طالبان جنگ ختم اعلان 54

انخلا کی تاریخ میں توسیع نہیں ہو گی،طالبان

Spread the love

انخلا کی تاریخ میں

کابل، واشنگٹن (صرف اردو آن لائن نیوز) افغان طالبان کے ترجمان سہیل شاہین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں موجود غیرملکی فوجیوں کے انخلا کی تاریخ میں توسیع نہیں ہو گی۔برطانوی نشریاتی ادارے سکائی نیوز سے بات چیت میں ترجمان طالبان سہیل شاہین نے کہا کہ یہ ڈیڈلائن نہیں بلکہ ریڈلائن ہے اور اگر اس میں توسیع کی جاتی ہے تو اسے قبضے میں توسیع سمجھا جائے گا۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے سہیل شاہین نے کہا کہ ایسی کسی بھی توسیع کی صورت میں بداعتمادی کی فضا پیدا ہو گی جس کا ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔ کابل ایئرپورٹ پر موجود افغان باشندے اصل میں طالبان کے خوف سے نہیں بلکہ مغربی ممالک میں بہتر زندگی کے لیے افغانستان سے فرار کی کوشش میں ہیں۔

اس سے قبل امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا تھا کہ وہ افغانستان سے 31 اگست کی مقررہ ڈیڈ لائن تک انخلا کے منصوبے کو حتمی شکل دے رہے ہیں لیکن اگر ضرورت پڑی تو انخلا کی ڈیڈ لائن میں توسیع بھی کر سکتے ہیں۔وائٹ ہاؤس سے ٹیلی ویژن پر اپنے خطاب میں جو بائیڈن نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ افغانستان سے انخلا کی ڈیڈ لائن میں توسیع نہیں کریں گے لیکن اگر غیر ملکی رہنماؤں کی طرف سے ڈیڈ لائن میں توسیع کی درخواست کی گئی تو اس کے لیے ہم دیکھیں گے کہ ہم کیا کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان سے امریکیوں اور افغان اتحادیوں کا انخلا مشکل ہے اور انہوں نے اس انخلا کے حوالے سے پروگرام میں بعض تبدیلیاں کی ہیں جن کا مقصد انخلا کے دوران لوگوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر امریکی شہری کی واپسی ہمارا مشن ہے، ہماری پہلی ترجیح امریکیوں کو کابل سے جلد سے جلد نکالنا ہے۔جوبائیڈن نے کہا کہ افغانستان سے انخلا کے لیے بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ انخلا کے لیے مدد کرنے والے دنیا کے تمام افراد کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ 31 اگست کے بعد رکنے کے لیے بات چیت جاری ہے۔

تاہم امید ہے کہ 31 اگست کے بعد افغانستان میں رکنے کی ضروت نہیں پڑے گی دوسری طرف افغانستان کے صوبے پنج شیر میں حالات انتہائی کشیدہ ہوگئے جس کی وجہ طالبان اور شمالی اتحاد میں ہونے والی جھڑپیں ہیں ،جس کے باعث تین طالبان جنگجوؤں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں،۔خبر ایجنسی کا کہنا تھا کہ کہ افغانستان کے صوبے پنج شیر میں بھی حالات انتہائی کشیدہ ہوچکے ہیں۔

واضح رہے کہ غیر ملکی افواج کے نکلتے ہی محض دو ہفتے کے مختصر عرصے میں پورے افغانستان پر اپنا کنٹرول قائم کرلیا ہے تاہم ابھی تک حکومت کی تشکیل کو حتمی شکل نہیں دی ہے۔احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود نے کہا ہے کہ طالبان سے لڑنے کے لیے تیار ہیں،

کسی مطلق العنان حکومت کو تسلیم نہیں کریں گے، احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود نے خبر ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ طالبان سے لڑنے کے لیے تیار ہیں، انہوں نے طالبان پر واضح کر دیا ہے آگے بڑھنے کاراستہ مذاکرات ہی ہیں، وہ نہیں چاہتے کہ جنگ چھڑ جائے لیکن کسی مطلق العنان حکومت کو تسلیم نہیں کریں گے۔

دوسری طرف افغانستان سے باہر نکلنے کے لیے ہزاروں افغان اور غیر ملکی شہریوں کا کابل ہوائی اڈے پر ہجوم ہے۔ اس دوران مغربی ملکوں کی سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے ایک افغان گارڈ چل بسا ہے۔جرمن فوج نے بتایا کہ یہ لڑائی افغان سکیورٹی فورسز اور نامعلوم حملہ آوروں کے درمیان ہوئی۔ جرمن فورسز نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ ایک افغان سکیورٹی افسر ہلاک ہو گیا جبکہ دیگر تین زخمی ہو گئے۔

اس کارروائی میں امریکی اور جرمن فورسز بھی شامل تھیں۔ دریں اثنابرطانوی وزیراعظم بورس جانسن امریکی صدر جو بایئڈن پر اپنے انخلا کی ڈیڈ لائن میں توسیع کرنے کے لیے دباو ڈالیں گے تاکہ افغانستان سے لوگوں کو نکالنے کے لیے پروازوں کا سلسلہ جاری رہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق امریکہ کا اپنی تمام افواج 31 اگست تک نکالنے کا منصوبہ ہے تاہم منگل کو منعقد ہونے والے جی سیون اجلاس میں توقع ہے کہ برطانوی وزیراعظم امریکی صدر کو قائل کرنے کی کوشش کریں گے کہ اس ڈیڈ لائن کے بعد بھی لوگوں کو نکالنے کا کام جاری رہنا چاہیے۔

اْدھر ایران نے افغان طالبان کی درخواست پر افغانستان کو پٹرلیم مصنوعات کی ترسیل بحال کردی، افغانستان میں بحران کے باعث تیل کی قلت پیدا ہوگئی تھی، ایران نے پٹرولیم مصنوعات پر محصولات میں 70فیصد تک کمی کردی ہے۔

طالبان نے غیرملکی صحافیوں کو قندھار میں کوریج سے منع کردیا گیا ہے۔ انفارمیشن آفیسر مولوی محمود نے بتایاکہ قندھار میں حالات کے پیش نظر غیرملکی صحافی اجازت کے بغیر کام نہ کریں، جبکہ مقامی صحافی بھی اطلاع دیئے بغیر شہر میں کوریج نہیں کرسکیں گے۔

انفارمیشن آفیسر نے بتایا کہ احکامات کی خلاف ورزی پر قانونی کارروائی کی جائے گی، اس متعلق غیرملکی صحافیوں کو انفارمیشن اینڈ کلچر دفتر کی جانب سے بھی ہدایت جاری کردی گئی ہے۔

طالبان نے حاجی محمد ادریس کوملک کے مرکزی بینک، دا افغانستان بینک کا قائم مقام سربراہ مقررکیا ہے۔طالبان ترجمان ذبیح اﷲ مجاہد نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پرلکھا کہ طالبان نے بینکنگ طریقہ کار کوسیدھ میں رکھنے،ترتیب دینے او لوگوں کے تجارتی مسائل اور مشکلات کو حل کرنے کی کوششوں کے تحت حاجی محمد ادریس کو مرکزی بینک کا قائم مقام جنرل ڈائریکٹر مقرر کیا ہے۔

ملک کے مرکزی بینک کے سربراہ کا تقررایسے وقت میں کیا گیا ہے جب افغان حکومت کے زیر انتظام چلنے والے اوردیگر نجی بینک 15 اگست سے بند ہیں جب طالبان نے دارالحکومت کابل کا کنٹرول سنبھالا اور صدر محمد اشرف غنی ملک چھوڑ گئے تھے۔

انخلا کی تاریخ میں


ڈاکٹر وحید قریشی بطور محقق

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں