افغانستان کے اکلوتے یہودی 68

افغانستان کے اکلوتے یہودی کا ملک نہ چھوڑنے کا فیصلہ

Spread the love

افغانستان کے اکلوتے یہودی

کابل(صرف اردو آن لائن نیوز) افغانستان کے بیشتر حصے پر طالبان کے قبضے کے بعد افغانستان کے آخری یہودی نے ملک چھوڑنیکا اپنا ارادہ بدل لیا ہے۔ میں افغانستان چھوڑ کر اور کہیں نہیں جا رہا ہوں۔ گذشتہ جون میں اس نے اسرائیل جانے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔

میڈیارپورٹس کے مطابق افغانستان کے اکلوتے یہودی زیبلوان سیمنٹوکا کہنا تھا کہ اس کی بیوی اور بیٹی 23 سال سے اسرائیل میں مقیم ہیں۔ وہ ان سے ملنا چاہتا تھا مگر اب وہ بیرون ملک نہیں جا رہا۔ اگر وہ بھی چلا گیا کہ تو افغانستان میں یہودی عبادت کو سنھبالنے والا کوئی نہیں ہوگا۔

انٹرویو میں اس نے کہا کہ اگر میں افغانستان سے چلا گیا تو یہودی عبادت گاہ کو سنبھالنے والا کوئی نہیں ہوگا۔ اس کا اشارہ افغانستان میں ایک یہودی معبد کی طرف تھا جس کی نگرانی زیبلوان سیمنٹوکے پاس ہے۔

اکسٹھ سالہ 61 افغانستان کے صوبہ ہرات میں پیدا ہوا۔ وہ 20 سال کی عمر میں کابل چلا گیا تھا جہاں اس کے پاس قالین ، زیورات اور دستکاری کی دکان تھی۔ وہ عبرانی نہیں بولتا۔ 2005 میں ایک دوسرے یہودی اسحاق لیوی کی موت کے بعد وہ افغانستان کا اکلوتا یہودی بن گیا۔

افغانستان کے اکلوتے یہودی

ڈاکٹر وحید قریشی بطور محقق

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں