم تو خدا کے سامنے
ایک پل میں یار جس نے سر نگوں سب کو کیا
سر اٹھائے ہم کھڑے ہیں اس ہوا کے سامنے
اس سے ملنا ہی نہیں دل میں ٹھانا تھا مگر
پھر محبت آ گئی میری انا کے سامنے
جو سمجھ سکتا نہیں میرے اشکوں کی زباں
کیوں زباں کھولوں بھلا اس بے وفا کے سامنے
یار کا پیغام اس کو لے کے آنا تھا تبھی
ہم سراپا شوق تھے باد صبا کے سامنے
جو کبھی ملتا نہیں فیاض اس سے کیوں ملوں
مسئلہ یہ بھی تو ہے میری انا کے سامنے

ڈاکٹر فیاض احمد علیگ

ڈاکٹر وحید قریشی بطور محقق

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں